صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
83. باب الوصل فى الشعر:
باب: بالوں میں الگ سے بناوٹی چٹیا لگانا اور دوسرے بال جوڑنا۔
حدیث نمبر: 5932
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ عَامَ حَجَّ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُولُ،" وَتَنَاوَلَ قُصَّةً مِنْ شَعَرٍ كَانَتْ بِيَدِ حَرَسِيٍّ: أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذِهِ، وَيَقُولُ: إِنَّمَا هَلَكَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ اتَّخَذَ هَذِهِ نِسَاؤُهُمْ".
ہم سے اسماعیل بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف اور انہوں نے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے حج کے سال میں سنا وہ مدینہ منورہ میں منبر پر یہ فرما رہے تھے انہوں نے بالوں کی ایک چوٹی جو ان کے چوکیدار کے ہاتھ میں تھی لے کر کہا کہاں ہیں تمہارے علماء میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ اس طرح بال بنانے سے منع فرما رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ بنی اسرائیل اس وقت تباہ ہو گئے جب ان کی عورتوں نے اس طرح اپنے بال سنوارنے شروع کر دیئے۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 5932]
حمید بن عبدالرحمن سے روایت ہے، انہوں نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو جس سال انہوں نے حج کیا تھا منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا جبکہ انہوں نے اپنے محافظ کے ہاتھ سے بالوں کا گچھا پکڑا ہوا تھا: ”تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس جیسے بالوں سے منع کرتے سنا ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”بنی اسرائیل اس وقت ہلاک ہوئے جب ان کی عورتوں نے ان کا استعمال شروع کر دیا تھا۔“ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 5932]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥معاوية بن أبي سفيان الأموي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥حميد بن عبد الرحمن الزهري، أبو عثمان، أبو إبراهيم، أبو عبد الرحمن حميد بن عبد الرحمن الزهري ← معاوية بن أبي سفيان الأموي | ثقة | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← حميد بن عبد الرحمن الزهري | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله مالك بن أنس الأصبحي ← محمد بن شهاب الزهري | رأس المتقنين وكبير المتثبتين | |
👤←👥إسماعيل بن أبي أويس الأصبحي، أبو عبد الله إسماعيل بن أبي أويس الأصبحي ← مالك بن أنس الأصبحي | صدوق يخطئ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
5932
| هلكت بنو إسرائيل حين اتخذ هذه نساؤهم |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5932 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5932
حدیث حاشیہ:
(1)
ایک روایت میں ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
میں نے بالوں کا یہ گچھا اپنے اہل خانہ کے پاس دیکھا، انہوں نے مجھے بتایا کہ عورتیں اپنے بالوں کو لمبا ظاہر کرنے کے لیے اسے استعمال کرتی ہیں۔
(المعجم الکبیر للطبراني: 322/19، رقم: 732)
ایک دوسری روایت میں ہے کہ میرے خیال کے مطابق یہ کام یہودی کرتے ہیں۔
(فتح الباري: 460/10) (2)
اس کا مطلب یہ ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے اہل خانہ اس کام سے بالکل ناآشنا تھے۔
بنی اسرائیل کی عورتوں کے مصنوعی بال استعمال کرنے اور مردوں کے اس پر راضی ہونے کی وجہ سے وہ ہلاک ہوئے۔
بہرحال مصنوعی بالوں کی پیوندکاری کرنا حرام ہے۔
(3)
بالوں کو سنبھالنے کے لیے عورتیں پراندہ استعمال کرتی ہیں، یہ ممانعت میں شامل نہیں۔
اگر وہ اس طرح لگایا جائے کہ بالوں کا حصہ معلوم ہو اور اصلی بالوں سے امتیاز نہ ہو سکے تو اس کا استعمال محل نظر ہے۔
واللہ أعلم
(1)
ایک روایت میں ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
میں نے بالوں کا یہ گچھا اپنے اہل خانہ کے پاس دیکھا، انہوں نے مجھے بتایا کہ عورتیں اپنے بالوں کو لمبا ظاہر کرنے کے لیے اسے استعمال کرتی ہیں۔
(المعجم الکبیر للطبراني: 322/19، رقم: 732)
ایک دوسری روایت میں ہے کہ میرے خیال کے مطابق یہ کام یہودی کرتے ہیں۔
(فتح الباري: 460/10) (2)
اس کا مطلب یہ ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے اہل خانہ اس کام سے بالکل ناآشنا تھے۔
بنی اسرائیل کی عورتوں کے مصنوعی بال استعمال کرنے اور مردوں کے اس پر راضی ہونے کی وجہ سے وہ ہلاک ہوئے۔
بہرحال مصنوعی بالوں کی پیوندکاری کرنا حرام ہے۔
(3)
بالوں کو سنبھالنے کے لیے عورتیں پراندہ استعمال کرتی ہیں، یہ ممانعت میں شامل نہیں۔
اگر وہ اس طرح لگایا جائے کہ بالوں کا حصہ معلوم ہو اور اصلی بالوں سے امتیاز نہ ہو سکے تو اس کا استعمال محل نظر ہے۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5932]
Sahih Bukhari Hadith 5932 in Urdu
حميد بن عبد الرحمن الزهري ← معاوية بن أبي سفيان الأموي