🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب ما يتقى من فتنة المال:
باب: مال کے فتنے سے ڈرتے رہنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6439
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيًا مِنْ ذَهَبٍ أَحَبَّ أَنْ يَكُونَ لَهُ وَادِيَانِ، وَلَنْ يَمْلَأَ فَاهُ إِلَّا التُّرَابُ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ".
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے صالح نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے کہ مجھے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر انسان کے پاس سونے کی ایک وادی ہو تو وہ چاہے گا کہ دو ہو جائیں اور اس کا منہ قبر کی مٹی کے سوا اور کوئی چیز نہیں بھر سکتی اور اللہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے جو توبہ کرے۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6439]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← أنس بن مالك الأنصاري
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥صالح بن كيسان الدوسي، أبو محمد، أبو الحارث
Newصالح بن كيسان الدوسي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة ثبت
👤←👥إبراهيم بن سعد الزهري، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن سعد الزهري ← صالح بن كيسان الدوسي
ثقة حجة
👤←👥عبد العزيز بن عبد الله الأويسي، أبو القاسم
Newعبد العزيز بن عبد الله الأويسي ← إبراهيم بن سعد الزهري
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6439
لو أن لابن آدم واديا من ذهب أحب أن يكون له واديان لن يملأ فاه إلا التراب ويتوب الله على من تاب
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6439 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6439
حدیث حاشیہ:
(1)
ان احادیث میں مال و دولت کے متعلق انسان کی حرص بیان کی گئی ہے کہ دنیا سمیٹنے کی حرص عام انسانوں کی گویا فطرت ہے۔
اگر دولت سے ان کا گھر بھرا ہوا ہو، جنگل کے جنگل اور میدان کے میدان بھرے پڑے ہوں تب بھی ان کا دل نہیں بھرتا اور وہ اس میں مزید اضافہ چاہتے ہیں۔
زندگی کی آخری سانس تک ان کی ہوس کا یہی حال رہتا ہے۔
بس قبر میں جا کر ہی اس بھوک سے انہیں چھٹکارا ملتا ہے، البتہ جو بندے دنیا اور دنیا کی دولت کے بجائے اللہ تعالیٰ کی طرف اپنے دل کا رخ پھیر لیں اور اس سے تعلق جوڑ لیں، ان پر اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت ہوتی ہے۔
انہیں اللہ تعالیٰ اس دنیا ہی میں اطمینان اور غنائے نفس نصیب فرما دیتا ہے، پھر یہ دنیوی زندگی بڑے مزے اور سکون سے گزرتی ہے، ایک دوسری حدیث میں اس کی مزید وضاحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جس شخص کی نیت طلب آخرت ہو، اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے بے نیازی اس کے دل کو نصیب فرما دے گا اور اس کے بگڑے ہوئے خراب حالات کو خود بخود درست کر دے گا، پھر دنیا اس کے پاس خود بخود ذلیل و خوار ہو کر آئے گی۔
اور جس شخص کی نیت طلب دنیا ہو، اللہ تعالیٰ محتاجی کے آثار اس کی آنکھوں کے درمیان نمایاں کر دے گا اور اس کے حالات مزید خراب کر دے گا، پھر دنیا اسے صرف اسی قدر ملے گی جو پہلے سے مقدر ہو چکی ہو گی۔
' (مسند أحمد: 183/5) (2)
بہرحال ان احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دنیا کے فتنے سے آگاہ کرتے ہوئے اس سے دور رہنے کی تلقین فرمائی ہے۔
واللہ المستعان
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6439]