🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب من بلغ ستين سنة فقد أعذر الله إليه فى العمر:
باب: جو شخص ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ گیا تو پھر اللہ تعالیٰ نے عمر کے بارے میں اس کے لیے عذر کا کوئی موقع باقی نہیں رکھا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q6419
لِقَوْلِهِ أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَا يَتَذَكَّرُ فِيهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَجَاءَكُمُ النَّذِيرُ سورة فاطر آية 37 يَعْنِي الشَّيْبَ.
‏‏‏‏ کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے «‏‏‏‏أولم نعمركم ما يتذكر فيه من تذكر وجاءكم النذير‏» کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہیں دی تھی کہ جو شخص اس میں نصیحت حاصل کرنا چاہتا کر لیتا اور تمہارے پاس ڈرانے والا آیا، پھر بھی تم نے ہوش سے کام نہیں لیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: Q6419]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6419
حَدَّثَنِي عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ مُطَهَّرٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ مَعْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْغِفَارِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَعْذَرَ اللَّهُ إِلَى امْرِئٍ أَخَّرَ أَجَلَهُ حَتَّى بَلَّغَهُ سِتِّينَ سَنَةً"، تَابَعَهُ أَبُو حَازِمٍ، وَابْنُ عَجْلَانَ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ.
ہم سے عبدالسلام بن مطہر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عمر بن علی بن عطاء نے بیان کیا، ان سے معن بن محمد غفاری نے، ان سے سعید بن ابی سعید مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس آدمی کے عذر کے سلسلے میں حجت تمام کر دی جس کی موت کو مؤخر کیا یہاں تک کہ وہ ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ گیا۔ اس روایت کی متابعت ابوحازم اور ابن عجلان نے مقبری سے کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6419]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سعيد بن أبي سعيد المقبري، أبو سعيد، أبو سعدثقة
👤←👥محمد بن عجلان القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن عجلان القرشي ← سعيد بن أبي سعيد المقبري
صدوق حسن الحديث
👤←👥سلمة بن دينار الأعرج، أبو حازم
Newسلمة بن دينار الأعرج ← محمد بن عجلان القرشي
ثقة
👤←👥أبو هريرة الدوسي
Newأبو هريرة الدوسي ← سلمة بن دينار الأعرج
صحابي
👤←👥سعيد بن أبي سعيد المقبري، أبو سعيد، أبو سعد
Newسعيد بن أبي سعيد المقبري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥معن بن محمد الغفاري
Newمعن بن محمد الغفاري ← سعيد بن أبي سعيد المقبري
صدوق حسن الحديث
👤←👥عمر بن علي المقدمي، أبو حفص، أبو جعفر
Newعمر بن علي المقدمي ← معن بن محمد الغفاري
ثقة وكان يدلس كثيرا
👤←👥عبد السلام بن مطهر الأزدي، أبو ظفر
Newعبد السلام بن مطهر الأزدي ← عمر بن علي المقدمي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6419
أعذر الله إلى امرئ أخر أجله حتى بلغه ستين سنة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6419 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6419
حدیث حاشیہ:
یا اللہ! میں ستر سال کا پہنچ رہا ہوں، یا اللہ! موت کے بعد مجھ کو ذلت وخواری سے بچائیو اور میرے سارے ہمدردان کرام کو بھی۔
آمین یارب العالمین۔
(راز)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6419]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6419
حدیث حاشیہ:
انسانی عمر کے چار حصے ہیں:
٭ سن طفولیت، جب تک وہ بالغ نہیں ہوتا۔
٭ سن شباب، جب وہ جوان ہوتا ہے۔
٭ سن کہولت، جب وہ ساٹھ برس کا ہو جائے۔
٭ سن شیخوخت، جب اس سے اوپر چلا جائے۔
اس عمر میں انسان کی قوت کمزور پڑ جاتی ہے اور وہ انحطاط کا شکار ہو جاتا ہے۔
موت بھی اس کے سر پر منڈلانے لگتی ہے۔
جب انسان ساٹھ برس کا ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام عذر مسترد کر دیتا ہے۔
انسان کا اس وقت یہ عذر قبول نہیں کیا جائے گا کہ اسے توبہ و استغفار کے لیے تھوڑی عمر ملی ہے کیونکہ سن بلوغ سے ساٹھ سال تک کافی وقت ہے جس میں انسان سوچ بچار کر کے صحیح راستہ اختیار کر سکتا ہے۔
ایک آرزو٭ اے اللہ! میری اہلیہ کی وفات کے بعد میرا دل دنیا اور اہل دنیا سے اچاٹ ہو چکا ہے۔
اس وقت میری عمر ساٹھ سال سے دو سال کم ہے۔
میری خواہش ہے کہ عمر نبوت تریسٹھ سال سے پہلے تفسیر قرآن اور صحیحین کا ترجمہ اور فوائد مکمل ہو جائیں۔
میری اس خواہش کو پورا کر کے اپنے حضور میرا صدقۂ جاریہ قبول فرما۔
٭ اے اللہ! یہ بھی آرزو ہے کہ مرنے سے پہلے مجھے اپنی رحمت کے علاوہ کسی کا محتاج نہ کر۔
موت کے بعد بھی مجھے ذلت و رسوائی سے محفوظ رکھنا۔
٭ میری یہ بھی تمنا ہے کہ قیامت کے دن مجھے، میرے بیوی بچوں، والدین، بہن بھائیوں اور دوست احباب سمیت جنت الفدوس میں جگہ عطا فرما۔
آمین یا رب العالمین
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6419]