🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
مساجد کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 200
وعنه رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «إذا رأيتم من يبيع أو يبتاع في المسجد؛ فقولوا له: لا أربح الله تجارتك» .‏‏‏‏ رواه النسائي والترمذي وحسنه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے یہ روایت بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم کسی شخص کو مسجد میں خرید و فروخت کرتے دیکھو تو اسے کہو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے کاروبار و تجارت میں نفع نہ دے۔
اس حدیث کو ترمذی اور نسائی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 200]
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذي، البيوع، باب النهي عن البيع في المسجد، حديث:1321، والنسائي في الكبرٰي: 6 /52، حديث:10004، وعمل اليوم والليلة، حديث:1760، وأصله في صحيح مسلم، المساجد، حديث:568.»

تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1321
إذا رأيتم من يبيع أو يبتاع في المسجد فقولوا لا أربح الله تجارتك إذا رأيتم من ينشد فيه ضالة فقولوا لا رد الله عليك
بلوغ المرام
200
إذا رايتم من يبيع او يبتاع في المسجد؛ فقولوا له: لا اربح الله تجارتك
بلوغ المرام کی حدیث نمبر 200 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 200
لغوی تشریح:
«يَبْتَاعُ» «يَشْتَرِي» کے معنی ہیں ہے یعنی خریدنا۔
«لَا أَرْبَحَ اللَّهُ تِجَارَتَكَ» یعنی اللہ تعالیٰ تیری اس تجارت کو نفع بخش نہ بنایے۔

فوائد و مسائل:
➊ اس حدیث سے مساجد میں خرید و فروخت کی ممانعت ثابت ہوتی ہے۔
➋ اس سے مقصود یہ ہے کہ مسجدیں تجارتی منڈیاں نہ بنا لی جایئں۔ مسجدیں تو صرف عبادت الٰہی کے لئے تعمیر کی جاتی ہیں، اگر ان میں بھی تجارت شروع ہو جائے تو یہ اپنا مقصد تعمیر کھو بیٹھیں گی۔
➌ مساجد کو صرف یاد الٰہی کے لئے مخصوص ہونا چاہئیے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 200]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1321
مسجد میں خرید و فروخت کی ممانعت کا بیان۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم ایسے شخص کو دیکھو جو مسجد میں خرید و فروخت کر رہا ہو تو کہو: اللہ تعالیٰ تمہاری تجارت میں نفع نہ دے، اور جب ایسے شخص کو دیکھو جو مسجد میں گمشدہ چیز (کا اعلان کرتے ہوئے اسے) تلاش کرتا ہو تو کہو: اللہ تمہاری چیز تمہیں نہ لوٹائے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1321]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
ان لوگوں کا کہنا ہے کہ حدیث میں جو اس کی ممانعت آئی ہے وہ نہی تنزیہی ہے تحریمی نہیں،
یعنی نہ بیچنا بہترہے،
مگر یہ نری تاویل ہے،
جب صحیح حدیث میں بالصراحت ممانعت موجودہے توپھرمساجد میں خریدوفروخت سے باز رہتے ہوئے بازار اور مساجد میں فرق کو قائم رکھنا چاہئے،
پہلی قومیں اپنے انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے احکام کی نافرمانیوں اور غلط تاویلوں کی وجہ سے تباہ ہوگئی تھیں۔
(اللهم أحفظنا بما تحفظ به عبادك الصالحين)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1321]