🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
42. باب إذا حضر الطعام وأقيمت الصلاة:
باب: جب کھانا حاضر ہو اور نماز کی تکبیر ہو جائے تو کیا کرنا چاہئے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 673
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِذَا وُضِعَ عَشَاءُ أَحَدِكُمْ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ، وَلَا يَعْجَلْ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْهُ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُوضَعُ لَهُ الطَّعَامُ وَتُقَامُ الصَّلَاةُ فَلَا يَأْتِيهَا حَتَّى يَفْرُغَ، وَإِنَّهُ لَيَسْمَعُ قِرَاءَةَ الْإِمَامِ".
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا ابواسامہ حماد بن اسامہ سے، انہوں نے عبیداللہ سے، انہوں نے نافع سے، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کا شام کا کھانا تیار ہو چکا ہو اور تکبیر بھی کہی جا چکی ہو تو پہلے کھانا کھا لو اور نماز کے لیے جلدی نہ کرو، کھانے سے فراغت کر لو۔ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے لیے کھانا رکھ دیا جاتا، ادھر اقامت بھی ہو جاتی لیکن آپ کھانے سے فارغ ہونے تک نماز میں شریک نہیں ہوتے تھے۔ آپ امام کی قرآت برابر سنتے رہتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 673]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥عبيد الله بن عمر العدوي، أبو عثمان
Newعبيد الله بن عمر العدوي ← نافع مولى ابن عمر
ثقة ثبت
👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة
Newحماد بن أسامة القرشي ← عبيد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت
👤←👥عبد الله بن إسماعيل الهباري، أبو محمد
Newعبد الله بن إسماعيل الهباري ← حماد بن أسامة القرشي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
673
إذا وضع عشاء أحدكم وأقيمت الصلاة فابدءوا بالعشاء
صحيح مسلم
1244
إذا وضع عشاء أحدكم وأقيمت الصلاة فابدءوا بالعشاء
جامع الترمذي
354
إذا وضع العشاء وأقيمت الصلاة فابدءوا بالعشاء
سنن أبي داود
3757
إذا وضع عشاء أحدكم وأقيمت الصلاة فلا يقوم حتى يفرغ
سنن ابن ماجه
934
إذا وضع العشاء وأقيمت الصلاة فابدءوا بالعشاء
المعجم الصغير للطبراني
312
إذا أقيمت الصلاة وحضر العشاء فابدءوا بالعشاء
المعجم الصغير للطبراني
320
إذا أقيمت الصلاة ، وحضر العشاء فابدءوا بالعشاء
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 673 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:673
حدیث حاشیہ:
(1)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کا مذکورہ عمل ان کا اپنا اختیار کردہ ہے۔
ہمارے نزدیک بہتر ہے کہ اگر انسان اس قدر کھا چکا ہو کہ اطمینانِ قلب کے ساتھ نماز پڑھ سکے تو نماز کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔
مکمل طور پر کھانے سے فراغت ضروری نہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل مبارک بھی ہمارے اس موقف کا مؤید ہے۔
حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ شانے کا گوشت کھا رہے تھے کہ آپ کو نماز کے لیے بلایا گیا، آپ نے گوشت وہیں رکھا اور نماز کےلیے کھڑے ہوگئے۔
(صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 675) (2)
امام نووی ؒ فرماتے ہیں کہ ان احادیث میں کھانے کی موجودگی میں نماز پڑھنے کی کراہت کا بیان ہے، کیونکہ ایسی صورت میں خشوع خضوع ختم ہوجاتا ہے جو نماز کی اصل روح ہے، چنانچہ کھانے کہ علاوہ بھی جو چیز خضوع کے منافی ہوگی، اس کا یہی حکم ہوگا لیکن یہ اس وقت ہے جب کافی وقت موجود ہو۔
اگر وقت کم ہوتو ہر صورت میں وقت کی حرمت کا خیال رکھتے ہوئے نماز پڑھ لینی چاہیے، ایسے حالات میں تاخیر جائز نہیں۔
حافظ ابن حجر ؒ فرماتے ہیں کہ جب کسی معاملے میں دو خرابیاں جمع ہوجائیں تو ہلکی خرابی کو اپنا لیا جائے۔
وقت کا نکل جانا خشوع کے چھوٹ جانے سے زیادہ خطرناک ہے۔
غالباً اسی وجہ سے میدان جنگ میں بھی نماز خوف بروقت پڑھنے کا حکم ہے باوجودیکہ اس وقت کمال خشوع ناممکن ہوتا ہے۔
(فتح الباري: 209/2)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 673]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3757
جب عشاء اور شام کا کھانا دونوں تیار ہوں تو کیا کرے؟
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے لیے رات کا کھانا چن دیا جائے اور نماز کے لیے اقامت بھی کہہ دی جائے تو (نماز کے لیے) نہ کھڑا ہو یہاں تک کہ (کھانے سے) فارغ ہو لے۔‏‏‏‏ مسدد نے اتنا اضافہ کیا: جب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا کھانا چن دیا جاتا یا ان کا کھانا موجود ہوتا تو اس وقت تک نماز کے لیے نہیں کھڑے ہوتے جب تک کہ کھانے سے فارغ نہ ہو لیتے اگرچہ اقامت اور امام کی قرآت کی آواز کان میں آ رہی ہو ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3757]
فوائد ومسائل:
فائدہ: نمازایسی عبادت ہے جس میں رب ذوالجلال سے مناجات ہوتی ہے۔
تو انسان کو اپنے فطری عوارض سے فارغ ہو کر پوری یکسوئی سے نماز اد ا کرنی چاہیے۔
کھانے پر پہنچنے سے پہلے نماز کا بوجھ اتارنے کی کوشش قطعاً مناسب نہیں۔
اسی طرح پیشاب پاخانے کے تقاضے ہیں۔
ضروری ہے کہ انسان پہلے ان امور سے فارغ ہولے، ایسا نہ ہو کہ دھیان کھانے وغیرہ کی طرف لگا ہوا ور نماز میں یکسوئی حاصل نہ ہو پائے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3757]