صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
2. باب تحويل القبلة من القدس إلى الكعبة:
باب: بیت المقدس کی طرف سے خانہ کعبہ کی طرف قبلہ ہونا۔
ترقیم عبدالباقی: 527 ترقیم شاملہ: -- 1180
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يُصَلِّي نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَنَزَلَتْ قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ سورة البقرة آية 144 "، فَمَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ وَهُمْ رُكُوعٌ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، وَقَدْ صَلَّوْا رَكْعَةً، فَنَادَى أَلَا إِنَّ الْقِبْلَةَ قَدْ حُوِّلَتْ، فَمَالُوا كَمَا هُمْ نَحْوَ الْقِبْلَةِ.
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے، پھر یہ آیت: «وَنَرَى وَجْهَكَ يَتَوَجَّهُ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ» اتری۔ بنو سلمہ کا ایک آدمی (عباد بن بشر رضی اللہ عنہ) گزرا، (اس وقت) لوگ (مسجد قباء میں) صبح کی نماز میں رکوع کر رہے تھے اور ایک رکعت اس سے پہلے پڑھ چکے تھے، اس نے آواز دی: سنو! قبلہ تبدیل کیا جا چکا ہے۔ چنانچہ وہ جس حالت میں تھے، اسی میں (رکوع ہی کے عالم میں) قبلے کی طرف پھر گئے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1180]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے، پھر یہ آیت اتری: ﴿قَدْ نَرَىٰ تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ ۖ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا ۚ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ﴾ [سورة البقرة: 144] ”ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ آسمان کی طرف پھرتا ہوا دیکھ رہے ہیں، تو ہم ضرور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پسند کرتے ہیں (یا وہ قبلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تولیت میں دے دیں گے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیجیے“۔ بنو سلمہ کا ایک آدمی گزرا اور لوگ صبح کی نماز پڑھ رہے تھے اور وہ ایک رکعت پڑھ چکے تھے، تو اس نے آواز دی: ”خبردار! قبلہ تبدیل کیا جا چکا ہے“، تو وہ جس حالت میں تھے اسی حالت میں قبلہ کی طرف پھر گئے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1180]
ترقیم فوادعبدالباقی: 527
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← ثابت بن أسلم البناني | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥عفان بن مسلم الباهلي، أبو عثمان عفان بن مسلم الباهلي ← حماد بن سلمة البصري | ثقة ثبت | |
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر ابن أبي شيبة العبسي ← عفان بن مسلم الباهلي | ثقة حافظ صاحب تصانيف |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
1180
| يصلي نحو بيت المقدس فنزلت قد نرى تقلب وجهك في السماء فلنولينك قبلة ترضاها فول وجهك شطر المسجد الحرام |
سنن أبي داود |
1045
| يصلون نحو بيت المقدس فلما نزلت هذه الآية فول وجهك شطر المسجد الحرام وحيث ما كنتم فولوا وجوهكم شطره |
المعجم الصغير للطبراني |
231
| عن القبلة وهم في صلاة فانحرفوا في ركوعهم |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1180 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1180
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت سے پہلے مکہ مکرمہ میں نماز اس طرح پڑھا کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ بیت اللہ اور بیت المقدس دونوں کی طرف ہوتا تھا ہجرت کے بعد یہ صورت ممکن نہ رہی کیونکہ مدینہ منورہ سے بیت المقدس شمال کی طرف ہے اور مکہ مکرمہ جنوب کی طرف اس لیے اگر بیت المقدس کی طرف رخ کریں تو بیت اللہ کی طرف پشت ہو گی یہود کو مانوس اور قریب کرنے کے لیے رخ بیت المقدس کی طرف رکھا گیا لیکن انھوں نے اس کو قریب آنے کے بجائے الٹا مخالفت کا ذریعہ بنا لیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہماری مخالفت کرتا ہے لیکن نماز میں رخ ہمارے قبلہ کی طرف کرتا ہے اور مشرکین مکہ بھی اعتراض کرتے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ملت ابراہیمی کا دعویدار ہے لیکن نماز میں رخ ان کے تعمیر کردہ گھر اور قبلہ کی طرف نہیں کرتا اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دلی آرزو اور خواہش یہی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھیں ہجرت کے سولہ یا سترہ ماہ بعد 15 رجب 2 ہجری کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ کی طرف رخ کرنے کا حکم دیا گیا ربیع الاول اور رجب 2 ہجری کو ایک شمار کر لیں تو مدت سولہ ماہ ہو گی مگر الگ الگ شمار کر لیں تو مدت سترہ ماہ ہو گی (2)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم بشربن براء بن معرور رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کے موقع پر ان کی والدہ کے پاس تعزیت کے لیے تشریف لائے تھے ان کا گھر بنو سلمہ میں تھا ظہر کا وقت وہیں ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو سلمہ کی مسجد میں ظہر کی نماز ادا کی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتیں ادا کر چکے تو قبلہ نماز ہی میں تبدیل ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے سے صفوں کے پیچھے آ گئے اور نماز مکمل کی اس لیے بنو سلمہ کی مسجد کو مسجد (ذِی الْقِبْلَتَیْنِ)
کا نام دیا جاتا ہے کیونکہ اس میں ایک ہی نماز دو قبلوں کی طرف رخ کر کے پڑھی گئی ہے اور سب سے پہلے مکمل نماز بیت اللہ کی طرف رخ کر کے مسجد نبوی میں عصر کی نماز پڑھی گئی۔
(3)
حضرت عباد بن بشر رضی اللہ تعالیٰ عنہ عصر کی نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیت اللہ کی طرف رخ کر کے پڑھ کر گئے تو راستہ میں بنو حارثہ کی مسجد سے گزرے وہ بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ رہے تھے حضرت عباد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بتانے پر وہ نماز ہی میں بیت اللہ کی طرف پھر گئے اور حضرت عباد رضی اللہ تعالیٰ عنہ یا کوئی اور صحابی قباء میں عمرو بن عوف کی مسجد میں صبح کی نماز میں ایک رکعت ہو جانے کے بعد پہنچے اور ان کو قبلہ کی تبدیلی سے آگاہ کیا تو انھوں نے بھی نماز ہی میں اپنا رخ تبدیل کر لیا۔
(4)
جب تک انسان کو کسی شرعی حکم کا علم نہ ہو وہ اس کا مکلف نہیں ہو گا اہل قباء کو قبلہ کی تبدیلی کا علم صبح کی نماز میں ہوا اس لیے عصر،
مغرب اور عشاء کی نماز انھوں نے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کچھ نہیں کہا۔
(5)
ایک آدمی اگر قابل اعتماد ہو تو اس کی بات پر عمل کیا جائے گا بنو حارثہ اور بنو عمرو بن عوف نے صرف ایک آدمی کی خبر پر قطعی اور یقینی قبلہ کی طرف سے رخ دوسرے قبلہ کی طرف کر لیا،
کیونکہ قبلہ کی تبدیلی کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش سے وہ آگاہ تھے اس لیے اس قرینہ کی بنا پر ایک آدمی کی خبر نے یقین کا فائدہ دیا۔
فوائد ومسائل:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت سے پہلے مکہ مکرمہ میں نماز اس طرح پڑھا کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ بیت اللہ اور بیت المقدس دونوں کی طرف ہوتا تھا ہجرت کے بعد یہ صورت ممکن نہ رہی کیونکہ مدینہ منورہ سے بیت المقدس شمال کی طرف ہے اور مکہ مکرمہ جنوب کی طرف اس لیے اگر بیت المقدس کی طرف رخ کریں تو بیت اللہ کی طرف پشت ہو گی یہود کو مانوس اور قریب کرنے کے لیے رخ بیت المقدس کی طرف رکھا گیا لیکن انھوں نے اس کو قریب آنے کے بجائے الٹا مخالفت کا ذریعہ بنا لیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہماری مخالفت کرتا ہے لیکن نماز میں رخ ہمارے قبلہ کی طرف کرتا ہے اور مشرکین مکہ بھی اعتراض کرتے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ملت ابراہیمی کا دعویدار ہے لیکن نماز میں رخ ان کے تعمیر کردہ گھر اور قبلہ کی طرف نہیں کرتا اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دلی آرزو اور خواہش یہی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھیں ہجرت کے سولہ یا سترہ ماہ بعد 15 رجب 2 ہجری کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ کی طرف رخ کرنے کا حکم دیا گیا ربیع الاول اور رجب 2 ہجری کو ایک شمار کر لیں تو مدت سولہ ماہ ہو گی مگر الگ الگ شمار کر لیں تو مدت سترہ ماہ ہو گی (2)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم بشربن براء بن معرور رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کے موقع پر ان کی والدہ کے پاس تعزیت کے لیے تشریف لائے تھے ان کا گھر بنو سلمہ میں تھا ظہر کا وقت وہیں ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو سلمہ کی مسجد میں ظہر کی نماز ادا کی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتیں ادا کر چکے تو قبلہ نماز ہی میں تبدیل ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے سے صفوں کے پیچھے آ گئے اور نماز مکمل کی اس لیے بنو سلمہ کی مسجد کو مسجد (ذِی الْقِبْلَتَیْنِ)
