🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. باب رحمة الولد وتقبيله ومعانقته:
باب: بچے کے ساتھ رحم و شفقت کرنا، اسے بوسہ دینا اور گلے سے لگانا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5999
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيٌ، فَإِذَا امْرَأَةٌ مِنَ السَّبْيِ قَدْ تَحْلُبُ ثَدْيَهَا تَسْقِي، إِذَا وَجَدَتْ صَبِيًّا فِي السَّبْيِ أَخَذَتْهُ فَأَلْصَقَتْهُ بِبَطْنِهَا وَأَرْضَعَتْهُ، فَقَالَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتُرَوْنَ هَذِهِ طَارِحَةً وَلَدَهَا فِي النَّارِ" قُلْنَا: لَا، وَهِيَ تَقْدِرُ عَلَى أَنْ لَا تَطْرَحَهُ فَقَالَ:" لَلَّهُ أَرْحَمُ بِعِبَادِهِ مِنْ هَذِهِ بِوَلَدِهَا".
ہم سے ابن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوغسان نے، کہا کہ مجھ سے زید بن اسلم نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے قیدیوں میں ایک عورت تھی جس کا پستان دودھ سے بھرا ہوا تھا اور وہ دوڑ رہی تھی، اتنے میں ایک بچہ اس کو قیدیوں میں ملا اس نے جھٹ اپنے پیٹ سے لگا لیا اور اس کو دودھ پلانے لگی۔ ہم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم خیال کر سکتے ہو کہ یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں ڈال سکتی ہے ہم نے عرض کیا کہ نہیں جب تک اس کو قدرت ہو گی یہ اپنے بچے کو آگ میں نہیں پھینک سکتی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اللہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے جتنا یہ عورت اپنے بچہ پر مہربان ہو سکتی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 5999]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے، قیدیوں میں ایک عورت تھی جس کی چھاتی دودھ سے بھری ہوئی تھی اور وہ ادھر ادھر دوڑ رہی تھی، اس دوران قیدیوں میں اسے ایک بچہ نظر آیا، اس نے جھٹ سے اس بچے کو اپنی چھاتی سے لگا لیا اور اسے دودھ پلانے لگی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ منظر دیکھ کر ہم سے فرمایا: تم کیا خیال کرتے ہو کہ یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں پھینک دے گی؟ ہم نے کہا: نہیں، جب تک اس کو قدرت ہوگی یہ اپنے بچے کو آگ میں نہیں پھینک سکتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے جتنا یہ عورت اپنے بچے پر مہربان ہوسکتی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 5999]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفصصحابي
👤←👥أسلم العدوي، أبو خالد، أبو زيد
Newأسلم العدوي ← عمر بن الخطاب العدوي
ثقة مخضرم
👤←👥زيد بن أسلم القرشي، أبو خالد، أبو أسامة، أبو عبد الله
Newزيد بن أسلم القرشي ← أسلم العدوي
ثقة
👤←👥محمد بن مطرف الليثي، أبو غسان
Newمحمد بن مطرف الليثي ← زيد بن أسلم القرشي
ثقة
👤←👥سعيد بن أبي مريم الجمحي، أبو محمد
Newسعيد بن أبي مريم الجمحي ← محمد بن مطرف الليثي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5999
لله أرحم بعباده من هذه بولدها
صحيح مسلم
6978
لله أرحم بعباده من هذه بولدها
المعجم الصغير للطبراني
665
الله أرحم بعباده من هذه المرأة بولدها
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5999 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5999
حدیث حاشیہ:
غالباً یہ عورت کاگم شدہ بچہ تھا جو اسے مل گیا اور اس کو اس نے اس محبت کے ساتھ پیٹ سے چمٹالیا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5999]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5999
حدیث حاشیہ:
(1)
ایک روایت میں وضاحت ہے کہ اس عورت کا بچہ گم ہوچکا تھا،اس لیے جب بھی کوئی بچہ دیکھتی اسے چھاتی سے لگا کر دودھ پلاتی،آخر اسے اپنا بچہ مل گیا تو اسے چھاتی سے لگا کر بہت خوش ہوئی۔
اس وضاحت سے معلوم ہوتا ہے کہ دودھ جمع ہونے سے اس کی چھاتی بوجھل ہوچکی تھی،جب بھی کوئی بچہ دیکھتی تو اپنی چھاتی کو ہلکا کرنے کے لیے اسے دودھ پلانا شروع کردیتی۔
(مسند احمد: 3/104، وفتح الباري: 530/10) (2)
اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے بندوں پر رحم کرے گا اور انھیں جہنم میں نہیں ڈالے گا، البتہ جو لوگ برے کام کر کے جہنم کے مستحق ہوں گے، انھیں ضرور جہنم کے حوالے کیا جائے گا، گویا وہ خود اپنے آپ کو دوزخ کے حوالے کرتے ہیں۔
(3)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
حدیث میں لفظ "عباد" اگرچہ عام ہے لیکن اس سے مراد اہل ایمان ہیں جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
میری رحمت ہر چیز سے وسیع ہے اور اسے میں نے ان لوگوں کے لیے مقدر کیا ہے جو تقویٰ شعار اور پرہیز گار ہیںَ" (الأعراف7: 156)
بہرحال انسان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول کے لیے ہر وقت کوشش کرتے رہنا چاہیے۔
(فتح الباري: 530/10)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5999]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6978
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ صورت حال یہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قیدی لائے گئے، چنانچہ قیدیوں میں سے ایک عورت کچھ تلاش کر رہی تھی کہ اچانک قیدیوں میں سے اسے ایک بچہ ملا اس نے اس کو پکڑ کر، اپنے پیٹ سے چمٹا لیا اور اسے دودھ پلایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا:" کیا تمھارا خیال ہے، یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں پھینک دے گی؟"ہم نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! جب تک اسے نہ ڈالنے کا... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6978]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے مقصود،
اللہ کی رحمت کو والدہ کی رحمت سے تشبیہ دینا مقصود نہیں ہے،
محض اس کی محبت و رحمت کی کثرت اور وسعت بیان کرنا مطلوب ہے کہ وہ اپنے مومن بندوں کو نظر انداز نہیں فرمائے گا،
اگر مومن بندے دوزخ میں کچھ وقت کے لیے جائیں گے تو یہ ان کی بد اعمالیوں اور برائیوں کا نتیجہ ہوگا اور اس کی رحمت کے نتیجے میں دوزخ سے نکالے جائیں گے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6978]

Sahih Bukhari Hadith 5999 in Urdu