🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
164. باب صلاة النساء خلف الرجال:
باب: عورتوں کا مردوں کے پیچھے نماز پڑھنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 870
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ هِنْدٍ بِنْتِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ، قَامَ النِّسَاءُ حِينَ يَقْضِي تَسْلِيمَهُ، وَيَمْكُثُ هُوَ فِي مَقَامِهِ يَسِيرًا قَبْلَ أَنْ يَقُومَ، قَالَ: نَرَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ لِكَيْ يَنْصَرِفَ النِّسَاءُ قَبْلَ أَنْ يُدْرِكَهُنَّ أَحَدٌ مِنِ الرِّجَالِ".
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے زہری سے بیان کیا، ان سے ہند بنت حارث نے بیان کیا، اس سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سلام پھیرتے ہی عورتیں جانے کے لیے اٹھ جاتی تھیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر ٹھہرے رہتے کھٹرے نہ ہوتے۔ زہری نے کہا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں، آگے اللہ جانے، یہ اس لیے تھا تاکہ عورتیں مردوں سے پہلے نکل جائیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 870]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أم سلمة زوج النبي، أم سلمةصحابية
👤←👥هند بنت الحارث الفراسية
Newهند بنت الحارث الفراسية ← أم سلمة زوج النبي
ثقة
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← هند بنت الحارث الفراسية
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥إبراهيم بن سعد الزهري، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن سعد الزهري ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة حجة
👤←👥يحيى بن قزعة القرشي
Newيحيى بن قزعة القرشي ← إبراهيم بن سعد الزهري
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
866
إذا سلمن من المكتوبة قمن ثبت رسول الله ومن صلى من الرجال ما شاء الله فإذا قام رسول الله قام الرجال
صحيح البخاري
849
إذا سلم يمكث في مكانه يسيرا
صحيح البخاري
837
إذا سلم قام النساء حين يقضي تسليمه ومكث يسيرا قبل أن يقوم
صحيح البخاري
870
إذا سلم قام النساء حين يقضي تسليمه ويمكث هو في مقامه يسيرا قبل أن يقوم
صحيح البخاري
875
إذا قام النساء حين يقضى تسليمه وهو يمكث في مقامه يسيرا قبل أن يقوم
سنن أبي داود
1040
إذا سلم مكث قليلا
سنن النسائى الصغرى
1334
إذا سلمن من الصلاة قمن ثبت رسول الله ومن صلى من الرجال ما شاء الله فإذا قام رسول الله قام الرجال
سنن ابن ماجه
932
إذا سلم قام النساء حين يقضي تسليمه ثم يلبث في مكانه يسيرا قبل أن يقوم
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 870 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:870
حدیث حاشیہ:
اس حدیث کی عنوان سے مطابقت اس طرح ہے کہ اگر عورتیں مردوں کے آگے ہوتیں تو مردوں سے پہلے پہلے جانے کی یہی صورت ہو سکتی تھی کہ وہ ان کی گردنوں کو پھلانگتی ہوئی مسجد سے نکلتیں، حالانکہ اس کی ممانعت ہے، اس لیے لازمی طور پر ان کی صفیں پیچھے ہوتی تھیں تاکہ اس حکم امتناعی کا ارتکاب نہ ہو۔
(فتح الباري: 453/2)
علامہ عینی ؒ نے لکھا ہے کہ عنوان بالا سے مقصود یہ ہے کہ عورتوں کی صفیں مردوں سے پیچھے ہوں کیونکہ انہیں ستر کی ضرورت ہے اور مردوں کے پیچھے رہنے ہی میں ان کے لیے زیادہ ستر ممکن ہے۔
(عمدة القاري: 651/4)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 870]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1334
سلام پھیرنے اور مقتدیوں کی طرف پلٹنے کے درمیان امام کی بیٹھک کا بیان۔
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عورتیں جب نماز سے سلام پھیرتیں تو کھڑی ہو جاتیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مردوں میں سے جو لوگ نماز میں ہوتے بیٹھے رہتے جب تک اللہ چاہتا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے تو مرد بھی کھڑے ہو جاتے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1334]
1334۔ اردو حاشیہ:
➊ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ باب کا مقصد یہ ہے کہ سلام پھیرنے اور اٹھ کر جانے کے درمیان کچھ دیر تک ذکر اذکار کے لیے بیٹھنا چاہیے۔ ممکن ہے دونوں جگہ بیٹھنا مراد ہو۔ مقتدیوں کی طرف متوجہ ہونے سے پہلے قبلہ رخ بیٹھنا اور اٹھ کر چلے جانے سے پہلے ذکر اذکار کے لیے مقتدیوں کی طرف متوجہ ہو کر بیٹھنا دونوں مسنون ہیں۔ جماعت ختم ہونے کے فوراًً بعد اٹھ جانا معیوب اور سنت کے خلاف ہے الا یہ کہ کوئی عذر ہو بلکہ نماز کے اختتام کے بعد قبلہ رخ بیٹھ کر ذکر اذکار اور ادعیۂ ماثورہ پڑھنا مستحب و مسنون ہے، علاوہ امام کے کہ وہ مقتدیوں کی طرف رخ کر کے بیٹھے گا۔
➋ امام کو مقتدیوں کے احوال کا خیال رکھنا چاہیے۔
➌ اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ ان اسباب سے بھی بچنا چاہیے جو ممنوعات تک پہنچانے والے ہوں۔
➍ تہمت والے مقامات سے بچنا چاہیے۔
➎ عورتیں مسجد میں نماز باجماعت کے ساتھ شامل ہو سکتی ہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1334]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1040
نماز سے فارغ ہو کر مردوں سے پہلے عورتوں کے واپس جانے کا بیان۔
ام المؤمنین ام سلمی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب (نماز سے) سلام پھیرتے تو تھوڑی دیر ٹھہر جاتے، لوگ سمجھتے تھے کہ یہ اس وجہ سے ہے تاکہ عورتیں مردوں سے پہلے چلی جائیں۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1040]
1040۔ اردو حاشیہ:
اسلامی معاشرے میں مردوں اور عورتوں کا بغیر پردے کے بے ہنگم ازدحام اور میل جول قطعاً پسندیدہ نہیں ہے۔ اور مسلمان حضرات و خواتین کو چاہیے کہ شبہے اور تہمت کے مواقع سے ہمیشہ دور رہیں اور اختلاط سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1040]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث932
نماز کے بعد امام کے دائیں یا بائیں طرف پھرنے کا بیان۔
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو عورتیں آپ کے سلام پھیرتے ہی کھڑی ہو جاتیں، اور آپ کھڑے ہونے سے پہلے اپنی جگہ پر تھوڑی دیر ٹھہرے رہتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 932]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
عورتوں کا مردوں کے ساتھ جماعت میں شریک ہونامسنون ہے۔
تاہم ان کا گھر میں نماز پڑھنا افضل ہے۔
دیکھئے: (سنن ابی داؤد، الصلاۃ، باب ماجاء فی خروج النساء إلی المسجد، حدیث: 567)

(2)
سلام پھیرنے کے بعد عورتوں کے جلدی اٹھ جانے میں یہ حکمت ہے۔
کہ مردوں سے اختلاط نہ ہو۔
عورتوں کی صفیں بھی اسی لیے پیچھے ہوتی ہیں۔
کہ وہ جلدی مسجد سے نکل جایئں۔
آجکل عورتیں جمعہ کی نماز کےلئے مسجد میں اور عیدین کی نماز کے لئے عید گاہ میں جاتی ہیں۔
ان کی جگہیں اور دروازے اگرچہ مردوں سے الگ ہوتے ہیں۔
لیکن باہر نکل کر گزرگاہوں میں مردوں سے اختلاط ہوجاتا ہے۔
جس سے بچنے کا اہتمام نہیں کیا جاتا ظاہر بات ہے کہ یہ بات شرعاً نا مناسب ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 932]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 837
837. حضرت ام سلمہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تھے تو خواتین آپ کے سلام پھیرتے ہی کھڑی ہو کر اپنے گھروں کو روانہ ہو جاتی تھیں اور آپ کھڑے ہونے سے پہلے کچھ دیر ٹھہر جاتے۔ ابن شہاب کہتے ہیں کہ اصل علم تو اللہ تعالیٰ کو ہے، البتہ جو میں سمجھا ہوں وہ یہ ہے کہ آپ اس لیے کچھ دیر ٹھہرے رہتے تھے تاکہ خواتین جلدی چلی جائیں قبل ازیں کہ مرد حضرات نماز سے فارغ ہو کر انہیں پا سکیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:837]
