بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. باب المساقاة والإجارة
آبپاشی اور زمین کو ٹھیکہ پر دینے کا بیان
حدیث نمبر: 767
عن ابن عمر رضي الله عنهما: أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عامل أهل خيبر بشطر ما يخرج منها من ثمر أو زرع. متفق عليه. وفي رواية لهما: فسألوه أن يقرهم بها على أن يكفوا عملها ولهم نصف الثمر فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «نقركم بها على ذلك ما شئنا» فقروا بها حتى أجلاهم عمر. ولمسلم: أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم دفع إلى يهود خيبر نخل خيبر وأرضها على أن يعتملوها من أموالهم ولهم شطر ثمرها.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر سے اس طرح معاملہ طے کیا کہ پھل اور کھیتی باڑی سے جو کچھ حاصل ہو اس میں سے آدھا تمہارا۔ (بخاری و مسلم) اور ان دونوں کی ایک روایت میں ہے کہ اہل خیبر (یہود) نے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو یہاں ٹھہرنے دیں (یعنی زمینوں پر قابض رہنے دیں)۔ وہ کھیتی باڑی کریں گے اور اس کی پیداوار میں سے مسلمانوں کو آدھا حصہ دیا کریں گے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اس شرط پر کہ ہم تمہیں جب تک چاہیں گے رہنے دیں گے۔“ یہ فرما کر ان کو ان زمینوں پر برقرار رکھا۔ یہ زمینوں پر برقرار رہے تاآنکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو جلا وطن کر دیا اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے یہود کو خیبر کی کھجوریں اور زمین اسی شرط پر دی تھیں کہ وہ اپنے اموال سے ان پر کام کریں گے اور ان کے لئے ان کی پیداوار کا آدھا حصہ ہو گا۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 767]
«عَنِ» سے – «ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «عَامَلَ» معاملہ کیا – «أَهْلَ خَيْبَرَ» اہل خیبر سے – «بِشَطْرِ» آدھے حصے پر – «مَا يَخْرُجُ» جو نکلے – «مِنْهَا» اس سے – «مِنْ ثَمَرٍ» پھل میں سے – «أَوْ زَرْعٍ» یا کھیتی میں سے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔ – «وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا» اور ان دونوں کی ایک روایت میں ہے: – «فَسَأَلُوهُ» تو انہوں نے آپ سے درخواست کی – «أَنْ يُقِرَّهُمْ» کہ آپ انہیں برقرار رکھیں – «بِهَا» وہاں – «عَلَى أَنْ» اس شرط پر کہ – «يَكْفُوا» وہ سنبھال لیں – «عَمَلَهَا» اس کا کام – «وَلَهُمْ» اور ان کے لیے ہو – «نِصْفُ الثَّمَرِ» آدھا پھل – «فَقَالَ لَهُمْ» تو ان سے فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «نُقِرُّكُمْ» ہم تمہیں برقرار رکھیں گے – «بِهَا» وہاں – «عَلَى ذَلِكَ» اس (شرط) پر – «مَا شِئْنَا» جب تک ہم چاہیں – «فَقَرُّوا» پس وہ رہتے رہے – «بِهَا» وہاں – «حَتَّى» یہاں تک کہ – «أَجْلَاهُمْ» انہیں جلا وطن کر دیا – «عُمَرُ» عمر نے۔ – «وَلِمُسْلِمٍ» اور مسلم کی روایت میں ہے: – «أَنَّ» کہ – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «دَفَعَ» دے دیے – «إِلَى يَهُودِ خَيْبَرَ» خیبر کے یہودیوں کو – «نَخْلَ خَيْبَرَ» خیبر کے کھجور کے درخت – «وَأَرْضَهَا» اور اس کی زمین – «عَلَى أَنْ» اس شرط پر کہ – «يَعْتَمِلُوهَا» وہ اس میں کام کریں – «مِنْ أَمْوَالِهِمْ» اپنے مالوں سے – «وَلَهُمْ» اور ان کے لیے ہو – «شَطْرُ ثَمَرِهَا» اس کے پھل کا آدھا۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل خیبر سے وہاں پیدا ہونے والے پھل یا کھیتی کے آدھے حصے پر معاملہ کیا۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور ان دونوں کی ایک روایت میں ہے: انہوں نے آپ سے درخواست کی کہ آپ انہیں وہیں رہنے دیں اس شرط پر کہ وہ اس کا (سارا) کام سنبھالیں گے اور آدھا پھل ان کا ہو گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”ہم تمہیں اس شرط پر جب تک چاہیں گے یہاں رہنے دیں گے۔“ چنانچہ وہ وہیں رہے یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں جلا وطن کر دیا۔ اور مسلم کی روایت میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کے یہودیوں کو خیبر کے کھجور کے باغ اور اس کی زمین اس شرط پر دے دی کہ وہ اپنے مال سے اس میں کام کریں گے اور اس کے پھل کا آدھا حصہ ان کا ہو گا۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 767]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل خیبر سے وہاں پیدا ہونے والے پھل یا کھیتی کے آدھے حصے پر معاملہ کیا۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور ان دونوں کی ایک روایت میں ہے: انہوں نے آپ سے درخواست کی کہ آپ انہیں وہیں رہنے دیں اس شرط پر کہ وہ اس کا (سارا) کام سنبھالیں گے اور آدھا پھل ان کا ہو گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”ہم تمہیں اس شرط پر جب تک چاہیں گے یہاں رہنے دیں گے۔“ چنانچہ وہ وہیں رہے یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں جلا وطن کر دیا۔ اور مسلم کی روایت میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کے یہودیوں کو خیبر کے کھجور کے باغ اور اس کی زمین اس شرط پر دے دی کہ وہ اپنے مال سے اس میں کام کریں گے اور اس کے پھل کا آدھا حصہ ان کا ہو گا۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 767]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الإجارة، باب إذا استأجر أرضًا فمات أحدهما، حديث:2285، ومسلم، المساقاة، باب المساقاة والمعاملة بجزء من الثمر والزرع، حديث:1551.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 768
عن حنظلة بن قيس رضي الله عنه قال: سألت رافع بن خديج عن كراء الأرض بالذهب والفضة؟ فقال: لا بأس به إنما كان الناس يؤاجرون على عهد رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم على الماذيانات وأقبال الجداول وأشياء من الزرع فيهلك هذا ويسلم هذا ويسلم هذا ويهلك هذا ولم يكن للناس كراء إلا هذا فلذلك زجر عنه فأما شيء معلوم مضمون فلا بأس به. رواه مسلم. وفيه بيان لما أجمل في المتفق عليه من إطلاق النهي عن كراء الأرض.
سیدنا حنظلہ بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ سونے اور چاندی کے عوض زمین ٹھیکے پر دینا کیسا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ اس میں کوئی مضائقہ نہیں اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لوگ اپنی زمین اس شرط پر دیا کرتے تھے کہ جو کچھ پانی کی نالیوں اور پانی کے بہاؤ میں پیدا ہو گا اور کچھ حصہ باقی کھیتی کا وہ تو میں لوں گا۔ پھر کبھی ایسا ہوتا یہ حصہ تباہ و برباد ہو جاتا اور کبھی ایسا ہوتا کہ اس حصہ میں کچھ پیداوار ہی نہ ہوتی اور لوگوں کو ٹھیکہ اسی صورت میں حاصل ہوتا تھا۔ اسی لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا تھا۔ پس اگر کوئی چیز مقرر ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ (مسلم) اور اس میں اس کا بھی بیان ہے جسے بخاری و مسلم نے مجمل بیان کیا ہے کہ زمین ٹھیکے پر نہ دیا کرو۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 768]
«عَنْ» سے – «حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ» حنظلہ بن قیس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «سَأَلْتُ» میں نے پوچھا – «رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ» رافع بن خدیج سے – «عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ» زمین کرائے پر دینے کے بارے میں – «بِالذَّهَبِ» سونے – «وَالْفِضَّةِ» اور چاندی کے بدلے؟ – «فَقَالَ» تو انہوں نے کہا: – «لَا بَأْسَ بِهِ» اس میں کوئی حرج نہیں – «إِنَّمَا» صرف – «كَانَ النَّاسُ» لوگ – «يُؤَاجِرُونَ» کرائے پر دیا کرتے تھے – «عَلَى عَهْدِ» زمانے میں – «رَسُولِ اللَّهِ» اللہ کے رسول کے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «عَلَى الْمَاذِيَانَاتِ» نالیوں کے کناروں (کی پیداوار) پر – «وَأَقْبَالِ» اور سروں (پر) – «الْجَدَاوِلِ» چھوٹی نہروں کے – «وَأَشْيَاءَ» اور کچھ چیزوں (پر) – «مِنَ الزَّرْعِ» کھیتی میں سے – «فَيَهْلِكُ» تو برباد ہو جاتا – «هَذَا» یہ – «وَيَسْلَمُ» اور محفوظ رہتا – «هَذَا» یہ – «وَيَسْلَمُ» اور محفوظ رہتا – «هَذَا» یہ – «وَيَهْلِكُ» اور برباد ہو جاتا – «هَذَا» یہ – «وَلَمْ يَكُنْ» اور نہ تھا – «لِلنَّاسِ» لوگوں کے لیے – «كِرَاءٌ» کوئی کرایہ – «إِلَّا هَذَا» سوائے اس کے – «فَلِذَلِكَ» اسی لیے – «زَجَرَ عَنْهُ» آپ نے اس سے منع فرمایا – «فَأَمَّا» رہی – «شَيْءٌ» کوئی چیز – «مَعْلُومٌ» معلوم – «مَضْمُونٌ» ضمانت والی – «فَلَا بَأْسَ بِهِ» تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔ – «وَفِيهِ» اور اس میں – «بَيَانٌ» وضاحت ہے – «لِمَا أُجْمِلَ» اس کی جو مجمل بیان ہوا – «فِي الْمُتَّفَقِ عَلَيْهِ» متفق علیہ (روایت) میں – «مِنْ إِطْلَاقِ» مطلق (عام) ہونے میں سے – «النَّهْيِ» ممانعت کے – «عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ» زمین کرائے پر دینے سے۔
حنظلہ بن قیس رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سونے اور چاندی کے بدلے زمین کرائے پر دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں لوگ نالیوں کے کناروں اور چھوٹی نہروں کے سروں (کی پیداوار) اور کھیتی کی کچھ (مخصوص) چیزوں کے بدلے زمین کرائے پر دیتے تھے، تو کبھی یہ حصہ برباد ہو جاتا اور وہ محفوظ رہتا، اور کبھی وہ محفوظ رہتا اور یہ برباد ہو جاتا، اور لوگوں کے ہاں اس کے سوا کوئی کرایہ نہ تھا، اسی لیے آپ نے اس سے منع فرمایا، رہی کوئی معلوم اور ضمانت والی چیز تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ اور اس میں اس بات کی وضاحت ہے جو متفق علیہ روایت میں زمین کرائے پر دینے کی مطلق ممانعت کی صورت میں مجمل بیان ہوئی ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 768]
حنظلہ بن قیس رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سونے اور چاندی کے بدلے زمین کرائے پر دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں لوگ نالیوں کے کناروں اور چھوٹی نہروں کے سروں (کی پیداوار) اور کھیتی کی کچھ (مخصوص) چیزوں کے بدلے زمین کرائے پر دیتے تھے، تو کبھی یہ حصہ برباد ہو جاتا اور وہ محفوظ رہتا، اور کبھی وہ محفوظ رہتا اور یہ برباد ہو جاتا، اور لوگوں کے ہاں اس کے سوا کوئی کرایہ نہ تھا، اسی لیے آپ نے اس سے منع فرمایا، رہی کوئی معلوم اور ضمانت والی چیز تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ اور اس میں اس بات کی وضاحت ہے جو متفق علیہ روایت میں زمین کرائے پر دینے کی مطلق ممانعت کی صورت میں مجمل بیان ہوئی ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 768]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، البيوع، باب كراء الأرض بالذهب والورق، حديث:1547.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 769
وعن ثابت بن الضحاك رضي الله عنه: أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم نهى عن المزارعة وأمر بالمؤاجرة رواه مسلم أيضا.
سیدنا ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزارعت سے منع فرمایا ہے اور ٹھیکہ پر دینے کی اجازت مرحمت فرمائی ہے۔ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 769]
«وَعَنْ» اور سے – «ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ» ثابت بن ضحاک – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «نَهَى» منع فرمایا – «عَنِ الْمُزَارَعَةِ» مزارعت سے – «وَأَمَرَ» اور حکم دیا – «بِالْمُؤَاجَرَةِ» کرائے پر دینے کا۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے – «أَيْضًا» بھی۔
اور سیدنا ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزارعت (پیداوار کے مخصوص حصے پر زمین دینے) سے منع فرمایا اور کرائے پر دینے کا حکم دیا۔ اسے بھی مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 769]
اور سیدنا ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزارعت (پیداوار کے مخصوص حصے پر زمین دینے) سے منع فرمایا اور کرائے پر دینے کا حکم دیا۔ اسے بھی مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 769]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، البيوع، باب في المزارعة والمؤاجرة، حديث:1549.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 770
وعن ابن عباس قال: احتجم رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم وأعطى الذي حجمه أجره ولو كان حراما لم يعطه. رواه البخاري.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود سینگی لگوائی لگانے والے کو اس کا معاوضہ و اجرت بھی عطا فرمائی۔ اگر یہ اجرت حرام ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ معاوضہ عنایت نہ فرماتے۔ (بخاری) [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 770]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «احْتَجَمَ» سینگی لگوائی – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «وَأَعْطَى» اور دی – «الَّذِي» اس کو جس نے – «حَجَمَهُ» آپ کو سینگی لگائی – «أَجْرَهُ» اس کی اجرت – «وَلَوْ كَانَ» اور اگر یہ ہوتی – «حَرَامًا» حرام – «لَمْ يُعْطِهِ» تو آپ اسے نہ دیتے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے۔
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سینگی (پچھنے) لگوائی اور سینگی لگانے والے کو اس کی اجرت دی، اور اگر وہ حرام ہوتی تو آپ اسے نہ دیتے۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 770]
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سینگی (پچھنے) لگوائی اور سینگی لگانے والے کو اس کی اجرت دی، اور اگر وہ حرام ہوتی تو آپ اسے نہ دیتے۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 770]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الإجارة، باب خراج الحجام، حديث:2278.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 771
وعن رافع بن خديج رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «كسب الحجام خبيث» . رواه مسلم.
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”حجام (سینگی لگانے والا) کی کمائی خبیث ہے (یعنی سینگی لگانے کا کام بہت برا ہے)۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 771]
«وَعَنْ» اور سے – «رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ» رافع بن خدیج – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «كَسْبُ» کمائی – «الْحَجَّامِ» سینگی لگانے والے کی – «خَبِيثٌ» خبیث (گھٹیا) ہے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”سینگی لگانے والے کی کمائی گھٹیا (ناپسندیدہ) ہے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 771]
اور سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”سینگی لگانے والے کی کمائی گھٹیا (ناپسندیدہ) ہے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 771]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، المساقاة، باب تحريم ثمن الكلب...، حديث:1568.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 772
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم:«قال الله عز وجل: ثلاثة أنا خصمهم يوم القيامة: رجل أعطى بي ثم غدر ورجل باع حرا فأكل ثمنه ورجل استأجر أجيرا فاستوفى منه ولم يعطه أجره» . رواه مسلم.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ میں قیامت کے روز تین آدمیوں کا مدعی بنوں گا پہلا وہ آدمی جو میرے نام عہد و ضمانت دے کر بدعہدی کرے۔ دوسرا وہ آدمی جو ایک آزاد آدمی کو فروخت کرے اور اس کی قیمت کھائے۔ تیسرا وہ آدمی جس نے مزدور سے کام تو پورا لیا مگر اس کی مزدوری پوری نہ دی۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 772]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ اللَّهُ» اللہ نے فرمایا – «عَزَّ وَجَلَّ» جو غالب اور بزرگی والا ہے – «ثَلَاثَةٌ» تین (آدمی) ہیں – «أَنَا خَصْمُهُمْ» میں ان کا مدِمقابل (فریق) ہوں گا – «يَوْمَ الْقِيَامَةِ» قیامت کے دن – «رَجُلٌ» ایک آدمی – «أَعْطَى بِي» جس نے میرا نام لے کر عہد دیا – «ثُمَّ غَدَرَ» پھر بدعہدی کی – «وَرَجُلٌ» اور ایک آدمی – «بَاعَ حُرًّا» جس نے آزاد کو بیچا – «فَأَكَلَ ثَمَنَهُ» پھر اس کی قیمت کھائی – «وَرَجُلٌ» اور ایک آدمی – «اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا» جس نے کسی مزدور کو اجرت پر رکھا – «فَاسْتَوْفَى مِنْهُ» پھر اس سے پورا کام لیا – «وَلَمْ يُعْطِهِ» اور اسے نہ دی – «أَجْرَهُ» اس کی اجرت۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل فرماتا ہے: تین آدمی ایسے ہیں جن کا قیامت کے دن میں خود مدِمقابل ہوں گا: ایک وہ آدمی جس نے میرا نام لے کر عہد کیا پھر بدعہدی کی، دوسرا وہ آدمی جس نے کسی آزاد کو بیچ کر اس کی قیمت کھائی، اور تیسرا وہ آدمی جس نے کسی مزدور کو اجرت پر رکھا، اس سے پورا کام لیا اور اس کی مزدوری نہ دی۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 772]
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل فرماتا ہے: تین آدمی ایسے ہیں جن کا قیامت کے دن میں خود مدِمقابل ہوں گا: ایک وہ آدمی جس نے میرا نام لے کر عہد کیا پھر بدعہدی کی، دوسرا وہ آدمی جس نے کسی آزاد کو بیچ کر اس کی قیمت کھائی، اور تیسرا وہ آدمی جس نے کسی مزدور کو اجرت پر رکھا، اس سے پورا کام لیا اور اس کی مزدوری نہ دی۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 772]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: ولم أجده، والبخاري، الإجارة، باب إثم من منع أجر الأجير، حديث:2270، والبيوع، باب إثم من باع حرًا، حديث:2227.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 773
وعن ابن عباس رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «إن أحق ما أخذتم عليه أجرا كتاب الله» . أخرجه البخاري.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیشک سب سے زیادہ مستحق کام جس کی اجرت لی جائے کتاب اللہ ہے۔ (بخاری) [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 773]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» نے فرمایا: – «إِنَّ» بے شک – «أَحَقَّ» سب سے زیادہ حق دار – «مَا أَخَذْتُمْ» وہ چیز جس پر تم لو – «عَلَيْهِ» اس پر – «أَجْرًا» اجرت – «كِتَابُ اللَّهِ» اللہ کی کتاب ہے۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے۔
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک سب سے زیادہ حق دار چیز جس پر تم اجرت لو، اللہ کی کتاب ہے۔“ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 773]
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک سب سے زیادہ حق دار چیز جس پر تم اجرت لو، اللہ کی کتاب ہے۔“ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 773]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الإجارة، باب ما يعطي في الرقية علي أحياء العرب بفاتحة الكتاب، قبل حديث:2276.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 774
وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «أعطوا الأجير أجره قبل أن يجف عرقه» . رواه ابن ماجه. وفي الباب عن أبي هريرة رضي الله عنه عند أبي يعلى والبيهقي وجابر عند الطبراني وكلها ضعاف.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” مزدور کو اس کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کر دو۔“ اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور اس باب میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی روایت ابویعلیٰ اور بیہقی نے بیان کی ہے اور طبرانی میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، مگر یہ ساری ہی روایات ضعیف ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 774]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «أَعْطُوا» دو – «الْأَجِيرَ» مزدور کو – «أَجْرَهُ» اس کی اجرت – «قَبْلَ أَنْ يَجِفَّ» اس سے پہلے کہ خشک ہو – «عَرَقُهُ» اس کا پسینہ۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «ابْنُ مَاجَهْ» ابن ماجہ نے۔ – «وَفِي الْبَابِ» اور اس باب میں (روایت) ہے – «عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «عِنْدَ أَبِي يَعْلَى» ابو یعلیٰ کے ہاں – «وَالْبَيْهَقِيِّ» اور بیہقی کے ہاں – «وَجَابِرٍ» اور جابر سے – «عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ» طبرانی کے ہاں – «وَكُلُّهَا» اور یہ سب – «ضِعَافٌ» ضعیف ہیں۔
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مزدور کو اس کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے دے دو۔“ اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ اور اس باب میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ابو یعلیٰ اور بیہقی کے ہاں، اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے طبرانی کے ہاں روایات ہیں، اور یہ سب ضعیف ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 774]
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مزدور کو اس کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے دے دو۔“ اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ اور اس باب میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ابو یعلیٰ اور بیہقی کے ہاں، اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے طبرانی کے ہاں روایات ہیں، اور یہ سب ضعیف ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 774]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن ماجه، الرهون، باب أجر الأجراء، حديث:2443، وحديث أبي هريرة أخرجه البيهقي:6 /120، وأبويعلي: ينظر عنده، وحديث جابر أخرجه الطبراني في الصغير:1 /21.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 775
وعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «من استأجر أجيرا؛ فليسم له أجرته» . رواه عبد الرزاق وفيه انقطاع ووصله البيهقي من طريق أبي حنيفة.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جو آدمی کسی مزدور کو اجرت پر کام کے لیے لگائے تو اسے اس کی پوری مزدوری دینی چاہیئے۔“ اسے عبدالرزاق نے روایت کی ہے اور اس کی سند میں انقطاع ہے اور بیہقی نے اس حدیث کو ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے موصول روایت کی ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 775]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ» ابو سعید خدری – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» نے فرمایا: – «مَنِ اسْتَأْجَرَ» جو اجرت پر رکھے – «أَجِيرًا» کسی مزدور کو – «فَلْيُسَمِّ لَهُ» تو اسے چاہیے کہ اس کے لیے مقرر کر دے – «أُجْرَتَهُ» اس کی اجرت۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «عَبْدُ الرَّزَّاقِ» عبدالرزاق نے – «وَفِيهِ انْقِطَاعٌ» اور اس میں انقطاع ہے – «وَوَصَلَهُ» اور اسے موصول بیان کیا – «الْبَيْهَقِيُّ» بیہقی نے – «مِنْ طَرِيقِ» کے طریق سے – «أَبِي حَنِيفَةَ» ابو حنیفہ۔
اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی مزدور کو اجرت پر رکھے تو اسے چاہیے کہ اس کی مزدوری (پہلے) مقرر کر دے۔“ اسے عبدالرزاق نے روایت کیا ہے اور اس (کی سند) میں انقطاع ہے، اور بیہقی نے اسے ابو حنیفہ کے طریق سے موصول بیان کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 775]
اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی مزدور کو اجرت پر رکھے تو اسے چاہیے کہ اس کی مزدوری (پہلے) مقرر کر دے۔“ اسے عبدالرزاق نے روایت کیا ہے اور اس (کی سند) میں انقطاع ہے، اور بیہقی نے اسے ابو حنیفہ کے طریق سے موصول بیان کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 775]
تخریج الحدیث: «أخرجه عبدالرزاق في المصنف:8 /235، وسنده ضعيف لِا نقطاعه، إبراهيم النخعي لم يدرك أبا سعيد الخدري وأبا هريرة، وأخرجه البيهقي:6 /120 وسنده ضعيف، إبراهيم بن هلال أو بلال لم أجد له ترجمة.»
الحكم على الحديث:
ضعيف