🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب ما يكره من لعن شارب الخمر وإنه ليس بخارج من الملة:
باب: شراب پینے والا اسلام سے نکل نہیں جاتا نہ اس پر لعنت کرنی چاہئے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6781
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَكْرَانَ، فَأَمَرَ بِضَرْبِهِ، فَمِنَّا مَنْ يَضْرِبُهُ بِيَدِهِ، وَمِنَّا مَنْ يَضْرِبُهُ بِنَعْلِهِ، وَمِنَّا مَنْ يَضْرِبُهُ بِثَوْبِهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ رَجُلٌ: مَا لَهُ أَخْزَاهُ اللَّهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَكُونُوا عَوْنَ الشَّيْطَانِ عَلَى أَخِيكُمْ".
ہم سے علی بن عبداللہ بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا، ان سے ابن الہاد نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابراہیم نے، ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص نشہ میں لایا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مارنے کا حکم دیا۔ ہم میں سے بعض نے انہیں ہاتھ سے مارا، بعض نے جوتے سے مارا اور بعض نے کپڑے سے مارا۔ جب مار چکے تو ایک شخص نے کہا، کیا ہو گیا اسے؟ اللہ اسے رسوا کرے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے بھائی کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب الحدود/حدیث: 6781]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة إمام مكثر
👤←👥محمد بن إبراهيم القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن إبراهيم القرشي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
ثقة
👤←👥يزيد بن الهاد الليثي، أبو عبد الله
Newيزيد بن الهاد الليثي ← محمد بن إبراهيم القرشي
ثقة مكثر
👤←👥أنس بن عياض الليثي، أبو ضمرة
Newأنس بن عياض الليثي ← يزيد بن الهاد الليثي
ثقة
👤←👥علي بن المديني، أبو الحسن
Newعلي بن المديني ← أنس بن عياض الليثي
ثقة ثبت إمام أعلم أهل عصره بالحديث وعلله
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6777
اضربوه قال أبو هريرة فمنا الضارب بيده والضارب بنعله والضارب بثوبه فلما انصرف بعض القوم أخزاك الله قال لا تقولوا هكذا لا تعينوا عليه الشيطان
صحيح البخاري
6781
سكران فأمر بضربه فمنا من يضربه بيده ومنا من يضربه
سنن أبي داود
4477
لا تقولوا هكذا لا تعينوا عليه الشيطان
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6781 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6781
حدیث حاشیہ:
اللہ کی حد کو بخوشی برداشت کرنا ہی اس گنہگار کے مومن ہونے کی دلیل ہے پس حد قائم کرنے کے بعد اس پر لعن طعن کرنا منع ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6781]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6781
حدیث حاشیہ:
(1)
جب کوئی اپنے جرم کی سزا بھگت لے تو اسے برا بھلا کہنا یا اس پر لعنت کرنا درست نہیں بلکہ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اس کے لیے اللہ تعالیٰ سے بخشش اور رحم کی دعا کرو۔
اور مارنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اسے شرمسار کرو تو لوگوں نے اسے کہا تو اللہ سے نہیں ڈرتا، تجھے اس کے عذاب سے خوف نہیں آتا، تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حیا نہیں آتی، اسے ملامت کرنے کے بعد چھوڑ دیا گیا۔
(سنن أبي داود، الحدود، حدیث: 4478) (2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے شارح صحیح بخاری ابن منیر کے حوالے سے لکھا ہے کہ معین شخص پر لعنت کرنا مطلق طور پر منع ہے، البتہ نام لیے بغیر برا کام کرنے پر لعنت کرنا جائز ہے کیونکہ ایسا کرنے سے ممکن ہے کہ وہ باز آجائے، البتہ نام لے کر لعنت کرنا اس کے لیے باعث اذیت ہے اور مسلمان کو اذیت پہنچانا جائز نہیں۔
معین شخص پر لعنت کرنا اس لیے بھی منع ہے کہ ایسا کرنے سے وہ گنا ہ پر ڈٹ جائے گا اور توبہ سے مایوس ہوکر اس گندے کام پر دلیر ہوگا۔
بعض حضرات نے نام لے کر لعنت کرنے کو جائز قرار دیا ہے لیکن ان کا موقف راجح نہیں۔
(فتح الباري: 93/12)
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6781]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4477
شراب کی حد کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا جس نے شراب پی رکھی تھی، تو آپ نے فرمایا: اسے مارو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو ہم میں سے کسی نے ہاتھ سے، کسی نے جوتے سے، اور کسی نے کپڑے سے، اسے مارا، پھر جب فارغ ہوئے تو کسی نے کہا: اللہ تجھے رسوا کرے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہ کہو اس کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4477]
فوائد ومسائل:
انسان خطا کا پتلا ہے چاہئے کہ خطاکار کو احسن انداز سے نصیحت کی جائے۔
اس انداز کی ڈانٹ ڈپٹ کہ اس کے منفی جذبات کو ابھارے مناسب نہیں، اس سے گویا شیطان کی مدد ہوتی ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4477]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6777
6777. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص کو لایا گیا جس نے ابھی ابھی شراب نوشی کی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے مارو حضرت ابو ہریرہ ؓ کہتے ہیں: ہم میں سے بعض نے اسے مکوں سے مارا۔ کچھ نے جوتوں اور کچھ نے کپڑوں سے اس کی مرمت کی۔ جب وہ جانے لگا تو کسی نے کہا: اللہ تجھے رسوا کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا مت کہو اور اس کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6777]
حدیث حاشیہ:
معلوم ہوا کہ گناہ گار کی مذمت میں حد سے آگے بڑھنا معیوب ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6777]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6777
6777. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص کو لایا گیا جس نے ابھی ابھی شراب نوشی کی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے مارو حضرت ابو ہریرہ ؓ کہتے ہیں: ہم میں سے بعض نے اسے مکوں سے مارا۔ کچھ نے جوتوں اور کچھ نے کپڑوں سے اس کی مرمت کی۔ جب وہ جانے لگا تو کسی نے کہا: اللہ تجھے رسوا کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا مت کہو اور اس کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6777]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث میں شرابی کو مارنے کے لیے تعداد کا تعین نہیں ہے کیونکہ شروع اسلام میں اس کی تعداد مقرر نہ تھی، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر رسوائی کی بددعا کرنے کو شیطان کی مدد قرار دیا ہے۔
اس طرح شیطان کو وسوسہ اندازی کا موقع ملے گا۔
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ایسا کرنا یہ تأثر دینا ہے کہ وہ بددعا کا مستحق ہے تو شیطان اس کے دل میں گندے خیالات پیدا کرے گا، اس لیے آپ نے اس سے منع فرمایا۔
(2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوڑے نہیں لگوائے تھے بلکہ جوتوں، مکوں اور کپڑے کے سونٹوں کو کافی خیال کیا تھا۔
امام بخاری رحمہ اللہ کا اس حدیث سے یہی مقصود ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6777]