حدیث حاشیہ:
سلام پھیرنا امام احمد اور شافعی اور مالک اور جمہورعلماءاور اہل حدیث کے نزدیک فرض اور نماز کا ایک رکن ہے لیکن امام ابو حنیفہ ؒ لفظ سلام کو فرض نہیں جانتے بلکہ نماز کے خلاف کوئی کام کرکے نماز سے نکلنا فرض جانتے ہیں اور ہماری دلیل یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ سلام پھیرا اور فرمایا کہ نماز سے نکلنا سلام پھیرنا ہے (مولانا وحید الزماں مرحوم)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 837]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 866
866. نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت ام سلمہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں خواتین فرض نماز سے سلام پھیرنے کے فورا بعد اٹھ جاتی تھیں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مرد حضرات جس قدر اللہ کو منظور ہوتا نماز کے بعد اپنی جگہ پر بیٹھے رہتے۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھتے تو دوسرے مرد بھی کھڑے ہو جاتے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:866]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے بھی عورتوں کا جماعت میں شریک ہونا ثابت ہوا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 866]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:837
837. حضرت ام سلمہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تھے تو خواتین آپ کے سلام پھیرتے ہی کھڑی ہو کر اپنے گھروں کو روانہ ہو جاتی تھیں اور آپ کھڑے ہونے سے پہلے کچھ دیر ٹھہر جاتے۔ ابن شہاب کہتے ہیں کہ اصل علم تو اللہ تعالیٰ کو ہے، البتہ جو میں سمجھا ہوں وہ یہ ہے کہ آپ اس لیے کچھ دیر ٹھہرے رہتے تھے تاکہ خواتین جلدی چلی جائیں قبل ازیں کہ مرد حضرات نماز سے فارغ ہو کر انہیں پا سکیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:837]
حدیث حاشیہ:
(1)
تعارض ادلہ اور قوتِ اختلاف کی بنا پر امام بخاری ؒ نے اختتام نماز کے موقع پر سلام کے متعلق فیصلہ نہیں کیا کہ یہ واجب ہے یا سنت۔
ممکن ہے کہ مذکورہ حدیث کے ان الفاظ سے وجوب ثابت کیا جائے کہ جب آپ سلام پھیرتے تھے کیونکہ اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ کا پتہ چلتا ہے۔
اور آپ نے فرمایا ہے:
اس طرح نماز پڑھو جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔
اس کے علاوہ ایک اور حدیث ہے کہ نماز کو صرف سلام کے ساتھ ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔
(فتح الباري: 417/2) (2)
ہمارے نزدیک نماز کے آخر میں سلام پھیرنا ایک رکن کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ حضرت علی ؓ سے مروی ایک حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ نماز کو صرف سلام ہی سے ختم کیا جا سکتا ہے۔
(سنن أبي داود، الصلاة، حدیث: 618)
حدیث کے الفاظ تحليلها میں اضافت حصر کا فائدہ دیتی ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ لا تحليل لها غيره، یعنی سلام کے علاوہ کسی چیز سے نماز کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی پر مداومت اختیار فرمائی۔
حدیث میں ہے کہ آپ سلام کے ساتھ نماز ختم کرتے تھے۔
(صحیح مسلم، الصلاة، حدیث: 1110(498)
ان احادیث کے پیش نظر ان حضرات کا موقف محل نظر ہے جو کہتے ہیں کہ نمازی اپنے کسی بھی فعل کے ذریعے سے نماز سے نکل سکتا ہے۔
اس سلسلے میں یہ حضرات ایک حدیث پیش کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جب امام نماز مکمل کر کے بیٹھ جائے اور سلام پھیرنے سے قبل بے وضو ہو جائے تو اس کی نماز پوری ہو گی۔
(سنن أبي داود، الصلاة، حدیث: 617)
اس کی سند میں عبدالرحمٰن بن زیاد افریقی ہے جس کے متعلق علامہ نووی ؒ فرماتے ہیں کہ حفاظ کے فیصلے کے مطابق یہ راوی ضعیف ہے۔
(المجموع للنووي: 462/3) (3)
اس حدیث میں سلام کی تعداد کا بھی ذکر نہیں ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود اور سعد بن ابی وقاص ؓ سے مروی احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ سلام دو طرف، یعنی دائیں اور بائیں پھیرنا چاہیے۔
(فتح الباري: 417/2)
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دائیں اور بائیں جانب اسی طرح سلام کہتے تھے:
(السلام عليكم ورحمة الله، السلام عليكم ورحمة الله) (سنن أبي داود، الصلاة، حدیث: 996)
حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے بھی اس کے ہم معنی حدیث مروی ہے۔
(سنن الدارقطني: 356/1)
حضرت وائل بن حجر ؓ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی آپ دائیں طرف سلام پھیرتے تو کہتے "السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته" اور بائیں طرف پھیرتے تو کہتے "السلام علیکم ورحمة اللہ" یعنی صرف دائیں طرف والے سلام میں "وبرکاته" کا اضافہ کرتے۔
(سنن أبي داود، الصلاة، حدیث: 997) (4)
تین سلام کے متعلق کوئی قابل اعتبار حدیث مروی نہیں ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 837]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:849
849. حضرت ام سلمہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو کچھ دیر اپنی جگہ پر بیٹھے رہتے۔ ابن شہاب کہتے ہیں کہ ہمارے خیال کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ اس لیے کرتے تھے تاکہ عورتیں (مردوں سے) پہلے چلی جائیں۔ واللہ أعلم۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:849]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ امام نماز سے فراغت کے بعد کچھ دیر کے لیے اپنے مصلی پر ٹھہر سکتا ہے۔
عہد نبوی میں سنت یہی تھی کہ مرد حضرات اتنی دیر تک ٹھہرے رہتے کہ عورتیں مسجد سے نکل کر اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو جائیں تاکہ مردوں کا عورتوں سے اختلاط نہ ہو۔
اس روایت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کم از کم اپنے مصلے پر ٹھہرنے کا پتہ چلتا ہے۔
(فتح الباري: 434/2)
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 849]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:866
866. نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت ام سلمہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں خواتین فرض نماز سے سلام پھیرنے کے فورا بعد اٹھ جاتی تھیں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مرد حضرات جس قدر اللہ کو منظور ہوتا نماز کے بعد اپنی جگہ پر بیٹھے رہتے۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھتے تو دوسرے مرد بھی کھڑے ہو جاتے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:866]
حدیث حاشیہ:
(1)
بنیادی طور پر اس حدیث کا تعلق عنوان سابق سے ہے کہ مستورات مسجد میں نماز کے لیے آ سکتی ہیں۔
(2)
اس حدیث سے ایک نیا مسئلہ معلوم ہوا کہ ہنگامی حالات کے پیش نظر لوگوں کو چاہیے کہ وہ نماز سے فراغت کے بعد اپنے امام کے اٹھنے کا انتظار کریں۔
جب وہ اٹھے تو دوسرے لوگ بھی کھڑے ہو کر اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوں۔
امام بخاری ؒ نے اس پر متنبہ کرنے کے لیے ایک عنوان قائم کر دیا ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 866]

Sahih Bukhari Hadith 870 in Urdu