🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب قول النبى صلى الله عليه وسلم: لا تقوم الساعة حتى يقتتل فئتان دعوتهما واحدة :
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک دو ایسی جماعتیں آپس میں جنگ نہ کر لیں جن کا دعویٰ ایک ہی ہو گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6935
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَقْتَتِلَ فِئَتَانِ دَعْوَاهُمَا وَاحِدَةٌ".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک دو ایسے گروہ آپس میں جنگ نہ کریں جن کا دعویٰ ایک ہی ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب استتابة المرتدين/حدیث: 6935]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک دو ایسے گروہ آپس میں جنگ نہ کریں جن کا دعویٰ ایک ہی ہوگا۔ [صحيح البخاري/كتاب استتابة المرتدين/حدیث: 6935]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن هرمز الأعرج، أبو داود
Newعبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت عالم
👤←👥عبد الله بن ذكوان القرشي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن ذكوان القرشي ← عبد الرحمن بن هرمز الأعرج
إمام ثقة ثبت
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عبد الله بن ذكوان القرشي
ثقة حافظ حجة
👤←👥علي بن المديني، أبو الحسن
Newعلي بن المديني ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة ثبت إمام أعلم أهل عصره بالحديث وعلله
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6935 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6935
حدیث حاشیہ:
(1)
ایک رویت میں ہے کہ دو بڑی جماعتوں کے درمیان جنگ عظیم ہوگی۔
(صحیح البخاري، الفتن، حدیث: 7121)
ان دونوں بڑی جماعتوں سے مراد حضرت علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کی جماعت ہے اور جنگ عظیم سے مراد جنگ صفین ہے۔
ان دونوں کا دعویٰ ایک، یعنی اسلام تھا۔
ان میں ہر گروہ یقین رکھتا تھا کہ وہ حق پر ہے۔
(2)
طبری کی روایت میں ہے کہ جب باغی گروہ، یعنی خوارج کا ظہور ہو گا تو ان دونوں جماعتوں میں سے جو حق کے زیادہ قریب ہوگی باغی لوگوں کو قتل کرے گی۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اسی مناسبت سے مذکورہ عنوان اور پیش کردہ حدیث ذکر کی ہے۔
(فتح الباري: 378/12)
اس میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی تنقیص کا کوئی پہلو ثابت نہیں ہوتا کیونکہ اس کا دعویٰ اجتہاد پر مبنی تھا۔
مجتہد اگر خطا کار بھی ہوتو اسے ایک اجر ضرور ملتا ہے۔
(3)
بہرحال خوارج کے بارے میں نرم گوشہ نہیں رکھنا چاہیے۔
انھوں نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو کافر کہا، حالانکہ اس مقدس گروہ کو کافر کہنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرنا ہے۔
کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے جنتی ہونے کی گواہی دی ہے۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6935]

Sahih Bukhari Hadith 6935 in Urdu