صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
44. باب قول الله تعالى: {وأسروا قولكم أو اجهروا به إنه عليم بذات الصدور ألا يعلم من خلق وهو اللطيف الخبير} :
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ الملک میں) ارشاد ”اپنی بات آہستہ سے کہو یا زور سے اللہ تعالیٰ دل کی باتوں کو جاننے والا ہے۔ کیا وہ اسے نہیں جانے گا جو اس نے پیدا کیا اور وہ بہت باریک دیکھنے والا اور خبردار ہے“۔
حدیث نمبر: 7527
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ" وَزَادَ غَيْرُهُ يَجْهَرُ بِهِ.
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعاصم نے، کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی، کہا ہم کو ابن شہاب نے خبر دی، انہیں ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو خوش آوازی سے قرآن نہیں پڑھتا وہ ہم مسلمانوں کے طریق پر نہیں ہے۔“ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے سوا دوسرے لوگوں نے اس حدیث میں اتنا زیادہ کیا ہے یعنی اس کو پکار کر نہ پڑھے۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7527]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي | ثقة إمام مكثر | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد ابن جريج المكي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة | |
👤←👥الضحاك بن مخلد النبيل، أبو عاصم الضحاك بن مخلد النبيل ← ابن جريج المكي | ثقة ثبت | |
👤←👥إسحاق بن منصور الكوسج، أبو يعقوب إسحاق بن منصور الكوسج ← الضحاك بن مخلد النبيل | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
7527
| ليس منا من لم يتغن بالقرآن |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 7527 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 7527
حدیث حاشیہ:
اگلی حدیث اوراس حدیث سے امام بخاری یہ نکالا کہ ہمارے منہ سے جو قرآن کے الفاظ نکلتے ہیں وہ الفاظ قرآن غیر مخلوق ہیں مگرہمارا فعل مخلوق ہے۔
امام بخاری نےفرمایا کہ جومجھ سے یوں نقل کرتا ہے کہ لفظي بالقرآن مخلوق وہ جھوٹا ہے میں نے یہ نہیں کہا بلکہ صرف یہ کہا تھا کہ ہمارے افعال مخلوق ہیں اور بس۔
قرآن مجید اس کا کلام غیرمخلوق ہے یہی سلف صالحین اہل حدیث کاعقیدہ ہے اور یہی امام بخاری کا۔
اگلی حدیث اوراس حدیث سے امام بخاری یہ نکالا کہ ہمارے منہ سے جو قرآن کے الفاظ نکلتے ہیں وہ الفاظ قرآن غیر مخلوق ہیں مگرہمارا فعل مخلوق ہے۔
امام بخاری نےفرمایا کہ جومجھ سے یوں نقل کرتا ہے کہ لفظي بالقرآن مخلوق وہ جھوٹا ہے میں نے یہ نہیں کہا بلکہ صرف یہ کہا تھا کہ ہمارے افعال مخلوق ہیں اور بس۔
قرآن مجید اس کا کلام غیرمخلوق ہے یہی سلف صالحین اہل حدیث کاعقیدہ ہے اور یہی امام بخاری کا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7527]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7527
حدیث حاشیہ:
1۔
مذکورہ احادیث مختلف الفاظ سے بیان ہوئی ہے۔
روایت کے آخر میں باآواز بلند تلاوت کرنے کا اضافہ راوی حدیث محمد بن ابراہیم التیمی کا بیان کردہ ہے۔
(فتح الباري: 625/13)
حدیث میں بیان کی گئی وعید کا مطلب یہ نہیں کہ ایسا انسان دین سے خارج ہے بلکہ قرآن مجید کو خوبصورت آواز سے نہ پڑھنے والارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر نہیں ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوش الحانی اور باآواز بلند قرآن کی تلاوت کیاکرتے تھے۔
2۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث سے ثابت کیا ہے کہ ہمارے منہ سے جو قرآن کے الفاظ نکلتے ہیں وہ غیر مخلوق مگر ہماری زبان کا حرکت کرنا اور ان الفاظ کا ادا کرنا ہمارا فعل ہے اور یہ فعل مخلوق ہے۔
گویا امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے تلاوت اور متلو میں فرق کو واضح کیا ہے کہ قرآنی الفاظ کو خوبصورت انداز سے پڑھنا اورباآواز بلند ادا کرنا یہ ہمارا فعل ہے جو اللہ تعالیٰ کا پیدا کیا ہوا ہے، ہم اس کے خالق نہیں ہیں۔
1۔
مذکورہ احادیث مختلف الفاظ سے بیان ہوئی ہے۔
روایت کے آخر میں باآواز بلند تلاوت کرنے کا اضافہ راوی حدیث محمد بن ابراہیم التیمی کا بیان کردہ ہے۔
(فتح الباري: 625/13)
حدیث میں بیان کی گئی وعید کا مطلب یہ نہیں کہ ایسا انسان دین سے خارج ہے بلکہ قرآن مجید کو خوبصورت آواز سے نہ پڑھنے والارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر نہیں ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوش الحانی اور باآواز بلند قرآن کی تلاوت کیاکرتے تھے۔
2۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث سے ثابت کیا ہے کہ ہمارے منہ سے جو قرآن کے الفاظ نکلتے ہیں وہ غیر مخلوق مگر ہماری زبان کا حرکت کرنا اور ان الفاظ کا ادا کرنا ہمارا فعل ہے اور یہ فعل مخلوق ہے۔
گویا امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے تلاوت اور متلو میں فرق کو واضح کیا ہے کہ قرآنی الفاظ کو خوبصورت انداز سے پڑھنا اورباآواز بلند ادا کرنا یہ ہمارا فعل ہے جو اللہ تعالیٰ کا پیدا کیا ہوا ہے، ہم اس کے خالق نہیں ہیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7527]
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي