🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. باب السهو في الصلاة والسجود له:
باب: نماز میں بھولنے اور سجدہ سہو کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 569 ترقیم شاملہ: -- 1268
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ وَلَّى، وَلَهُ ضُرَاطٌ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَزَادَ: فَهَنَّاهُ وَمَنَّاهُ وَذَكَّرَهُ مِنْ حَاجَاتِهِ، مَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ.
عبدالرحمن اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے تکبیر کہی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر گوز مارتا ہوا بھاگتا ہے (آگے اوپر کی روایت کی طرح ذکر کیا) اور یہ اضافہ کیا: اسے رغبت اور امید دلاتا ہے اور اسے اس کی ایسی ضرورتیں یاد دلاتا ہے جو اسے یاد نہیں ہوتیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1268]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے تکبیر کہی جاتی ہے تو شیطان ہوا خارج کرتا ہوا پشت پھیر کر بھاگتا ہے، اوپر کی طرح روایت سنائی اور اس میں یہ اضافہ کیا: اسے رغبتیں اور امیدیں دلاتا ہے اور اسے اس کی وہ ضرورتیں یاد دلاتا ہے جو اسے یاد نہ تھیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1268]
ترقیم فوادعبدالباقی: 569
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن هرمز الأعرج، أبو داود
Newعبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت عالم
👤←👥عبد ربه بن سعيد الأنصاري
Newعبد ربه بن سعيد الأنصاري ← عبد الرحمن بن هرمز الأعرج
ثقة
👤←👥عمرو بن الحارث الأنصاري، أبو أيوب، أبو أمية
Newعمرو بن الحارث الأنصاري ← عبد ربه بن سعيد الأنصاري
ثقة فقيه حافظ
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← عمرو بن الحارث الأنصاري
ثقة حافظ
👤←👥حرملة بن يحيى التجيبي، أبو حفص
Newحرملة بن يحيى التجيبي ← عبد الله بن وهب القرشي
صدوق حسن الحديث
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1268 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1268
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
هَنَّاهُ تَهْنِئَةً:
شوق ورغبت دلانا۔
هَنَّاهُ بِكَذَا:
کا معنی ہوتا ہے اس چیز کی مبارکباد دینا۔
مَنَّاهُ:
آرزو اور امید دلانا،
یہاں دونوں لفظوں سے مقصود،
دلی خیالات و تصورات ہیں۔
فوائد ومسائل:

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اذان اورتکبیر میں یہ خاصہ اور تاثیر رکھی ہے کہ ان کو سن کر شیطان بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔
یعنی وہ شیطان جو ہر انسان کے ساتھ لگا ہوا ہے۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ اگر انسان کو یہ یاد نہ رہے کہ اس نے نماز کی کتنی رکعتیں پڑھی ہیں کم ہیں یا زائد پڑھ لیں ہیں تو وہ آخر میں دو سجدے کر لے۔
حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ اورسلف کی ایک جماعت کا یہی موقف ہے۔
شعبی رحمۃ اللہ علیہ۔
اوزاعی رحمۃ اللہ علیہ اور بہت سے سلف کا نظریہ یہ ہے کہ ایسی صورت میں وہ نماز نئے سرے سے پڑھے گا اگر پھر یاد نہ رہا تو پھر نئے سرے سے پڑھے گا جب تک یقین نہیں ہو گا نماز نئے سرے سے پڑھتا رہے گا۔
اور بعض کا خیال ہے چوتھی دفعہ کے بعد اعادہ نہیں ہے۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا مسلک یہ ہے اگر پہلی بار شک ہوا ہے تو نماز نئے سرے سے پڑھے،
اگر ایسے ہوتا رہتا ہے تو پھر ظن غالب پرعمل کرے،
مثلاً تین اور چار میں تردد ہے تو پھر ظن غالب پر عمل کر کے دو سجدے کر لے اور اگر ظن غالب نہ ہو تو جتنی رکعات یقینی ہیں،
یعنی تین جس کو بنَا عَلَی الْاَقَلّ کہتے ہیں۔
سمجھ کر چوتھی رکعت پڑھ کر دو سجدے کرلے۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ،
اورامام احمد رحمۃ اللہ علیہ۔
کے نزدیک یقینی رکعات پرعمل کرے اور آخر میں دو سجدے کر لے۔
احادیث کی روشنی میں صحیح موقف یہی ہے۔
کہ فَلْیَتَحَرِّ الصَّوَابَ صحیح بات کو پہنچنے کی کوشش کرے۔
جیسا کہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے اگر یہ نہ ہو سکے تو پھر:
(وَلْيَبْنِ عَلَى مَا اسْتَيْقَنَ)
جتنی رکعات کا یقین ہو اس کے مطابق پڑھے جیسا کہ ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے کیونکہ احادیث ایک دوسری کی تفسیر و توضیح کرتی ہیں،
رہی وہ حدیث جس میں اعادہ کا حکم ہے تو اس کے بارے میں مولانا شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
(لَايُوْجَدُ فِي كُتُبِ الْحَدِيْثِ)
یہ حدیث کی کتابوں میں نہیں ملتی۔
(فتح الملھم: 2/ 156)
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1268]

Sahih Muslim Hadith 1268 in Urdu