صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. باب حجبت النار بالشهوات:
باب: دوزخ کو خواہشات نفسانی سے ڈھک دیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 6487
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" حُجِبَتِ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ، وَحُجِبَتِ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ".
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دوزخ خواہشات نفسانی سے ڈھک دی گئی ہے اور جنت مشکلات اور دشواریوں سے ڈھکی ہوئی ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6487]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دوزخ کے ارد گرد نفسانی خواہشات کی باڑ لگا دی گئی ہے، جبکہ جنت کو دشواریوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6487]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥عبد الرحمن بن هرمز الأعرج، أبو داود عبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← أبو هريرة الدوسي | ثقة ثبت عالم | |
👤←👥عبد الله بن ذكوان القرشي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن ذكوان القرشي ← عبد الرحمن بن هرمز الأعرج | إمام ثقة ثبت | |
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله مالك بن أنس الأصبحي ← عبد الله بن ذكوان القرشي | رأس المتقنين وكبير المتثبتين | |
👤←👥إسماعيل بن أبي أويس الأصبحي، أبو عبد الله إسماعيل بن أبي أويس الأصبحي ← مالك بن أنس الأصبحي | صدوق يخطئ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
6487
| حجبت النار بالشهوات وحجبت الجنة بالمكاره |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6487 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6487
حدیث حاشیہ:
(1)
اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص شہوات نفسانی کا پرستار ہو اس نے گویا دوزخ کا حجاب اٹھا دیا اور وہ جہنم میں پہنچ جاتا ہے۔
قرآن کریم میں ہے:
”جس نے سرکشی کی اور دنیاوی زندگی کو آخرت پر ترجیح دی، تو یقیناً اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔
“ (النازعات: 37-
38)
اس کے برعکس جو مکروہات اور مشکلات برداشت کر کے دین اسلام پر عمل کرتا ہے تو وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کا مہمان ہو گا اور اسے جنت میں اعزاز کے ساتھ داخل کیا جائے گا۔
اللهم اجعلنا من أهلها (2)
اس حدیث کی وضاحت ایک دوسری حدیث میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اللہ تعالیٰ نے جب جنت کو پیدا کیا تو حضرت جبریل علیہ السلام سے کہا:
جاؤ اور اسے دیکھ کر آؤ، چنانچہ وہ گئے، اسے دیکھا پھر واپس آئے تو کہا:
اے میرے رب! تیری عزت کی قسم! اس کے متعلق جو کوئی بھی سنے گا، اس میں داخل ہونا چاہے گا، پھر اللہ تعالیٰ نے اسے مکروہات کے گھیرے میں دے دیا، پھر فرمایا:
اے جبریل! اب جاؤ اور اسے دیکھ کر آؤ، چنانچہ وہ گئے اور اسے دیکھ کر واپس آئے، پھر عرض کی:
اے میرے رب! مجھے تیری عزت کی قسم! مجھے خطرہ ہے کہ اس میں کوئی بھی داخل نہیں ہو سکے گا۔
پھر جب اللہ تعالیٰ نے دوزخ کو پیدا کیا تو حضرت جبریل علیہ السلام سے کہا:
جاؤ اور دوزخ کو دیکھ کر آؤ۔
وہ گئے اور اسے دیکھ کر واپس آئے تو عرض کی:
اے میرے رب! تیری عزت کی قسم! کوئی نہیں جو اس کے متعلق سنے اور پھر اس میں داخل ہو، پھر اللہ تعالیٰ نے اسے نفسانی خواہشات کے گھیرے میں دے دیا، اس کے بعد جبرئیل علیہ السلام سے فرمایا:
جاؤ اسے دیکھ کر آؤ۔
وہ گئے اور اسے دیکھ کر واپس آئے تو عرض کی:
اے میرے رب! تیری عزت کی قسم! تیرے جلال کی قسم! مجھے خطرہ ہے کہ اس میں داخل ہونے سے کوئی بھی نہیں بچ سکے گا۔
“ (سنن أبي داود، السنة، حدیث: 4744)
(1)
اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص شہوات نفسانی کا پرستار ہو اس نے گویا دوزخ کا حجاب اٹھا دیا اور وہ جہنم میں پہنچ جاتا ہے۔
قرآن کریم میں ہے:
”جس نے سرکشی کی اور دنیاوی زندگی کو آخرت پر ترجیح دی، تو یقیناً اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔
“ (النازعات: 37-
38)
اس کے برعکس جو مکروہات اور مشکلات برداشت کر کے دین اسلام پر عمل کرتا ہے تو وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کا مہمان ہو گا اور اسے جنت میں اعزاز کے ساتھ داخل کیا جائے گا۔
اللهم اجعلنا من أهلها (2)
اس حدیث کی وضاحت ایک دوسری حدیث میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اللہ تعالیٰ نے جب جنت کو پیدا کیا تو حضرت جبریل علیہ السلام سے کہا:
جاؤ اور اسے دیکھ کر آؤ، چنانچہ وہ گئے، اسے دیکھا پھر واپس آئے تو کہا:
اے میرے رب! تیری عزت کی قسم! اس کے متعلق جو کوئی بھی سنے گا، اس میں داخل ہونا چاہے گا، پھر اللہ تعالیٰ نے اسے مکروہات کے گھیرے میں دے دیا، پھر فرمایا:
اے جبریل! اب جاؤ اور اسے دیکھ کر آؤ، چنانچہ وہ گئے اور اسے دیکھ کر واپس آئے، پھر عرض کی:
اے میرے رب! مجھے تیری عزت کی قسم! مجھے خطرہ ہے کہ اس میں کوئی بھی داخل نہیں ہو سکے گا۔
پھر جب اللہ تعالیٰ نے دوزخ کو پیدا کیا تو حضرت جبریل علیہ السلام سے کہا:
جاؤ اور دوزخ کو دیکھ کر آؤ۔
وہ گئے اور اسے دیکھ کر واپس آئے تو عرض کی:
اے میرے رب! تیری عزت کی قسم! کوئی نہیں جو اس کے متعلق سنے اور پھر اس میں داخل ہو، پھر اللہ تعالیٰ نے اسے نفسانی خواہشات کے گھیرے میں دے دیا، اس کے بعد جبرئیل علیہ السلام سے فرمایا:
جاؤ اسے دیکھ کر آؤ۔
وہ گئے اور اسے دیکھ کر واپس آئے تو عرض کی:
اے میرے رب! تیری عزت کی قسم! تیرے جلال کی قسم! مجھے خطرہ ہے کہ اس میں داخل ہونے سے کوئی بھی نہیں بچ سکے گا۔
“ (سنن أبي داود، السنة، حدیث: 4744)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6487]
Sahih Bukhari Hadith 6487 in Urdu
عبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← أبو هريرة الدوسي