کا نام دیا جاتا ہے کیونکہ اس میں ایک ہی نماز دو قبلوں کی طرف رخ کر کے پڑھی گئی ہے اور سب سے پہلے مکمل نماز بیت اللہ کی طرف رخ کر کے مسجد نبوی میں عصر کی نماز پڑھی گئی۔
(3)
حضرت عباد بن بشر رضی اللہ تعالیٰ عنہ عصر کی نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیت اللہ کی طرف رخ کر کے پڑھ کر گئے تو راستہ میں بنو حارثہ کی مسجد سے گزرے وہ بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ رہے تھے حضرت عباد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بتانے پر وہ نماز ہی میں بیت اللہ کی طرف پھر گئے اور حضرت عباد رضی اللہ تعالیٰ عنہ یا کوئی اور صحابی قباء میں عمرو بن عوف کی مسجد میں صبح کی نماز میں ایک رکعت ہو جانے کے بعد پہنچے اور ان کو قبلہ کی تبدیلی سے آگاہ کیا تو انھوں نے بھی نماز ہی میں اپنا رخ تبدیل کر لیا۔
(4)
جب تک انسان کو کسی شرعی حکم کا علم نہ ہو وہ اس کا مکلف نہیں ہو گا اہل قباء کو قبلہ کی تبدیلی کا علم صبح کی نماز میں ہوا اس لیے عصر،
مغرب اور عشاء کی نماز انھوں نے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کچھ نہیں کہا۔
(5)
ایک آدمی اگر قابل اعتماد ہو تو اس کی بات پر عمل کیا جائے گا بنو حارثہ اور بنو عمرو بن عوف نے صرف ایک آدمی کی خبر پر قطعی اور یقینی قبلہ کی طرف سے رخ دوسرے قبلہ کی طرف کر لیا،
کیونکہ قبلہ کی تبدیلی کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش سے وہ آگاہ تھے اس لیے اس قرینہ کی بنا پر ایک آدمی کی خبر نے یقین کا فائدہ دیا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1180]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1045
غیر قبلہ کی طرف نماز پڑھ رہا ہو پھر قبلے کا صحیح علم ہو جائے تو کیا کرے؟
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ رہے تھے، جب آیت کریمہ: «فول وجهك شطر المسجدالحرام وحيث ما كنتم فولوا وجوهكم شطره» ”یعنی اپنا منہ مسجد الحرام کی طرف پھیر لیں اور آپ جہاں کہیں ہوں اپنا منہ اسی طرف پھیرا کریں“ (سورۃ البقرہ: ۱۵۰) نازل ہوئی تو قبیلہ بنو سلمہ کا ایک شخص لوگوں کے پاس سے ہو کر گزرا اس حال میں کہ وہ لوگ نماز فجر میں رکوع میں تھے اور بیت المقدس کی طرف رخ کئے ہوئے تھے تو اس نے انہیں دو بار آواز دی: لوگو! آگاہ ہو جاؤ، قبلہ کعبہ کی طرف بدل دیا گیا ہے (یہ حکم سنتے ہی) لوگ حالت رکوع ہی میں کعبہ کی طرف پھر گئے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1045]
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ رہے تھے، جب آیت کریمہ: «فول وجهك شطر المسجدالحرام وحيث ما كنتم فولوا وجوهكم شطره» ”یعنی اپنا منہ مسجد الحرام کی طرف پھیر لیں اور آپ جہاں کہیں ہوں اپنا منہ اسی طرف پھیرا کریں“ (سورۃ البقرہ: ۱۵۰) نازل ہوئی تو قبیلہ بنو سلمہ کا ایک شخص لوگوں کے پاس سے ہو کر گزرا اس حال میں کہ وہ لوگ نماز فجر میں رکوع میں تھے اور بیت المقدس کی طرف رخ کئے ہوئے تھے تو اس نے انہیں دو بار آواز دی: لوگو! آگاہ ہو جاؤ، قبلہ کعبہ کی طرف بدل دیا گیا ہے (یہ حکم سنتے ہی) لوگ حالت رکوع ہی میں کعبہ کی طرف پھر گئے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1045]
1045۔ اردو حاشیہ:
➊ اسلام میں احکام کا نسخ ثابت ہے اور جب تک اس کا علم نہ ہو جائے کوئی اس کا مکلف نہیں ہوا کرتا۔
➋ کسی قابل اعتماد فرد واحد کی خبر بھی قابل قبول ہوتی ہے، جسے اصطلاحاً خبر واحد کہتے ہیں۔
➌ لاعلمی میں اگر قبلہ کی طرف نماز پڑھ لی گئی ہو تو وہ صحیح ہے۔
➍ ضرورت کے پیش نظر نمازی کو حالت نماز میں وہ شخص تعلیم دے سکتا ہے، جو نماز نہ پڑھ رہا ہو۔
➎ ایسی تعلیم سے نمازی کی نماز خراب نہیں ہوتی۔ «والله اعلم»
➊ اسلام میں احکام کا نسخ ثابت ہے اور جب تک اس کا علم نہ ہو جائے کوئی اس کا مکلف نہیں ہوا کرتا۔
➋ کسی قابل اعتماد فرد واحد کی خبر بھی قابل قبول ہوتی ہے، جسے اصطلاحاً خبر واحد کہتے ہیں۔
➌ لاعلمی میں اگر قبلہ کی طرف نماز پڑھ لی گئی ہو تو وہ صحیح ہے۔
➍ ضرورت کے پیش نظر نمازی کو حالت نماز میں وہ شخص تعلیم دے سکتا ہے، جو نماز نہ پڑھ رہا ہو۔
➎ ایسی تعلیم سے نمازی کی نماز خراب نہیں ہوتی۔ «والله اعلم»
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1045]
Sahih Muslim Hadith 1180 in Urdu
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري