🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب المشي والركوب إلى العيد بغير أذان ولا إقامة:
باب: نماز عید کے لیے پیدل یا سوار ہو کر جانا اور نماز کا، خطبہ سے پہلے، اذان اور اقامت کے بغیر ہونا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 957
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي فِي الْأَضْحَى وَالْفِطْرِ ثُمَّ يَخْطُبُ بَعْدَ الصَّلَاةِ".
ہم سے ابراہیم بن المنذر حزامی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا، انہوں نے عبیداللہ بن عمر سے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی اور عیدالفطر کی نماز پہلے پڑھتے پھر نماز کے بعد خطبہ دیتے۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 957]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥عبيد الله بن عمر العدوي، أبو عثمان
Newعبيد الله بن عمر العدوي ← نافع مولى ابن عمر
ثقة ثبت
👤←👥أنس بن عياض الليثي، أبو ضمرة
Newأنس بن عياض الليثي ← عبيد الله بن عمر العدوي
ثقة
👤←👥إبراهيم بن المنذر الحزامي، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن المنذر الحزامي ← أنس بن عياض الليثي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
963
يصلون العيدين قبل الخطبة
صحيح البخاري
957
يصلي في الأضحى والفطر ثم يخطب بعد الصلاة
صحيح مسلم
2052
يصلون العيدين قبل الخطبة
جامع الترمذي
538
خرج في يوم عيد فلم يصل قبلها ولا بعدها
جامع الترمذي
531
يصلون في العيدين قبل الخطبة ثم يخطبون
سنن النسائى الصغرى
1565
يصلون العيدين قبل الخطبة
سنن ابن ماجه
1276
يصلون العيد قبل الخطبة
بلوغ المرام
390
يصلون العيدين قبل الخطبة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 957 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 957
حدیث حاشیہ:
باب کی حدیثوں میں سے نہیں نکلتا کہ عید کی نماز کے لیے سواری پر جانا یا پیدل جانا مگر امام بخاری ؒ نے سواری پر جانے کی ممانعت مذکور نہ ہونے سے یہ نکالا کہ سواری پر بھی جانا منع نہیں ہے گو پیدل جانا افضل ہے۔
شافعی نے کہا ہمیں زہری سے پہنچا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عید میں یا جنازے میں کبھی سوار ہو کر نہیں گئے اور ترمذی نے حضرت علی سے نکالا کہ عید کی نماز کے لیے پیدل جانا سنت ہے۔
(وحیدی)
اس باب کی روایات میں نہ پیدل چلنے کا ذکر ہے نہ سوار ی پر چلنے کی ممانعت ہے جس سے امام بخاری ؒ نے اشارہ فرمایا کہ ہر دو طرح سے عید گاہ جانا درست ہے، اگر چہ پیدل چلنا سنت ہے اور اسی میں زیادہ ثواب ہے کیونکہ زمین پر جس قدر بھی نقش قدم ہوں گے ہر قدم کے بدلے دس دس نیکیوں کا ثواب ملے گا لیکن اگر کوئی معذور ہو یا عیدگاہ دور ہو تو سواری کا استعمال بھی جائز ہے۔
بعض شارحین نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بلال ؓ پر تکیہ لگانے سے سواری کا جواز ثابت کیا ہے۔
واللہ أعلم۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 957]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1565
عیدین کی نماز خطبہ سے پہلے پڑھنے کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم عیدین کی نماز خطبہ سے پہلے پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1565]
1565۔ اردو حاشیہ: یہ بات متفق علیہ ہے۔ بنوامیہ نے اپنے دور میں خطبہ نماز سے پہلے کر دیا تھا مگر یہ شاہی حکم ان کی حکو مت ختم ہونے کے ساتھ ہی ختم ہو گیا۔ بقا سنت ہی کو ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1565]

علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 390
نماز عیدین کا بیان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ عیدین کی نماز خطبہ (عیدین) سے پہلے پڑھتے تھے۔ (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 390»
تخریج:
«أخرجه البخاري، العيدين، باب الخطبة بعد العيد، حديث:963، ومسلم، صلاة العيدين، حديث:888.»
تشریح:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عیدین میں نماز پہلے ادا کی جائے اور خطبہ بعد میں۔
بنو امیہ کے دور میں مروان بن حکم وہ پہلا حکمران ہے جس نے نماز سے پہلے خطبہ دینے کا آغاز کیا۔
اسی وقت حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے اس پر احتجاج کیا اور برملا کہا کہ تو نے سنت کے خلاف کیا ہے۔
(صحیح مسلم‘ صلاۃ العیدین‘ باب صلاۃ العیدین‘ حدیث:۸۸۹)
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 390]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 531
عیدین کی نماز خطبہ سے پہلے ہونے کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی الله عنہما عیدین کی نماز خطبہ سے پہلے پڑھتے اور اس کے بعد خطبہ دیتے تھے۔ [سنن ترمذي/أبواب العيدين/حدیث: 531]
اردو حاشہ: 1 ؎:
مگر ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے اس بدعت کی ایجاد سے روک دیا تھا رضی اللہ عنہ وارضاہ۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 531]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:963
963. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر ؓ عیدین کی نماز خطبے سے پہلے پڑھتے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:963]
حدیث حاشیہ:
(1)
قبل ازیں حدیث میں بیان ہوا ہے کہ نماز عید سے قبل خطبہ دینے کا سلسلہ مروان بن حکم نے شروع کیا، جب حضرت ابو سعید خدری ؓ نے اسے ٹوکا تو اس نے کہا کہ لوگ ہمارا خطبہ سننے کے لیے بیٹھتے نہیں، اس لیے میں نے اسے نماز سے پہلے کر دیا ہے۔
(صحیح البخاري، العیدین، حدیث: 958)
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ مروان نے سب سے پہلے قبل از نماز خطبہ دینے کا اہتمام کیا، چنانچہ ایک دفعہ کسی شخص نے اسے کہا کہ خطبے سے پہلے نماز کا اہتمام ہونا چاہیے۔
مروان نے جواب دیا کہ اب یہ طریقہ متروک ہو چکا ہے۔
اس پر حضرت ابو سعید خدری ؓ نے فرمایا:
بلاشبہ اس شخص نے اپنی ذمہ داری ادا کر دی ہے۔
(سنن ابن ماجة، إقامة الصلوات، حدیث: 1275)
امام بخاری ؒ نے مذکورہ دونوں احادیث سے ثابت کیا ہے کہ نماز عید خطبے سے پہلے ہے۔
حالات کی تبدیلی سے اس سنت کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
(2)
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ شرح تراجم بخاری میں لکھتے ہیں کہ نماز عید کے بعد خطبہ دینا ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور خلفائے راشدین کا معمول ہے۔
جمعہ پر قیاس کرتے ہوئے نماز عید سے پہلے خطبہ پڑھنا بدعت ہے۔
اس کی ابتدا مروان سے ہوئی تھی۔
الحمدللہ اب یہ بدعت اپنے انجام کو پہنچ چکی ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 963]