🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب المبشرات:
باب: مبشرات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6990
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَمْ يَبْقَ مِنَ النُّبُوَّةِ إِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ، قَالُوا: وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ؟، قَالَ: الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا مجھ سے سعید بن مسیب نے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نبوت میں سے صرف اب مبشرات باقی رہ گئی ہیں۔ صحابہ نے پوچھا کہ مبشرات کیا ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھے خواب۔ [صحيح البخاري/كتاب التعبير/حدیث: 6990]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد
Newسعيد بن المسيب القرشي ← أبو هريرة الدوسي
أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← سعيد بن المسيب القرشي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥شعيب بن أبي حمزة الأموي، أبو بشر
Newشعيب بن أبي حمزة الأموي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة حافظ متقن
👤←👥الحكم بن نافع البهراني، أبو اليمان
Newالحكم بن نافع البهراني ← شعيب بن أبي حمزة الأموي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6990
لم يبق من النبوة إلا المبشرات قالوا وما المبشرات قال الرؤيا الصالحة
صحيح مسلم
5911
رؤيا المؤمن جزء من ستة وأربعين جزءا من النبوة
صحيح مسلم
5912
رؤيا المسلم يراها أو ترى له
صحيح مسلم
5913
رؤيا الرجل الصالح جزء من ستة وأربعين جزءا من النبوة
جامع الترمذي
2291
رؤيا المؤمن جزء من ستة وأربعين جزءا من النبوة
سنن أبي داود
5017
ليس يبقى بعدي من النبوة إلا الرؤيا الصالحة
سنن ابن ماجه
3894
رؤيا المؤمن جزء من ستة وأربعين جزءا من النبوة
صحيفة همام بن منبه
49
رؤيا الرجل الصالح جزء من ستة وأربعين جزءا من النبوة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6990 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6990
حدیث حاشیہ:
جن کے ذریعہ بشارتیں ملتی ہیں۔
اولیاء اللہ کے بارے میں آیت ﴿لَھُمُ البُشریٰ في الحیوةِ الدُّنیا﴾ میں ان ہی مبشرات کا ذکر ہے۔
جس دن سے خدمت قرآن مجید وبخاری شریف کا کام شروع کیا ہے بہت سے مبشرات اللہ نے خواب میں دکھلائے ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6990]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6990
حدیث حاشیہ:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ حدیث مرض وفات میں بیان فرمائی، چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض وفات میں پردہ اٹھایا جبکہ آپ نے بیماری کی وجہ سے اپنا سر باندھ رکھا تھا اور لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اقتدا میں نماز ادا کر رہے تھے، آپ نےفرمایا:
لوگو! مبشرات نبوت سے اب صرف اچھے خواب باقی رہ گئے ہیں جنھیں ایک مسلمان دیکھتا ہے۔
(صحیح مسلم، الصلاة، حدیث: 1074(479)
اس کا قطعاً مطلب یہ نہیں کہ جسے اچھا خواب آئے اسے نبوت کا کچھ حصہ مل جاتا ہے کیونکہ اس حدیث میں خواب کے معاملے کو نبوت سے تشبیہ دی گئی ہے۔
اگر کوئی شخص أشھد ان لا إلٰه إلا اللہ بآواز بلند کہتا ہے تو اسے مؤذن نہیں کہا جاتا، حالانکہ یہ کلمہ اذان کا جز ہے۔

حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے مہلب کے حوالے سے لکھا ہے کہ اچھے خواب کو مبشرات سے تعبیر کرنا اغلبیت کی وجہ سے ہے کیونکہ کچھ خواب سچے ہوتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ مومن کو اس لیے دکھاتا ہے کہ وہ مستقبل میں پیش آنے والے حادثے کے لیے خود کو تیار کر کے، یعنی مبشرات کے بجائے منذرات سے ہوتا ہے۔
(فتح الباري: 470/12)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6990]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5017
خواب کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر سے (سلام پھیر کر) پلٹتے تو پوچھتے: کیا تم میں سے کسی نے آج رات کوئی خواب دیکھا ہے؟ اور فرماتے: میرے بعد نیک خواب کے سوا نبوت کا کوئی حصہ باقی نہیں رہے گا ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5017]
فوائد ومسائل:
قرآن وحدیث سے ثابت ہے کہ خواب ایک حقیقت واقعہ ہے۔
یہ سچے اور جھوٹے دونوں طرح کے ہوتے ہیں۔
سچے خواب اللہ عزوجل کی جانب سے اور جھوٹے شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں۔
بلکہ انبیاء رسل صلی اللہ علیہ وسلم کا تو خاصہ ہے۔
کہ ان کے خواب بالکل سچے اور وحی کی ایک قسم کے ہوتے ہیں۔
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتدائے نبوت خواب ہی سے حاصل ہوئی تھی۔
اور عام مسلمانوں کے خواب جو وہ صحت واعتدال کی کیفیت میں دیکھے وہ بھی بالعموم سچے ہوتے ہیں۔
اور انہی کو نبوت کا چھیالیسواں حصہ قرار دیا گیا ہے۔
البتہ ان کی تعبیر کا معاملہ خفا میں ہوتا ہے۔
کبھی تو کوئی صاحب علم اس کی حقیقت کو سمجھ لیتا ہے۔
اور کبھی اس کی تہ تک پہنچنے میں ناکام رہتا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5017]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3894
مسلمان اچھا خواب دیکھے یا اس کے بارے میں دیکھا جائے اس کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 3894]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
''مومن''کےلفظ سے ظاہر ہوتا ہے۔
کہ کافر کا خواب سچا بھی ہو تو وہ اللہ کی طرف سے عزت افزائی کا باعث نہیں بلکہ وہ ایسے ہی ہے جیسے کافر کو دنیا میں دوسری نعمتیں اورحکومت وغیرہ دے کر آزمایا جاتا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3894]