صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب ما يكره من التمني:
باب: جس کی تمنا کرنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 7235
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ اسْمُهُ سَعْدُ بْنُ عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ، إِمَّا مُحْسِنًا فَلَعَلَّهُ يَزْدَادُ، وَإِمَّا مُسِيئًا فَلَعَلَّهُ يَسْتَعْتِبُ".
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں ابی عبید نے جن کا نام سعد بن عبید ہے، عبدالرحمٰن بن ازہر کے مولیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی شخص تم میں سے موت کی آرزو نہ کرے، اگر وہ نیک ہے تو ممکن ہے نیکی میں اور زیادہ ہو اور اگر برا ہے تو ممکن ہے اس سے توبہ کر لے۔“ [صحيح البخاري/كتاب التمني/حدیث: 7235]
حضرت عبدالرحمٰن بن ازہر رضی اللہ عنہ کے غلام حضرت ابوعبید سعد بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی بھی موت کی تمنا نہ کرے۔ اگر وہ نیکو کار ہے تو ممکن ہے کہ اسے نیکیوں کی مزید توفیق مل جائے اور اگر بدکار ہے تو شاید اسے توبہ نصیب ہو جائے۔“ [صحيح البخاري/كتاب التمني/حدیث: 7235]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥سعد بن عبيد الزهري، أبو عبيد سعد بن عبيد الزهري ← أبو هريرة الدوسي | ثقة | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← سعد بن عبيد الزهري | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة معمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة ثبت فاضل | |
👤←👥هشام بن يوسف الأبناوي، أبو عبد الرحمن هشام بن يوسف الأبناوي ← معمر بن أبي عمرو الأزدي | ثقة | |
👤←👥عبد الله بن محمد الجعفي، أبو جعفر عبد الله بن محمد الجعفي ← هشام بن يوسف الأبناوي | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
7235
| لا يتمنى أحدكم الموت إما محسنا فلعله يزداد وإما مسيئا فلعله يستعتب |
صحيح مسلم |
6819
| لا يتمنى أحدكم الموت ولا يدع به من قبل أن يأتيه إذا مات أحدكم انقطع عمله وإنه لا يزيد المؤمن عمره إلا خيرا |
سنن النسائى الصغرى |
1819
| لا يتمنين أحد منكم الموت إما محسنا فلعله أن يزداد خيرا وإما مسيئا فلعله أن يستعتب |
سنن النسائى الصغرى |
1820
| لا يتمنين أحدكم الموت إما محسنا فلعله أن يعيش يزداد خيرا وهو خير له وإما مسيئا فلعله أن يستعتب |
صحيفة همام بن منبه |
77
| لا يتمنى أحدكم الموت ولا يدع به من قبل أن يأتيه إذا مات أحدكم انقطع عمله أو قال أجله وإنه لا يزيد المؤمن عمره إلا خيرا |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 7235 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 7235
حدیث حاشیہ:
بعض نسخوں میں یہاں اتنی عبارت اور زائد ہے قال ابو عبد اللہ ابو عبید اسمه سعد بن عبید مولیٰ عبد الرحمن بن أزھر یعنی امام بخاری نے کہا کہ ابو عبیدہ کا نام سعد بن عبید ہے وہ عبد الرحمن بن ازہر کا غلام تھا۔
بعض نسخوں میں یہاں اتنی عبارت اور زائد ہے قال ابو عبد اللہ ابو عبید اسمه سعد بن عبید مولیٰ عبد الرحمن بن أزھر یعنی امام بخاری نے کہا کہ ابو عبیدہ کا نام سعد بن عبید ہے وہ عبد الرحمن بن ازہر کا غلام تھا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7235]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7235
حدیث حاشیہ:
اس حدیث میں نیکوکار انسان کے لیے بشارت اور خوشخبری ہے اور بدکار کے لیے تنبیہ ہے گویا اس کہا گیا ہے:
اگر وہ نیکوکار ہے تو موت کی تمنا ترک کر دے بلکہ مزید نیکیاں کرے اور جو بدکار ہے وہ بھی موت کی آرزو نہ کرے بلکہ بُرائیوں سے بچنے کی کوشش کرے تاکہ اس کا خاتمہ خراب نہ ہو کیونکہ یہ بہت خطرناک معاملہ ہے، یعنی مومن اگر زندہ رہے گا تو اس سے نیکیوں میں اضافے کی توقع ہے اورگناہ گار بھی موت کی تمنا نہ کرے کہ اس سے توبہ کی اُمید ہے۔
