🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب إخبار النبي صلى الله عليه وسلم فيما يكون إلى قيام الساعة:
باب: قیام قیامت تک پیش آنے والے فتنوں کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خبر دینے کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2891 ترقیم شاملہ: -- 7265
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ، قَالَ: " أَخْبَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ، فَمَا مِنْهُ شَيْءٌ إِلَّا قَدْ سَأَلْتُهُ، إِلَّا أَنِّي لَمْ أَسْأَلْهُ مَا يُخْرِجُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ مِنْ الْمَدِينَةِ "،
محمد بن جعفر غندر نے کہا: ہمیں شعبہ نے عدی بن ثابت سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبداللہ بن یزید سے اور انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت قائم ہونے تک جو کچھ ہونے والا ہے اس کی مجھے خبر دی، اور ان میں سے کوئی چیز نہیں مگر میں نے آپ سے اس کے بارے میں سوال کیا البتہ میں نے آپ سے یہ سوال نہیں کیا کہ اہل مدینہ کو مدینہ سے کون سی چیز باہر نکالے گی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7265]
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قیامت برپاہونے تک کے واقعات سے آگاہ فرمایا:"اور میں نے آپ سے ان میں سے ہر چیز کے بارے میں سوال کیا۔ مگر میں نے آپ سے یہ سوال نہیں کیا کہ اہل مدینہ کو مدینہ سے کون سی چیز نکالے گی؟ یعنی اہل مدینہ،مدینہ سے کیوں نکل جائیں گے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7265]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2891
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥حذيفة بن اليمان العبسي، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥عبد الله بن يزيد الأوسي، أبو موسى، أبو أمية
Newعبد الله بن يزيد الأوسي ← حذيفة بن اليمان العبسي
صحابي صغير
👤←👥عدي بن ثابت الأنصاري
Newعدي بن ثابت الأنصاري ← عبد الله بن يزيد الأوسي
ثقة رمي بالتشيع
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← عدي بن ثابت الأنصاري
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن جعفر الهذلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥محمد بن نافع القيسي، أبو بكر
Newمحمد بن نافع القيسي ← محمد بن جعفر الهذلي
صدوق حسن الحديث
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← محمد بن نافع القيسي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن جعفر الهذلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← محمد بن جعفر الهذلي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6604
ما ترك فيها شيئا إلى قيام الساعة إلا ذكره علمه من علمه وجهله من جهله إن كنت لأرى الشيء قد نسيت فأعرف ما يعرف الرجل إذا غاب عنه فرآه فعرفه
صحيح مسلم
7263
ما ترك شيئا يكون في مقامه ذلك إلى قيام الساعة إلا حدث به حفظه من حفظه ونسيه من نسيه قد علمه أصحابي هؤلاء وإنه ليكون منه الشيء قد نسيته فأراه فأذكره كما يذكر الرجل وجه الرجل إذا غاب عنه ثم إذا رآه عرفه
صحيح مسلم
7265
أخبرني رسول الله بما هو كائن إلى أن تقوم الساعة فما منه شيء إلا قد سألته إلا أني لم أسأله ما يخرج أهل المدينة من المدينة
سنن أبي داود
4240
ما ترك شيئا يكون في مقامه ذلك إلى قيام الساعة إلا حدثه حفظه من حفظه ونسيه من نسيه قد علمه أصحابه هؤلاء وإنه ليكون منه الشيء فأذكره كما يذكر الرجل وجه الرجل إذا غاب عنه ثم إذا رآه عرفه
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7265 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7265
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
ایک ایسا وقت آئے گا،
جس میں اہل مدینہ،
مدینہ چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گے،
لیکن اس کا سبب کیا ہوگا،
یہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ آپ سے پوچھ نہیں سکے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7265]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6604
6604. حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک خطبہ دیا اور قیامت تک کوئی چیز نہ چھوڑی جس کو بیان نہ کیا ہو، جسے یاد رکھنا تھا اس نے یاد رکھا اور جسے بھولنا تھا وہ بھول گیا لہذا جب میں کوئی فراموش کردہ چیز دیکھتا ہوں تو اس طرح اسے پہنچان لیتا ہوں جس طرح وہ شخص کی کوئی چیز گم ہوگئی ہو جب وہ اسے دیکھتا ہے تو فوراً پہچان لیتا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6604]
حدیث حاشیہ:
(1)
ایک روایت میں ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھی واقعی بھول گئے ہیں یا بھولے بنے ہوئے ہیں۔
اللہ کی قسم! دنیا ختم ہونے تک آنے والے فتنوں کے قائدین جن کے ساتھ تین سو یا اس سے زیادہ لوگ ہوں گے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو نہیں چھوڑا، آپ نے ان کے نام مع ولدیت اور ان کے قبیلوں تک کے نام بتا دیے ہیں۔
(سنن أبي داود، الفتن والملاحم، حدیث: 4243)
ایک دوسری روایت میں ہے کہ جب ان واقعات میں سے کوئی پیش آتا ہے تو مجھے وہ سب یاد آ جاتا ہے جیسے کسی کو کسی کے چلے جانے کے بعد اس کا چہرہ یاد رہتا ہے، پھر مدت بعد جب دیکھتا ہے تو اسے پہچان لیتا ہے۔
(صحیح مسلم، الفتن، حدیث: 7263 (2891) (2)
یہ وہ فتنے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مقدر کیے ہیں اور وہ بہر صورت واقع ہو کر رہیں گے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نشاندہی کی ہے، چنانچہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے:
اللہ کی قسم! میرے اور قیامت کے درمیان جو فتنے رونما ہونے والے ہیں میں ان سب کو جانتا ہوں، یہ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر مجھے راز داری کے طور پر ان کی نشاندہی فرمائی تھی، میرے علاوہ اور کسی کو نہیں بتایا تھا۔
(صحیح مسلم، الفتن، حدیث: 7262 (2891)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6604]