🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب من ترك قتال الخوارج للتألف، وأن لا ينفر الناس عنه:
باب: دل ملانے کے لیے کسی مصلحت سے کہ لوگوں میں نفرت نہ پیدا ہو خارجیوں کو نہ قتل کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6934
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ، حَدَّثَنَا يُسَيْرُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ، قُلْتُ لِسَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ: هَلْ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ فِي الْخَوَارِجِ شَيْئًا؟، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ وَأَهْوَى بِيَدِهِ قِبَلَ الْعِرَاقِ:" يَخْرُجُ مِنْهُ قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیادہ نے، کہا ہم سے سلمان شیبانی نے، کہا ہم سے یسیر بن عمرو نے بیان کیا کہ میں نے سہل بن حنیف (بدری صحابی) رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوارج کے سلسلے میں کچھ فرماتے ہوئے سنا ہے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے اور آپ نے عراق کی طرف ہاتھ سے اشارہ فرمایا تھا کہ ادھر سے ایک جماعت نکلے گی یہ لوگ قرآن مجید پڑھیں گے لیکن قرآن مجید ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ اسلام سے اس طرح باہر ہو جائیں گے جیسے تیر شکار کے جانور سے باہر نکل جاتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب استتابة المرتدين/حدیث: 6934]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سهل بن حنيف الأنصاري، أبو سعيد، أبو عبد الله، أبو ثابت، أبو الوليد، أبو سعدصحابي
👤←👥يسير بن عمرو الشيباني، أبو الخيار
Newيسير بن عمرو الشيباني ← سهل بن حنيف الأنصاري
له رؤية
👤←👥سليمان بن فيروز الشيباني، أبو إسحاق
Newسليمان بن فيروز الشيباني ← يسير بن عمرو الشيباني
ثقة
👤←👥عبد الواحد بن زياد العبدي، أبو بشر
Newعبد الواحد بن زياد العبدي ← سليمان بن فيروز الشيباني
ثقة
👤←👥موسى بن إسماعيل التبوذكي، أبو سلمة
Newموسى بن إسماعيل التبوذكي ← عبد الواحد بن زياد العبدي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6934
يخرج منه قوم يقرءون القرآن لا يجاوز تراقيهم يمرقون من الإسلام مروق السهم من الرمية
صحيح مسلم
2470
قوم يقرءون القرآن بألسنتهم لا يعدو تراقيهم يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6934 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6934
حدیث حاشیہ:
امام مسلم نے حضرت ابوذر سے روایت کیا خارجی تمام مخلوقات میں بدتر ہیں اور بزار نے مرفوعاً نکالا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خارجیوں کا ذکر کیا۔
فرمایا میری امت میں بدترین لوگ ہوں گے ان کو میری امت کے اچھے لوگ قتل کریں گے۔
خارجی ایک مشہور فرقہ ہے جس کی ابتداء حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے آخری زمانہ خلافت سے ہوئی۔
یہ لوگ ظاہر میں بڑے عابد زاہد قاری قرآن تھے مگر دل میں ذرا بھی قرآن کا نور نہ تھا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو یہ لوگ شروع شروع میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہے۔
جب جنگ صفین ہو چکی اور تحکیم کی رائے قرار پائی اس وقت یہ لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی الگ ہوگئے۔
ان کو برا کہنے لگے کہ انہوں نے تحکیم کیسے قبول کی۔
حالانکہ اللہ نے فرمایا ہے ﴿إنِ الحکمُ إلَّا ِﷲِ﴾ (الأنعام: 57)
ان کا سردار عبداللہ بن کوا تھا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کو سمجھانے کے لیے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بھیجا اور خود بھی سمجھایا مگر انہوں نے نہ مانا۔
آخر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نہروان کی جنگ میں ان کو قتل کیا۔
چند لوگ بچ کر بھاگ نکلے۔
ان ہی میں ایک عبدالرحمن بن ملجم تھا جس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو شہید کیا۔
یہ خارجی کمبخت حضرت علی، حضرت عثمان، حضرت عائشہ اور حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہم کی تکفیر کرتے ہیں اور کبیرہ گناہ کرنے و الے کو ہمیشہ کے لیے دوزخی کہتے ہیں اور حیض کی حالت میں عورت پر نماز کی قضا واجب جانتے ہیں۔
قرآن کی تفسیر اپنے دل سے کرتے ہیں اور جو آیات کافروں کے باب میں تھیں وہ مومنوں پر چسپاں کرتے ہیں۔
لفظ خارجی کے مرادی معنی باغی کے ہیں یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ پر بغاوت کرنے والے یہ درحقیقت رافضیوں کے مقابلہ پر پیدا ہوکر امت کے انتشار درانتشار کے موجب بنے۔
خذلهم اللہ أجمعین ان جملہ جھگڑوں سے بچ کر صراط مستقیم پر چلنے والا گروہ اہل سنت والجماعت کا گروہ ہے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ہر دو کی عزت کرتا ہے اور ان سب کی بخشش کے لیے دعا گو ہے۔
﴿تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْۚ-لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ﴾ (البقرة: 134)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6934]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6934
حدیث حاشیہ:
(1)
اس سے پہلے احادیث میں حروریہ کا ذکر تھا،اس حدیث میں صراحت ہے کہ اس سے مراد خوارج کا گروہ تھا۔
(2)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں اختلاف کے وقت ان کا ظہور ہوا، چنانچہ اس گروہ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے ختم کیا۔
ان میں اس شخص کی برآمدگی بھی ہوئی جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نشاندہی فرمائی تھی۔
(3)
خوارج کے متعلق تقریباً پچیس صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے احادیث مروی ہیں، جن میں اس فتنے کا ذکر ہے۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اس فتنے کی سرکوبی کی۔
انھیں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بہت عداوت تھی۔
جس طرح روافض ان سے عقیدت میں گمراہ ہوئے اسی طرح خوارج ان کی عداوت اور دشمنی کی وجہ سے راہ راست سے بھٹک گئے۔
خذلهم الله أجمعين في الدنيا والآخرة، آ مين يارب العالمين۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6934]