🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
نماز عیدین کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 399
وعن علي رضي الله عنه قال: من السنة أن تخرج إلى العيد ماشيا. رواه الترمذي وحسنه.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ عیدگاہ کی جانب پیدل چل کر جانا سنت ہے۔
اسے ترمذی نے نقل کیا ہے اور حسن قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 399]
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذي، أبواب الصلاة، باب ما جاء في المشي يوم العيد، حديث: 530، وقال: "هذا حديث حسن"، الحارث الأعور ضعيف جدًا متهم، وأبواسحاق عنعن.»

تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
530
من السنة أن تخرج إلى العيد ماشيا أن تأكل شيئا قبل أن تخرج
بلوغ المرام
399
من السنة ان تخرج إلى العيد ماشيا
بلوغ المرام کی حدیث نمبر 399 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 399
تخریج:
«أخرجه الترمذي، أبواب الصلاة، باب ما جاء في المشي يوم العيد، حديث: 530، وقال: "هذا حديث حسن"، الحارث الأعور ضعيف جدًا متهم، وأبواسحاق عنعن.»
تشریح:
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً سخت ضعیف قرار دیا ہے‘ نیز دیگر محققین نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے‘ تاہم امام ترمذی رحمہ اللہ نے مذکورہ روایت کو حسن قرار دیا ہے اور مزید لکھا ہے کہ اکثر اہل علم حضرات کا اس حدیث پر عمل ہے۔
ان کے نزدیک عید کی نماز کے لیے عیدگاہ کی طرف پیدل جانا مستحب ہے۔
شیخ البانی رحمہ اللہ اس کی بابت لکھتے ہیں کہ شاید امام ترمذی رحمہ اللہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت کو دیگر شواہد کی بنا پر حسن قرار دیا ہے جو سنن ابن ماجہ‘ باب ماجاء في الخروج إلی العید ماشیًا کے تحت آئی ہیں۔
مزید لکھتے ہیں کہ مذکورہ باب کی تمام روایات انفرادی طور پر ضعیف ہیں لیکن مجموعی طور پر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مسئلے کی کوئی نہ کوئی اصل ضرور ہے۔
اور پھر اس مسئلے کی تائید و توثیق میں ایک مرسل روایت پیش کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنازے میں شرکت اور عیدالاضحی اور عیدالفطر کی نماز کی ادائیگی کے لیے پیدل تشریف لے جاتے تھے‘ نیز سعید بن مسیب کا قول ہے کہ عیدالفطر کی تین سنتیں ہیں: عیدگاہ کی طرف پیدل جانا‘ نماز عید کی ادائیگی کے لیے جانے سے پہلے کوئی چیز کھانا اور عید کی نماز کے لیے غسل کرنا۔
مذکورہ بحث سے معلوم ہوتا ہے کہ عیدگاہ کی طرف پیدل جانا کم از کم مستحب ضرور ہے‘ تاہم ضرورت کے پیش نظر سواری پر سوار ہو کر بھی جایا جا سکتا ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (إرواء الغلیل: ۳ / ۱۰۳‘ ۱۰۴)
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 399]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 530
عید کے دن پیدل چلنے کا بیان۔
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عید کے لیے پیدل جانا اور نکلنے سے پہلے کچھ کھا لینا سنت ہے۔ [سنن ترمذي/أبواب العيدين/حدیث: 530]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں حارث اعور ضعیف راوی ہیں،
لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 530]