🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
41. باب: من أحب لقاء الله أحب الله لقاءه :
باب: جو اللہ سے ملاقات کو پسند رکھتا ہے اللہ بھی اس سے ملنے کو پسند رکھتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6507
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ، أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ، كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ"، قَالَتْ عَائِشَةُ: أَوْ بَعْضُ أَزْوَاجِهِ إِنَّا لَنَكْرَهُ الْمَوْتَ، قَالَ:" لَيْسَ ذَاكِ وَلَكِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا حَضَرَهُ الْمَوْتُ بُشِّرَ بِرِضْوَانِ اللَّهِ وَكَرَامَتِهِ، فَلَيْسَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا أَمَامَهُ فَأَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ وَأَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا حُضِرَ بُشِّرَ بِعَذَابِ اللَّهِ وَعُقُوبَتِهِ، فَلَيْسَ شَيْءٌ أَكْرَهَ إِلَيْهِ مِمَّا أَمَامَهُ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ وَكَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ"، اخْتَصَرَهُ أَبُو دَاوُدَ، وَعَمْرٌو، عَنْ شُعْبَةَ، وَقَالَ سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ سَعْدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے حجاج نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے، کہا ہم سے قتادہ نے ان سے انس رضی اللہ عنہ نے اور ان سے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ سے ملنے کو محبوب رکھتا ہے، اللہ بھی اس سے ملنے کو محبوب رکھتا ہے اور جو اللہ سے ملنے کو پسند نہیں کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملنے کو پسند نہیں کرتا۔ اور عائشہ رضی اللہ عنہا یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض ازواج نے عرض کیا کہ مرنا تو ہم بھی نہیں پسند کرتے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے ملنے سے موت مراد نہیں ہے بلکہ بات یہ ہے کہ ایماندار آدمی کو جب موت آتی ہے تو اسے اللہ کی خوشنودی اور اس کے یہاں اس کی عزت کی خوشخبری دی جاتی ہے۔ اس وقت مومن کو کوئی چیز اس سے زیادہ عزیز نہیں ہوتی جو اس کے آگے (اللہ سے ملاقات اور اس کی رضا اور جنت کے حصول کے لیے) ہوتی ہے، اس لیے وہ اللہ سے ملاقات کا خواہشمند ہو جاتا ہے اور اللہ بھی اس کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جب کافر کی موت کا وقت قریب آتا ہے تو اسے اللہ کے عذاب اور اس کی سزا کی بشارت دی جاتی ہے، اس وقت کوئی چیز اس کے دل میں اس سے زیادہ ناگوار نہیں ہوتی جو اس کے آگے ہوتی ہے۔ وہ اللہ سے جا ملنے کو ناپسند کرنے لگتا ہے، پس اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے۔ ابودواؤد طیالسی اور عمرو بن مرزوق نے اس حدیث کو شعبہ سے مختصراً روایت کیا ہے اور سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے زرارہ بن ابی اوفی نے، ان سے سعد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6507]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ سے ملنا پسند کرتا ہے، اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنا پسند کرتا ہے اور جو اللہ سے ملنا پسند نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنا پسند نہیں کرتا۔ یہ سن کر ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا یا کسی دوسری زوجہ محترمہ نے عرض کیا کہ مرنا تو ہم بھی پسند نہیں کرتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، یہ وہ نہیں جو تم نے خیال کیا ہے بلکہ بات یہ ہے کہ ایماندار آدمی کو جب موت آتی ہے تو اسے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے ہاں اکرام و احترام کی بشارت دی جاتی ہے جو اس کے آگے ہے، اس سے بہتر کوئی چیز اسے معلوم نہیں ہوتی، اس لیے وہ اللہ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جب کافر کی موت کا وقت آتا ہے تو اسے اللہ کے عذاب اور اس کے ہاں ملنے والی سزا کا بتایا جاتا ہے، تو جو شے اس کے آگے ہے وہ اسے انتہائی ناگوار گزرتی ہے، اس لیے وہ اللہ تعالیٰ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے لہذا اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنا نہیں چاہتا۔ اس حدیث کو ابوداود اور معمر نے شعبہ سے بیان کرنے میں اختصار کیا ہے، سعید نے قتادہ سے، انہوں نے زرارہ بن اوفی سے، انہوں نے سعد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کو بیان کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6507]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥سعد بن هشام الأنصاري
Newسعد بن هشام الأنصاري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥زرارة بن أوفى العامري، أبو حاجب
Newزرارة بن أوفى العامري ← سعد بن هشام الأنصاري
ثقة
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← زرارة بن أوفى العامري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥سعيد بن أبي عروبة العدوي، أبو النضر
Newسعيد بن أبي عروبة العدوي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة حافظ
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← سعيد بن أبي عروبة العدوي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥عمرو بن مرزوق الباهلي، أبو عثمان
Newعمرو بن مرزوق الباهلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥أبو داود الطيالسي، أبو داود
Newأبو داود الطيالسي ← عمرو بن مرزوق الباهلي
ثقة حافظ غلط في أحاديث
👤←👥عبادة بن الصامت الأنصاري، أبو الوليد
Newعبادة بن الصامت الأنصاري ← أبو داود الطيالسي
صحابي
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر
Newأنس بن مالك الأنصاري ← عبادة بن الصامت الأنصاري
صحابي
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥همام بن يحيى العوذي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهمام بن يحيى العوذي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة
👤←👥الحجاج بن المنهال الأنماطي، أبو محمد
Newالحجاج بن المنهال الأنماطي ← همام بن يحيى العوذي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6507
من أحب لقاء الله أحب الله لقاءه ومن كره لقاء الله كره الله لقاءه قالت عائشة أو بعض أزواجه إنا لنكره الموت قال ليس ذاك ولكن المؤمن إذا حضره الموت بشر برضوان الله وكرامته فليس شيء أحب إليه مما أمامه فأحب لقاء الله وأحب الله لقاءه وإن الكافر إذا حضر بشر بعذا
مسندالحميدي
227
من أحب لقاء الله أحب الله لقاءه، ومن كره لقاء الله كره الله لقاءه ولقاؤه الله بعد الموت
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6507 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6507
حدیث حاشیہ:
خوش بختی یہ ہے کہ موت کے وقت اللہ کی ملاقات کا شوق غالب ہو اور ترک دنیا کا غم نہ ہو۔
اللہ ہر مسلمان کو اس کیفیت کے ساتھ موت نصیب کرے آمین۔
کلمہ طیبہ اس وقت پڑھنے کا بھی مقصد یہی ہے مومن کو موت کے وقت جو تکلیف ہوتی ہے اس کا انجام راحت ابدی ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6507]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:227
فائدہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مومن اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی چاہت رکھتا ہے، اور اللہ تعالیٰ بھی مومن بندے سے ملنے کی چاہت رکھتے ہیں۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب انسان قرآن و سنت کے مطابق زندگی بسر کرے۔ جو انسان بے عمل ہے اس کو اللہ تعالیٰ سے محبت نہیں، اگر محبت ہوتی اور ملنے کی چاہت ہوتی تو باعمل ہوتا، بے عمل انسان اللہ تعالیٰ سے دور ہے، اور اللہ تعالیٰ بھی فاسق و فاجر سے دور ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں نیک بنائے، آمین۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 227]

Sahih Bukhari Hadith 6507 in Urdu