بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. باب المساقاة والإجارة
آبپاشی اور زمین کو ٹھیکہ پر دینے کا بیان
حدیث نمبر: 775
وعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «من استأجر أجيرا؛ فليسم له أجرته» . رواه عبد الرزاق وفيه انقطاع ووصله البيهقي من طريق أبي حنيفة.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جو آدمی کسی مزدور کو اجرت پر کام کے لیے لگائے تو اسے اس کی پوری مزدوری دینی چاہیئے۔“ اسے عبدالرزاق نے روایت کی ہے اور اس کی سند میں انقطاع ہے اور بیہقی نے اس حدیث کو ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے موصول روایت کی ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 775]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ» ابو سعید خدری – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» نے فرمایا: – «مَنِ اسْتَأْجَرَ» جو اجرت پر رکھے – «أَجِيرًا» کسی مزدور کو – «فَلْيُسَمِّ لَهُ» تو اسے چاہیے کہ اس کے لیے مقرر کر دے – «أُجْرَتَهُ» اس کی اجرت۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «عَبْدُ الرَّزَّاقِ» عبدالرزاق نے – «وَفِيهِ انْقِطَاعٌ» اور اس میں انقطاع ہے – «وَوَصَلَهُ» اور اسے موصول بیان کیا – «الْبَيْهَقِيُّ» بیہقی نے – «مِنْ طَرِيقِ» کے طریق سے – «أَبِي حَنِيفَةَ» ابو حنیفہ۔
اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی مزدور کو اجرت پر رکھے تو اسے چاہیے کہ اس کی مزدوری (پہلے) مقرر کر دے۔“ اسے عبدالرزاق نے روایت کیا ہے اور اس (کی سند) میں انقطاع ہے، اور بیہقی نے اسے ابو حنیفہ کے طریق سے موصول بیان کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 775]
اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی مزدور کو اجرت پر رکھے تو اسے چاہیے کہ اس کی مزدوری (پہلے) مقرر کر دے۔“ اسے عبدالرزاق نے روایت کیا ہے اور اس (کی سند) میں انقطاع ہے، اور بیہقی نے اسے ابو حنیفہ کے طریق سے موصول بیان کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 775]
تخریج الحدیث: «أخرجه عبدالرزاق في المصنف:8 /235، وسنده ضعيف لِا نقطاعه، إبراهيم النخعي لم يدرك أبا سعيد الخدري وأبا هريرة، وأخرجه البيهقي:6 /120 وسنده ضعيف، إبراهيم بن هلال أو بلال لم أجد له ترجمة.»
الحكم على الحديث:
ضعيف
بلوغ المرام کی حدیث نمبر 775 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 775
تخریج:
«أخرجه عبدالرزاق في المصنف:8 /235، وسنده ضعيف لِا نقطاعه، إبراهيم النخعي لم يدرك أبا سعيد الخدري وأبا هريرة، وأخرجه البيهقي:6 /120 وسنده ضعيف، إبراهيم بن هلال أو بلال لم أجد له ترجمة.» تشریح:
یہ حدیث سنداَ ضعیف ہے، تا ہم اس بات پر اجماع ہے کہ اجارے کی صورت میں اجرت کا تعین کرنا ضروری ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
«أخرجه عبدالرزاق في المصنف:8 /235، وسنده ضعيف لِا نقطاعه، إبراهيم النخعي لم يدرك أبا سعيد الخدري وأبا هريرة، وأخرجه البيهقي:6 /120 وسنده ضعيف، إبراهيم بن هلال أو بلال لم أجد له ترجمة.»
یہ حدیث سنداَ ضعیف ہے، تا ہم اس بات پر اجماع ہے کہ اجارے کی صورت میں اجرت کا تعین کرنا ضروری ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 775]
Bulughul Maram Hadith 775 in Urdu