🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
35. باب قول الله تعالى: {يريدون أن يبدلوا كلام الله} :
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ الفتح) ارشاد ”یہ گنوار چاہتے ہیں کہ اللہ کا کلام بدل دیں“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7507
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي عَمْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ عَبْدًا أَصَابَ ذَنْبًا، وَرُبَّمَا قَالَ: أَذْنَبَ ذَنْبًا، فَقَالَ: رَبِّ أَذْنَبْتُ، وَرُبَّمَا قَالَ: أَصَبْتُ، فَاغْفِرْ لِي، فَقَالَ رَبُّهُ: أَعَلِمَ عَبْدِي أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِهِ، غَفَرْتُ لِعَبْدِي، ثُمَّ مَكَثَ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ أَصَابَ ذَنْبًا أَوْ أَذْنَبَ ذَنْبًا، فَقَالَ: رَبِّ، أَذْنَبْتُ أَوْ أَصَبْتُ آخَرَ، فَاغْفِرْهُ، فَقَالَ: أَعَلِمَ عَبْدِي أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِهِ، غَفَرْتُ لِعَبْدِي، ثُمَّ مَكَثَ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ أَذْنَبَ ذَنْبًا، وَرُبَّمَا قَالَ: أَصَابَ ذَنْبًا، قَالَ: قَالَ رَبِّ، أَصَبْتُ أَوْ قَالَ أَذْنَبْتُ آخَرَ: فَاغْفِرْهُ لِي، فَقَالَ: أَعَلِمَ عَبْدِي أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِهِ، غَفَرْتُ لِعَبْدِي ثَلَاثًا، فَلْيَعْمَلْ مَا شَاءَ".
ہم سے احمد بن اسحاق نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عمرو بن عاصم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، انہوں نے ہم سے اسحاق بن عبداللہ نے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ سے سنا، کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک بندے نے بہت گناہ کئے اور کہا: اے میرے رب! میں تیرا ہی گنہگار بندہ ہوں تو مجھے بخش دے۔ اللہ رب العزت نے فرمایا: میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا کوئی رب ضرور ہے جو گناہ معاف کرتا ہے اور گناہ کی وجہ سے سزا بھی دیتا ہے میں نے اپنے بندے کو بخش دیا پھر بندہ رکا رہا جتنا اللہ نے چاہا اور پھر اس نے گناہ کیا اور عرض کیا: اے میرے رب! میں نے دوبارہ گناہ کر لیا، اسے بھی بخش دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا رب ضرور ہے جو گناہ معاف کرتا ہے اور اس کے بدلے میں سزا بھی دیتا ہے، میں نے اپنے بندے کو بخش دیا۔ پھر جب تک اللہ نے چاہا بندہ گناہ سے رکا رہا اور پھر اس نے گناہ کیا اور اللہ کے حضور میں عرض کیا: اے میرے رب! میں نے گناہ پھر کر لیا ہے تو مجھے بخش دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا ایک رب ضرور ہے جو گناہ معاف کرتا ورنہ اس کی وجہ سی سزا بھی دیتا ہے میں نے اپنے بندے کو بخش دیا۔ تین مرتبہ، پس اب جو چاہے عمل کرے۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7507]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن أبي عمرة الأنصاري
Newعبد الرحمن بن أبي عمرة الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي
مختلف في صحبته
👤←👥إسحاق بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو يحيى، أبو نجيح
Newإسحاق بن عبد الله الأنصاري ← عبد الرحمن بن أبي عمرة الأنصاري
ثقة حجة
👤←👥همام بن يحيى العوذي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهمام بن يحيى العوذي ← إسحاق بن عبد الله الأنصاري
ثقة
👤←👥عمرو بن عاصم القيسي، أبو عثمان
Newعمرو بن عاصم القيسي ← همام بن يحيى العوذي
صدوق حسن الحديث
👤←👥أحمد بن إسحاق السلمي، أبو إسحاق
Newأحمد بن إسحاق السلمي ← عمرو بن عاصم القيسي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
7507
عبدا أصاب ذنبا وربما قال أذنب ذنبا فقال رب أذنبت وربما قال أصبت فاغفر لي فقال ربه أعلم عبدي أن له ربا يغفر الذنب ويأخذ به غفرت لعبدي ثم مكث ما شاء الله ثم أصاب ذنبا أو أذنب ذنبا فقال رب أذنبت أو أصبت آخر فاغفره فقال أعلم عبدي أن له ربا يغفر الذنب ويأخذ به
صحيح مسلم
6986
أذنب عبد ذنبا فقال اللهم اغفر لي ذنبي فقال تبارك و أذنب عبدي ذنبا فعلم أن له ربا يغفر الذنب ويأخذ بالذنب ثم عاد فأذنب فقال أي رب اغفر لي ذنبي فقال تبارك و عبدي أذنب ذنبا فعلم أن له ربا يغفر الذنب ويأخذ بالذنب ثم عاد فأذنب فقال أي رب اغفر لي ذنبي
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 7507 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 7507
حدیث حاشیہ:
حضرت امام بخاری کامقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام کرنا حق ہے۔
اس حدیث میں بھی اللہ کا کلام ایک گہنگار کے متعلق مذکور ہے اور یہ بتلانا بھی مقصد ہے کہ قرآن مجید اللہ کا کلام ہے مگر قرآن مجید کےعلاوہ بھی اللہ کلام کرتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صادق المصدوق ہیں۔
آپ نے یہ کلام نقل فرمایا ہے جو لوگ اللہ کے کلام کا انکار کرتےہیں، ان کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صادق المصدوق نہیں ہیں۔
اس حدیث سے استغفار کی بھی بڑی فضیلت ثابت ہوئی بشرطیکہ گناہوں سے تائب ہوتا جائے اور استغفار کرتا رہے تو اس کو ضررنہ ہوگا۔
استغفار کی تین شرطیں ہیں۔
گناہ سے الگ ہو جانا، نادم ہونا، آگے کے لیے یہ نیت کرنا کہ اب نہ کروں گا۔
اس نیت کے ساتھ اگر پھر گناہ ہو جائے تو پھر استغفار کرے۔
دوسری حدیث میں ہے اگر ایک دن میں ستر وہی گناہ کرے لیکن استغفار کرتا رہے تو اس نے اصرار نہیں کیا۔
اصرار کے یہ معنی ہیں کہ گناہ پر نادم نہ ہو اس کے پھر کرنے کی نیت رکھے۔
صرف زبان سےاستغفار کرتا رہے کہ ایسا استغفار خود استغفار کے قابل ہے۔
اللهم إنانستغفرك ونتوب إليك فاغفرلنا ياخيرالغافرين آمين-
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7507]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7507
حدیث حاشیہ:

مذکورہ حدیث پیش کرنے سےامام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام کرنا مبنی برحقیقت ہے، چنانچہ اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کا ایک گناہ گار کے متعلق گفتگو کرنا مذکور ہے، نیز یہ بتانا بھی مقصود ہے کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے مگر قرآن کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ کلام کرتا ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کلام الٰہی کو ذکرکیا ہے۔
جو لوگ اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتے ہیں وہ گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے منکر ہیں۔

اس حدیث سے استغفار کی فضیلت بھی ثابت ہوتی ہے اور استغفار کی تین شرطیں ہیں:
گناہ چھوڑنا، اس پر شرمسار ہونا، پھر اس کے نہ کرنے کا عزم بالجزم (پختہ ارادہ)
کرنا، اگر اس نیت کے ساتھ، پھر گناہ ہو جائے تو استغفار کرنے سے وہ گناہ ختم ہو جائے گا بشرط یہ کہ گناہ پر اصرار نہ کرے۔
اصرار کے معنی ہیں:
گناہ پر نادم ہونے کی بجائے اس کے ارتکاب کی نیت رکھے۔
صرف زبانی استغفار پر اکتفا نہ کرے۔
ایسا زبانی استغفار جو دل کی گہرائی سے نہ ہو بجائے خود استغفار کے قابل ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7507]