صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب: {وكان أمر الله قدرا مقدورا} :
باب: اور اللہ نے جو حکم دیا ہے (تقدیر میں جو کچھ لکھ دیا ہے) وہ ضرور ہو کر رہے گا۔
حدیث نمبر: 6604
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" لَقَدْ خَطَبَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَةً مَا تَرَكَ فِيهَا شَيْئًا إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ، إِلَّا ذَكَرَهُ عَلِمَهُ مَنْ عَلِمَهُ، وَجَهِلَهُ مَنْ جَهِلَهُ، إِنْ كُنْتُ لَأَرَى الشَّيْءَ قَدْ نَسِيتُ فَأَعْرِفُ مَا يَعْرِفُ الرَّجُلُ إِذَا غَابَ عَنْهُ فَرَآهُ فَعَرَفَهُ".
ہم سے موسیٰ بن مسعود نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابووائل نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک خطبہ دیا اور قیامت تک کوئی (دینی) چیز ایسی نہیں چھوڑی جس کا بیان نہ کیا ہو، جسے یاد رکھنا تھا اس نے یاد رکھا اور جسے بھولنا تھا وہ بھول گیا، جب میں ان کی کوئی چیز دیکھتا ہوں جسے میں بھول چکا ہوں تو اس طرح اسے پہچان لیتا ہوں جس طرح وہ شخص جس کی کوئی چیز گم ہو گئی ہو کہ جب وہ اسے دیکھتا ہے تو فوراً پہچان لیتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب القدر/حدیث: 6604]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥حذيفة بن اليمان العبسي، أبو عبد الله | صحابي | |
👤←👥شقيق بن سلمة الأسدي، أبو وائل شقيق بن سلمة الأسدي ← حذيفة بن اليمان العبسي | مخضرم | |
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد سليمان بن مهران الأعمش ← شقيق بن سلمة الأسدي | ثقة حافظ | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← سليمان بن مهران الأعمش | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥موسى بن مسعود النهدي، أبو حذيفة موسى بن مسعود النهدي ← سفيان الثوري | صدوق سيء الحفظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
6604
| ما ترك فيها شيئا إلى قيام الساعة إلا ذكره علمه من علمه وجهله من جهله إن كنت لأرى الشيء قد نسيت فأعرف ما يعرف الرجل إذا غاب عنه فرآه فعرفه |
صحيح مسلم |
7263
| ما ترك شيئا يكون في مقامه ذلك إلى قيام الساعة إلا حدث به حفظه من حفظه ونسيه من نسيه قد علمه أصحابي هؤلاء وإنه ليكون منه الشيء قد نسيته فأراه فأذكره كما يذكر الرجل وجه الرجل إذا غاب عنه ثم إذا رآه عرفه |
صحيح مسلم |
7265
| أخبرني رسول الله بما هو كائن إلى أن تقوم الساعة فما منه شيء إلا قد سألته إلا أني لم أسأله ما يخرج أهل المدينة من المدينة |
سنن أبي داود |
4240
| ما ترك شيئا يكون في مقامه ذلك إلى قيام الساعة إلا حدثه حفظه من حفظه ونسيه من نسيه قد علمه أصحابه هؤلاء وإنه ليكون منه الشيء فأذكره كما يذكر الرجل وجه الرجل إذا غاب عنه ثم إذا رآه عرفه |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6604 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6604
حدیث حاشیہ:
(1)
ایک روایت میں ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھی واقعی بھول گئے ہیں یا بھولے بنے ہوئے ہیں۔
اللہ کی قسم! دنیا ختم ہونے تک آنے والے فتنوں کے قائدین جن کے ساتھ تین سو یا اس سے زیادہ لوگ ہوں گے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو نہیں چھوڑا، آپ نے ان کے نام مع ولدیت اور ان کے قبیلوں تک کے نام بتا دیے ہیں۔
(سنن أبي داود، الفتن والملاحم، حدیث: 4243)
ایک دوسری روایت میں ہے کہ جب ان واقعات میں سے کوئی پیش آتا ہے تو مجھے وہ سب یاد آ جاتا ہے جیسے کسی کو کسی کے چلے جانے کے بعد اس کا چہرہ یاد رہتا ہے، پھر مدت بعد جب دیکھتا ہے تو اسے پہچان لیتا ہے۔
(صحیح مسلم، الفتن، حدیث: 7263 (2891) (2)
یہ وہ فتنے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مقدر کیے ہیں اور وہ بہر صورت واقع ہو کر رہیں گے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نشاندہی کی ہے، چنانچہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے:
”اللہ کی قسم! میرے اور قیامت کے درمیان جو فتنے رونما ہونے والے ہیں میں ان سب کو جانتا ہوں، یہ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر مجھے راز داری کے طور پر ان کی نشاندہی فرمائی تھی، میرے علاوہ اور کسی کو نہیں بتایا تھا۔
“ (صحیح مسلم، الفتن، حدیث: 7262 (2891)
(1)
ایک روایت میں ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھی واقعی بھول گئے ہیں یا بھولے بنے ہوئے ہیں۔
اللہ کی قسم! دنیا ختم ہونے تک آنے والے فتنوں کے قائدین جن کے ساتھ تین سو یا اس سے زیادہ لوگ ہوں گے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو نہیں چھوڑا، آپ نے ان کے نام مع ولدیت اور ان کے قبیلوں تک کے نام بتا دیے ہیں۔
(سنن أبي داود، الفتن والملاحم، حدیث: 4243)
ایک دوسری روایت میں ہے کہ جب ان واقعات میں سے کوئی پیش آتا ہے تو مجھے وہ سب یاد آ جاتا ہے جیسے کسی کو کسی کے چلے جانے کے بعد اس کا چہرہ یاد رہتا ہے، پھر مدت بعد جب دیکھتا ہے تو اسے پہچان لیتا ہے۔
(صحیح مسلم، الفتن، حدیث: 7263 (2891) (2)
یہ وہ فتنے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مقدر کیے ہیں اور وہ بہر صورت واقع ہو کر رہیں گے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نشاندہی کی ہے، چنانچہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے:
”اللہ کی قسم! میرے اور قیامت کے درمیان جو فتنے رونما ہونے والے ہیں میں ان سب کو جانتا ہوں، یہ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر مجھے راز داری کے طور پر ان کی نشاندہی فرمائی تھی، میرے علاوہ اور کسی کو نہیں بتایا تھا۔
“ (صحیح مسلم، الفتن، حدیث: 7262 (2891)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6604]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7265
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قیامت برپاہونے تک کے واقعات سے آگاہ فرمایا:"اور میں نے آپ سے ان میں سے ہر چیز کے بارے میں سوال کیا۔ مگر میں نے آپ سے یہ سوال نہیں کیا کہ اہل مدینہ کو مدینہ سے کون سی چیز نکالے گی؟ یعنی اہل مدینہ،مدینہ سے کیوں نکل جائیں گے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:7265]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
ایک ایسا وقت آئے گا،
جس میں اہل مدینہ،
مدینہ چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گے،
لیکن اس کا سبب کیا ہوگا،
یہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ آپ سے پوچھ نہیں سکے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
ایک ایسا وقت آئے گا،
جس میں اہل مدینہ،
مدینہ چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گے،
لیکن اس کا سبب کیا ہوگا،
یہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ آپ سے پوچھ نہیں سکے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7265]
شقيق بن سلمة الأسدي ← حذيفة بن اليمان العبسي