اللہ تعالیٰ کا یہ احسان عظیم موت کی تمنا سے کہیں بڑھ کر ہے۔
(فتح الباري: 273/13)
اس حدیث میں نیکوکار انسان کے لیے بشارت اور خوشخبری ہے اور بدکار کے لیے تنبیہ ہے گویا اس کہا گیا ہے:
اگر وہ نیکوکار ہے تو موت کی تمنا ترک کر دے بلکہ مزید نیکیاں کرے اور جو بدکار ہے وہ بھی موت کی آرزو نہ کرے بلکہ بُرائیوں سے بچنے کی کوشش کرے تاکہ اس کا خاتمہ خراب نہ ہو کیونکہ یہ بہت خطرناک معاملہ ہے، یعنی مومن اگر زندہ رہے گا تو اس سے نیکیوں میں اضافے کی توقع ہے اورگناہ گار بھی موت کی تمنا نہ کرے کہ اس سے توبہ کی اُمید ہے۔
اللہ تعالیٰ کا یہ احسان عظیم موت کی تمنا سے کہیں بڑھ کر ہے۔
(فتح الباري: 273/13)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7235]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1820
موت کی آرزو و تمنا۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں کا کوئی (بھی) ہرگز موت کی آرزو و تمنا نہ کرے (کیونکہ) اگر وہ نیک ہے تو شاید زندہ رہے (اور) زیادہ نیکی کرے، اور یہ اس کے لیے بہتر ہے، اور اگر گناہ گار ہے تو ہو سکتا ہے گنا ہوں سے توبہ کر لے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1820]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں کا کوئی (بھی) ہرگز موت کی آرزو و تمنا نہ کرے (کیونکہ) اگر وہ نیک ہے تو شاید زندہ رہے (اور) زیادہ نیکی کرے، اور یہ اس کے لیے بہتر ہے، اور اگر گناہ گار ہے تو ہو سکتا ہے گنا ہوں سے توبہ کر لے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1820]
1820۔ اردو حاشیہ: موت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ کسی کے مانگنے یا روکنے سے موت آگے پیچھے نہیں ہو سکتی تو پھر کیا فائدہ ایسی چیز مانگنے کا جو مانگنے سے مل نہیں سکتی بلکہ اس کا وقت مقرر ہے۔ اس کے بجائے وہ میسر زندگی کو نیکی کے اضافے اور توبہ و مغفرت کے لیے استعمال کرے کیونکہ یہ چیزیں اس کے اختیار میں ہیں۔ انسان اپنی اختیاری چیزوں کی فکر کرے، غیراختیاری چیزوں کواللہ تعالیٰ پر چھوڑ دے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1820]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6819
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو بہت سی احادیث ہمام بن منبہ رحمۃ اللہ علیہ کو سنائی تھیں ان میں سے ایک یہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"تم میں سے کوئی اپنی موت کی تمنا نہ کرے اور نہ اس کی آمدسے پہلے اس کے لیے دعا کرے، کیونکہ جب تم میں سے کوئی مرجائے گا تو اس کے عمل کا سلسلہ منقطع ہو جائے گا اور بندہ مومن کی عمر تو اس کے لیے خیر ہی میں اضافہ کا وسیلہ ہے۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6819]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اسلام مومن کے سامنے اس کی زندگی کا روشن پہلو ہی رکھتا ہے،
تاریک پہلو سے بچاتا ہے،
اس لیے عمر کے اضافہ سے حسنات و طاعات کے اضافہ کی امید دلائی،
گناہوں میں گرفتار ہونے کا تذکرہ نہیں کیا،
کیونکہ ایک مومن سے نیکیوں کی ہی امید کرنی چاہیے اور گناہوں سے توبہ و استغفار کی توقع کرنا چاہیے۔
فوائد ومسائل:
اسلام مومن کے سامنے اس کی زندگی کا روشن پہلو ہی رکھتا ہے،
تاریک پہلو سے بچاتا ہے،
اس لیے عمر کے اضافہ سے حسنات و طاعات کے اضافہ کی امید دلائی،
گناہوں میں گرفتار ہونے کا تذکرہ نہیں کیا،
کیونکہ ایک مومن سے نیکیوں کی ہی امید کرنی چاہیے اور گناہوں سے توبہ و استغفار کی توقع کرنا چاہیے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6819]
Sahih Bukhari Hadith 7235 in Urdu
سعد بن عبيد الزهري ← أبو هريرة الدوسي