🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
72. بَابُ الْقَزَعِ:
باب: قزع یعنی کچھ سر منڈانا کچھ بال رکھنے کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5920
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَخْلَدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ حَفْصٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ نَافِعٍ، أَخْبَرَهُ عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَنْهَى عَنِ الْقَزَعِ" قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: قُلْتُ: وَمَا الْقَزَعُ؟ فَأَشَارَ لَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ قَالَ:" إِذَا حَلَقَ الصَّبِيَّ وَتَرَكَ هَا هُنَا شَعَرَةً وَهَهُنَا وَهَهُنَا، فَأَشَارَ لَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ إِلَى نَاصِيَتِهِ وَجَانِبَيْ رَأْسِهِ" قِيلَ لِعُبَيْدِ اللَّهِ: فَالْجَارِيَةُ وَالْغُلَامُ، قَالَ: لَا أَدْرِي، هَكَذَا قَالَ: الصَّبِيُّ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: وَعَاوَدْتُهُ، فَقَالَ:" أَمَّا الْقُصَّةُ وَالْقَفَا لِلْغُلَامِ فَلَا بَأْسَ بِهِمَا، وَلَكِنَّ الْقَزَعَ أَنْ يُتْرَكَ بِنَاصِيَتِهِ شَعَرٌ وَلَيْسَ فِي رَأْسِهِ غَيْرُهُ، وَكَذَلِكَ شَقُّ رَأْسِهِ هَذَا وَهَذَا".
مجھ سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا کہ مجھے مخلد بن یزید نے خبر دی، کہا کہ مجھے ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے عبیداللہ بن حفص نے خبر دی، انہیں عمرو بن نافع نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام نافع نے کہ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ نے «قزع‏.‏» سے منع فرمایا، عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں نے نافع سے پوچھا کہ «قزع‏.‏» کیا ہے؟ پھر عبیداللہ نے ہمیں اشارہ سے بتایا کہ نافع نے کہا کہ بچہ کا سر منڈاتے وقت کچھ یہاں چھوڑ دے اور کچھ بال وہاں چھوڑ دے۔ (تو اسے «قزع‏.‏» کہتے ہیں) اسے عبیداللہ نے پیشانی اور سر کے دونوں کناروں کی طرف اشارہ کر کے ہمیں اس کی صورت بتائی۔ عبیداللہ نے اس کی تفسیر یوں بیان کی یعنی پیشانی پر کچھ بال چھوڑ دیئے جائیں اور سر کے دونوں کونوں پر کچھ بال چھوڑ دیئے جائیں۔ پھر عبیداللہ سے پوچھا گیا کہ اس میں لڑکا اور لڑکی دونوں کا ایک ہی حکم ہے؟ فرمایا کہ مجھے معلوم نہیں۔ نافع نے صرف لڑکے کا لفظ کہا تھا۔ عبیداللہ نے بیان کیا کہ میں نے عمرو بن نافع سے دوبارہ اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ لڑکے کی کنپٹی یا گدی پر چوٹی کے بال اگر چھوڑ دیئے جائیں تو کوئی حرج نہیں ہے لیکن «قزع‏.‏» یہ ہے کہ پیشانی پر بال چھوڑ دیئے جائیں اور باقی سب منڈوائے جائیں اسی طرح سر کے اس جانب میں اور اس جانب میں۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 5920]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ «الْقَزَعِ» (سر کے کچھ بال مونڈنے اور کچھ چھوڑنے) سے منع فرمایا کرتے تھے۔ (راویِ حدیث) عبید اللہ کہتے ہیں: میں نے پوچھا: «الْقَزَعُ» کیا ہے؟ پھر عبید اللہ نے ہمیں اشارے سے بتایا کہ بچے کا سر منڈواتے وقت کچھ بال یہاں چھوڑ دیے جائیں اور کچھ بال وہاں چھوڑ دیے جائیں۔ عبید اللہ نے اپنی پیشانی اور اپنے سر کے دونوں کناروں کی طرف اشارہ کر کے ہمیں اس کی صورت سے آگاہ کیا۔ عبید اللہ سے پوچھا گیا: کیا اس میں لڑکے اور لڑکی دونوں کا ایک ہی حکم ہے؟ فرمایا: مجھے معلوم نہیں، عمر بن نافع رحمہ اللہ نے صرف بچے کا لفظ کہا تھا۔ عبید اللہ نے کہا: میں نے عمر بن نافع رحمہ اللہ سے دوبارہ اس کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ لڑکے کی پیشانی اور گدی کے بال مونڈنے میں کوئی حرج نہیں، لیکن «الْقَزَعُ» یہ ہے کہ پیشانی کے بال چھوڑ دیے جائیں اور اس کے سوا سر پر کوئی بال نہ ہو، اسی طرح سر کے اس طرف اور اس طرف (یعنی دائیں بائیں) کے بال چھوڑ دیے جائیں۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 5920]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥عمر بن نافع القرشي، أبو حفص
Newعمر بن نافع القرشي ← نافع مولى ابن عمر
ثقة
👤←👥عبيد الله بن عمر العدوي، أبو عثمان
Newعبيد الله بن عمر العدوي ← عمر بن نافع القرشي
ثقة ثبت
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← عبيد الله بن عمر العدوي
ثقة
👤←👥مخلد بن يزيد الحراني، أبو خالد، أبو خداش، أبو الحسن، أبو يحيى، أبو الجيش
Newمخلد بن يزيد الحراني ← ابن جريج المكي
ثقة
👤←👥محمد بن سلام البيكندي، أبو عبد الله
Newمحمد بن سلام البيكندي ← مخلد بن يزيد الحراني
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5921
نهى عن القزع
صحيح البخاري
5920
أما القصة والقفا للغلام فلا بأس بهما ولكن القزع أن يترك بناصيته شعر وليس في رأسه غيره وكذلك شق رأسه هذا وهذا
صحيح مسلم
5559
نهى عن القزع
سنن أبي داود
4194
القزع وهو أن يحلق رأس الصبي فتترك له ذؤابة
سنن أبي داود
4193
نهى رسول الله عن القزع
سنن النسائى الصغرى
5231
نهى عن القزع
سنن النسائى الصغرى
5233
نهى عن القزع
سنن النسائى الصغرى
5232
نهى رسول الله عن القزع
سنن النسائى الصغرى
5231
ينهى عن القزع
سنن النسائى الصغرى
5054
نهى رسول الله عن القزع
سنن النسائى الصغرى
5053
نهاني الله عن القزع
سنن ابن ماجه
3637
نهى رسول الله عن القزع قال وما القزع قال أن يحلق من رأس الصبي مكان ويترك مكان
سنن ابن ماجه
3638
نهى رسول الله عن القزع
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5920 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5920
حدیث حاشیہ:
بال چھوڑنے کو قزع کہتے ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5920]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4193
چوٹی (زلف) رکھنا کیسا ہے؟
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «قزع» سے منع فرمایا ہے، اور «قزع» یہ ہے کہ بچے کا سر مونڈ دیا جائے اور اس کے کچھ بال چھوڑ دئیے جائیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4193]
فوائد ومسائل:
ہمارے ہاں آج کل برگر کٹ کے نام سے جو آدھا سر مونڈ دیا جا تا ہے، اس حدیث کی روشنی میں جائز نہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4193]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4194
چوٹی (زلف) رکھنا کیسا ہے؟
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «قزع» سے منع فرمایا ہے، اور «قزع» یہ ہے کہ بچے کا سر مونڈ دیا جائے اور اس کی چوٹی چھوڑ دی جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4194]
فوائد ومسائل:
اہلِ بدعت میں یہ مروج ہے کہ وہ اپنے بعض پیروں اور بزرگوں کے نام سے کچھ بال نہیں کاٹتےایک لٹ باقی رکھتے ہیں تو ان کا یہ عمل حرام ہے، کیونکہ یہ نظر غیراللہ ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4194]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3638
قزع سے ممانعت کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «قزع» سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3638]
اردو حاشہ:
فوائد  و مسائل:

(1) (قزع)
کے لغوی معنی ہیں:
بادل کے متفرق ٹکڑے۔
حدیث میں اس کا مطلب وہى جو حضرت ابن عمر ؓ نے بیان فرمایا۔

(2)
اس سےممانعت کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ اہل کتاب کے احبار و رہبان اس طرح کرتے تھے۔
اور یہ وجہ بھی کہ یہ فاسق لوگوں کا طریقہ تھا۔

(3)
آج کل سر پر لمبے بال رکھ کر گردن سے صاف کر دئے جاتے ہیں۔
اور گردن سے بتدریج بڑے ہوتے جاتے ہیں۔
خاص طور پر فوجیوں اور پولیس والوں کے بال کاٹنے کا خاص انداز بھی اس سے ملتا جلتا ہے اس میں زیادہ حصے کے بال کاٹے جاتے ہیں۔
یہ طریقہ بھی قزع سے ایک لحاظ سے مشابہہ اور خلاف شریعت ہے اس لئے اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔

(4)
کسی بیماری یا دوسرے عذر کی وجہ سے اگر سر کے ایک حصے کے بال اتارنے پڑیں تو جائز ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3638]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5053
قزع یعنی کچھ بال رکھنا اور کچھ منڈانا منع ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اللہ تعالیٰ نے «قزع» (سر کے کچھ بال منڈانے اور کچھ رکھ چھوڑنے) سے منع کیا ہے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5053]
اردو حاشہ:
یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ منکر ہے۔ محقق کتاب کا اسے بخاری و مسلم کی طرف منسوب کرنا درست نہیں کیونکہ بخاری ومسلم کا سیاق آئندہ روایت کے مطابق ہے۔ دیکھئے: (ذخیرۃ العقبیٰ شرح سنن النسائی:38؍13)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5053]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5054
قزع یعنی کچھ بال رکھنا اور کچھ منڈانا منع ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «قزع» (سر کے کچھ بال منڈانے اور کچھ رکھ چھوڑنے) سے منع فرمایا ہے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یحییٰ بن سعید اور محمد بن بشر کی حدیث زیادہ قرین صواب ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5054]
اردو حاشہ:
قزع سے مراد یہ ہے کہ سر کہیں سے مونڈ دیا جائے کہیں سے چھوڑ دیا جائے۔ منع کی وجہ حدیث نمبر5051 میں دیکھئے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5054]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5921
5921. حضرت ابن عمر ؓ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ''قزع' سے منع فرمایا تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5921]
حدیث حاشیہ:
(1)
ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچے کو دیکھا اس کے کچھ بال مونڈ دیے گئے تھے اور کچھ چھوڑے ہوئے تھے تو آپ نے انہیں اس سے منع فرمایا اور کہا:
اس کے سارے بال مونڈ دو یا سارے بال رکھو۔
(سنن أبي داود، الترجل، حدیث: 4195)
اس کی ممانعت اس لیے ہے کہ اہل کتاب کے احبار و رہبان اس طرح کرتے تھے اور یہ فاسق لوگوں کا طریقہ تھا، نیز اس انداز سے خلقت میں قباحت معلوم ہوتی ہے۔
(فتح الباري: 448/10) (2)
دور حاضر میں سر پر بال رکھ کر گردن سے صاف کر دیے جاتے ہیں پھر گردن کے اوپر سے بتدریج بڑے ہوتے جاتے ہیں، خاص طور پر فوجیوں اور پولیس والوں کے بال اس طرح کاٹے جاتے ہیں جسے فوجی کٹ کہا جاتا ہے۔
یہ طریقہ بھی قزع سے ملتا جلتا ہے، اس لیے اس انداز سے بھی بچنا چاہیے۔
آج کل "برگر کٹ" کے نام سے جو آدھا سر یا اس سے کم حصہ مونڈ دیا جاتا ہے وہ اس قزع کی زد میں آتا ہے۔
(3)
بہرحال مسلمانوں کو مشرکین اور کفار کی نقالی سے ہر حال میں بچنا چاہیے۔
ہمیں چاہیے کہ لباس اور حجامت میں اسلامی ثقافت کو رواج دیں اور اسے اختیار کریں۔
نوجوانانِ اسلام کو ایسی غلط روایات کے خلاف جہاد کرنا چاہیے، خاص طور پر ہپی ازم بال رکھنے کی اسلام میں قطعاً کوئی گنجائش نہیں۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5921]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5559
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قزع سے منع فرمایا، عبیداللہ نے نافع سے دریافت کیا، قزع کسے کہتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا، بچے کے سر کا بعض حصہ مونڈ دیا جائے اور بعض کو چھوڑ دیا جائے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5559]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
امام نووی نے لکھا ہے،
قَزَعِ کی صحیح تعریف یہی ہے،
جو نافع نے کی ہے،
اگرچہ بعض نے یہ کہا ہے کہ قزع متفرق مقامات سے بال مونڈنے کا نام ہے،
لیکن عبیداللہ سے بخاری شریف میں جو تعریف منقول ہے،
وہ یہی ہے کہ إذا حلق الصبي وترك ههنا شعرة وههنا وههنا،
جس کا معنی ہے پیشانی اور سر کے دونوں جوانب سے بال مونڈنا اور درمیان میں بال چھوڑ دینا،
نیز عبیداللہ نے نافع سے نقل کیا ہے،
لڑکے کے لیے کنپٹی اور گدی کے بال منڈوانے میں کوئی حرج نہیں ہے،
امام نووی نے لکھا ہے،
علماء کا اس پر اجماع ہے،
قزع اگر مختلف مقامات سے ہو تو مکروہ تنزیہی ہے،
الا یہ کہ علاج وغیرہ کے لیے ہو،
شوافع کے نزدیک مرد اور عورت دونوں کے لیے بلا قید مکروہ ہے اور امام مالک کے نزدیک لڑکے اور لڑکی کے لیے بھی بلا قید مکروہ ہے،
جبکہ بعض مالکیوں کا خیال ہے،
کنپٹی اور گدی کے بال لڑکے کے لیے منڈوانا مکروہ نہیں ہے،
اور قزع کے مکروہ ہونے کی وجہ خلقت کو بگاڑنا اور برے لوگوں کی روش اختیار کرنا ہے اور سنن ابی داود کی ایک روایت کی رو سے یہ یہودیوں کی شکل اور ہئیت ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5559]

Sahih Bukhari Hadith 5920 in Urdu