سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. باب ما جاء في المشى يوم العيد
باب: عید کے دن پیدل چلنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 530
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: " مِنَ السُّنَّةِ أَنْ تَخْرُجَ إِلَى الْعِيدِ مَاشِيًا وَأَنْ تَأْكُلَ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ تَخْرُجَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ. وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ يَسْتَحِبُّونَ أَنْ يَخْرُجَ الرَّجُلُ إِلَى الْعِيدِ مَاشِيًا وَأَنْ يَأْكُلَ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ لِصَلَاةِ الْفِطْرِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَيُسْتَحَبُّ أَنْ لَا يَرْكَبَ إِلَّا مِنْ عُذْرٍ.
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عید کے لیے پیدل جانا اور نکلنے سے پہلے کچھ کھا لینا سنت ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن ہے،
۲- اکثر اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے وہ مستحب سمجھتے ہیں کہ آدمی عید کے لیے پیدل جائے اور عید الفطر کی نماز کے لیے نکلنے سے پہلے کچھ کھا لے،
۳- مستحب یہ ہے کہ آدمی بلا عذر سوار ہو کر نہ جائے۔ [سنن ترمذي/أبواب العيدين عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 530]
۱- یہ حدیث حسن ہے،
۲- اکثر اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے وہ مستحب سمجھتے ہیں کہ آدمی عید کے لیے پیدل جائے اور عید الفطر کی نماز کے لیے نکلنے سے پہلے کچھ کھا لے،
۳- مستحب یہ ہے کہ آدمی بلا عذر سوار ہو کر نہ جائے۔ [سنن ترمذي/أبواب العيدين عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 530]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الإقامة 161 (الشق الأول فقط) (تحفة الأشراف: 10042) (حسن) (سند میں حارث اعور ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے)»
قال الشيخ الألباني: حسن، ابن ماجة (1294 - 1297)
قال الشيخ زبير على زئي:(530) ضعيف /جه 1296
فيه علل منھا ضعف الحارث الأعور (تقدم:282) وعنعنة أبى إسحاق و شريك القاضي (تقدما:107، 112) وللحديث شواھد ضعيفة
فيه علل منھا ضعف الحارث الأعور (تقدم:282) وعنعنة أبى إسحاق و شريك القاضي (تقدما:107، 112) وللحديث شواھد ضعيفة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسين | صحابي | |
👤←👥الحارث بن عبد الله الأعور، أبو زهير الحارث بن عبد الله الأعور ← علي بن أبي طالب الهاشمي | متهم بالكذب | |
👤←👥أبو إسحاق السبيعي، أبو إسحاق أبو إسحاق السبيعي ← الحارث بن عبد الله الأعور | ثقة مكثر | |
👤←👥شريك بن عبد الله القاضي، أبو عبد الله شريك بن عبد الله القاضي ← أبو إسحاق السبيعي | صدوق سيء الحفظ يخطئ كثيرا | |
👤←👥إسماعيل بن موسى، أبو محمد، أبو إسحاق إسماعيل بن موسى ← شريك بن عبد الله القاضي | صدوق يتشيع |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
530
| من السنة أن تخرج إلى العيد ماشيا أن تأكل شيئا قبل أن تخرج |
بلوغ المرام |
399
| من السنة ان تخرج إلى العيد ماشيا |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 530 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 530
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں حارث اعور ضعیف راوی ہیں،
لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے)
نوٹ:
(سند میں حارث اعور ضعیف راوی ہیں،
لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 530]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 399
نماز عیدین کا بیان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ عیدگاہ کی جانب پیدل چل کر جانا سنت ہے۔
اسے ترمذی نے نقل کیا ہے اور حسن قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 399»
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ عیدگاہ کی جانب پیدل چل کر جانا سنت ہے۔
اسے ترمذی نے نقل کیا ہے اور حسن قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 399»
تخریج:
«أخرجه الترمذي، أبواب الصلاة، باب ما جاء في المشي يوم العيد، حديث: 530، وقال: "هذا حديث حسن"، الحارث الأعور ضعيف جدًا متهم، وأبواسحاق عنعن.» تشریح:
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً سخت ضعیف قرار دیا ہے‘ نیز دیگر محققین نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے‘ تاہم امام ترمذی رحمہ اللہ نے مذکورہ روایت کو حسن قرار دیا ہے اور مزید لکھا ہے کہ اکثر اہل علم حضرات کا اس حدیث پر عمل ہے۔
ان کے نزدیک عید کی نماز کے لیے عیدگاہ کی طرف پیدل جانا مستحب ہے۔
شیخ البانی رحمہ اللہ اس کی بابت لکھتے ہیں کہ شاید امام ترمذی رحمہ اللہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت کو دیگر شواہد کی بنا پر حسن قرار دیا ہے جو سنن ابن ماجہ‘ باب ماجاء في الخروج إلی العید ماشیًا کے تحت آئی ہیں۔
مزید لکھتے ہیں کہ مذکورہ باب کی تمام روایات انفرادی طور پر ضعیف ہیں لیکن مجموعی طور پر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مسئلے کی کوئی نہ کوئی اصل ضرور ہے۔
اور پھر اس مسئلے کی تائید و توثیق میں ایک مرسل روایت پیش کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنازے میں شرکت اور عیدالاضحی اور عیدالفطر کی نماز کی ادائیگی کے لیے پیدل تشریف لے جاتے تھے‘ نیز سعید بن مسیب کا قول ہے کہ عیدالفطر کی تین سنتیں ہیں: ”عیدگاہ کی طرف پیدل جانا‘ نماز عید کی ادائیگی کے لیے جانے سے پہلے کوئی چیز کھانا اور عید کی نماز کے لیے غسل کرنا۔
“ مذکورہ بحث سے معلوم ہوتا ہے کہ عیدگاہ کی طرف پیدل جانا کم از کم مستحب ضرور ہے‘ تاہم ضرورت کے پیش نظر سواری پر سوار ہو کر بھی جایا جا سکتا ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (إرواء الغلیل: ۳ / ۱۰۳‘ ۱۰۴)
«أخرجه الترمذي، أبواب الصلاة، باب ما جاء في المشي يوم العيد، حديث: 530، وقال: "هذا حديث حسن"، الحارث الأعور ضعيف جدًا متهم، وأبواسحاق عنعن.»
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً سخت ضعیف قرار دیا ہے‘ نیز دیگر محققین نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے‘ تاہم امام ترمذی رحمہ اللہ نے مذکورہ روایت کو حسن قرار دیا ہے اور مزید لکھا ہے کہ اکثر اہل علم حضرات کا اس حدیث پر عمل ہے۔
ان کے نزدیک عید کی نماز کے لیے عیدگاہ کی طرف پیدل جانا مستحب ہے۔
شیخ البانی رحمہ اللہ اس کی بابت لکھتے ہیں کہ شاید امام ترمذی رحمہ اللہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت کو دیگر شواہد کی بنا پر حسن قرار دیا ہے جو سنن ابن ماجہ‘ باب ماجاء في الخروج إلی العید ماشیًا کے تحت آئی ہیں۔
مزید لکھتے ہیں کہ مذکورہ باب کی تمام روایات انفرادی طور پر ضعیف ہیں لیکن مجموعی طور پر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مسئلے کی کوئی نہ کوئی اصل ضرور ہے۔
اور پھر اس مسئلے کی تائید و توثیق میں ایک مرسل روایت پیش کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنازے میں شرکت اور عیدالاضحی اور عیدالفطر کی نماز کی ادائیگی کے لیے پیدل تشریف لے جاتے تھے‘ نیز سعید بن مسیب کا قول ہے کہ عیدالفطر کی تین سنتیں ہیں: ”عیدگاہ کی طرف پیدل جانا‘ نماز عید کی ادائیگی کے لیے جانے سے پہلے کوئی چیز کھانا اور عید کی نماز کے لیے غسل کرنا۔
“ مذکورہ بحث سے معلوم ہوتا ہے کہ عیدگاہ کی طرف پیدل جانا کم از کم مستحب ضرور ہے‘ تاہم ضرورت کے پیش نظر سواری پر سوار ہو کر بھی جایا جا سکتا ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (إرواء الغلیل: ۳ / ۱۰۳‘ ۱۰۴)
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 399]
الحارث بن عبد الله الأعور ← علي بن أبي طالب الهاشمي