🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. باب ما يقال بين تكبيرة الإحرام والقراءة:
باب: تکبیر تحریمہ اور قرأت کے بیچ کی دعاؤں کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 601 ترقیم شاملہ: -- 1358
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا؟ "، قَالَ رَجُلٌ مِنِ الْقَوْمِ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " عَجِبْتُ لَهَا، فُتِحَتْ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ "، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَمَا تَرَكْتُهُنَّ، مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ ذَلِكَ.
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک دفعہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: «اللہ اکبر کبیرا، والحمد للہ کثیرا، وسبحان اللہ بکرة وأصیلا» اللہ سب سے بڑا ہے بہت بڑا، اور تمام تعریف اللہ کے لیے ہے بہت زیادہ اور تسبیح اللہ ہی کے لیے ہے، صبح و شام۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: فلاں فلاں کلمہ کہنے والا کون ہے؟ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ہوں۔ آپ نے فرمایا: مجھے ان پر بہت حیرت ہوئی، ان کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے گئے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے جب سے آپ سے یہ بات سنی، اس کے بعد سے ان کلمات کو کبھی ترک نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1358]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے، اس اثنا میں لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: «اللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَسُبْحَانَ اللهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا» اللہ بہت بڑا ہے اور اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریف ہے اور صبح و شام اللہ ہی کے لیے پاکیزگی و تسبیح ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کلمات کس نے کہے ہیں؟ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے کہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ان پر تعجب ہوا، ان کے لیے آسمان کے دروازے کھولے گئے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سننے کے بعد ان کلمات کو کبھی نہیں چھوڑا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1358]
ترقیم فوادعبدالباقی: 601
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عون بن عبد الله الهذلي، أبو عبد الله
Newعون بن عبد الله الهذلي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير
Newمحمد بن مسلم القرشي ← عون بن عبد الله الهذلي
صدوق إلا أنه يدلس
👤←👥الحجاج بن أبي عثمان الصواف، أبو عثمان، أبو الصلت
Newالحجاج بن أبي عثمان الصواف ← محمد بن مسلم القرشي
ثقة حافظ
👤←👥إسماعيل بن علية الأسدي، أبو بشر
Newإسماعيل بن علية الأسدي ← الحجاج بن أبي عثمان الصواف
ثقة حجة حافظ
👤←👥زهير بن حرب الحرشي، أبو خيثمة
Newزهير بن حرب الحرشي ← إسماعيل بن علية الأسدي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
886
لقد ابتدرها اثنا عشر ملكا
سنن النسائى الصغرى
887
عجبت لها وذكر كلمة معناها فتحت لها أبواب السماء
صحيح مسلم
1358
عجبت لها فتحت لها أبواب السماء
جامع الترمذي
3592
عجبت لها فتحت لها أبواب السماء
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1358 کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل،صحیح مسلم 1358
تکبیراتِ عیدین کے الفاظ
………… سوال …………
عیدین کی تکبیرات جس کے الفاظ یہ ہیں:
«الله أكبر كبيرًا والحمدللّٰه كثيرًا وسبحان الله بكرة وأصيلا»
اس تکبیر میں کیا حرج ہے؟ اس کی بھی وضاحت کریں۔
………… الجواب …………
میرے علم کے مطابق یہ الفاظ، تکبیراتِ عیدین میں ثابت نہیں البتہ نماز میں ضرور ثابت ہیں۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا:
«اللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ كَثِيرًا، وَسُبْحَانَ اللهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا»
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کلمات کس نے کہے ہیں؟
اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے۔
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ان (کلمات) کے لئے تعجب ہے، ان کے لئے آسمان کے دروازے کھل گئے ہیں۔
[صحيح مسلم، كتاب المساجد باب مايقال بين تكبيرة الاحرام والقراءة ح 601]
تکبیراتِ عیدین میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے
«اللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللهُ أَكْبَرُ، وَأَجَلُّ اللهُ أَكْبَرُ، وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ»
اور سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے
«اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا»
کے الفاظ ثابت ہیں۔
[مصنف ابن ابي شيبه 2/ 167 ح 5645، السنن الكبريٰ للبيهقي 3/ 316]
اس سلسلے میں مرفوعاً
«اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ»
کے الفاظ جو سنن دارقطنی [2/ 49 ح 1721] کی روایت میں آئے ہیں، وہ روایت عمرو بن شمر (کذاب) وغیرہ کی وجہ سے موضوع ہے۔
اسے حافظ ذہبی نے سخت ضعیف بلکہ موضوع (من گھڑت) کہاہے۔
لیکن یاد رہے کہ یہ الفاظ ابراہیم نخعی سے باسند صحیح ثابت ہیں۔ دیکھئے [مصنف ابن ابي شيبه 2/ 167 ح 5649 وسنده صحيح]

………… سوال …………
بروز عیدین و ایام تشریق میں پڑھے جانے والے (تکبیر کے) مشہور الفاظ
«اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ»
کیا یہ کسی صحیح حدیث و صحیح روایت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں؟ یا کسی صحابی سے ثابت ہیں؟ یا کسی تابعی سے ثابت ہیں؟ یا محدثین عظام سے ثابت ہیں؟ ان کے ان مواقع پر پڑھنے کی شرعی حیثیت واضح فرمائیں۔
………… الجواب …………
ایک حدیث میں آیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایام عید کی تکبیروں میں درج ذیل کلمات کہتے تھے:
«اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ»
[سنن الدارقطني ج 2 ص 49، 50 ح 1721]
اس روایت کی سند موضوع ہے۔ عمرو بن شمر کذاب راوی ہے۔ جابر الجعفی سخت ضعیف رافضی ہے۔ نائل بن نجیح ضعیف ہے۔ دیکھئے کتب اسماء الرجال وغیرہ
ایک روایت میں آیا ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ تکبیرات عیدین میں درج ذیل الفاظ پڑھتے تھے:
«اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللَّهُ أَكْبَرُ، وَأَجَلُّ اللَّهُ أَكْبَرُ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ»
[مصنف ابن ابي شيبه 2/ 167 ح 5650]
اس کی سند صحیح ہے۔
سیدنا سلمان الفارسی رضی اللہ عنہ یہ الفاظ پڑھتے تھے:
«اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ»
[مصنف عبدالرزاق 11/ 294، 295 ح 20581، والبيهقي 3/ 316، وسنده حسن]
ابراہیم النخعی کہتے ہیں:
«كَانُوا يُكَبِّرُونَ يَوْمَ عَرَفَةَ، وَأَحَدُهُمْ مُسْتَقْبِلٌ الْقِبْلَةَ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ: اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، واللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ، وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ»
[مصنف ابن ابي شيبه ج 2 ص 167 ح 5649 وسنده صحيح]
درج بالا تکبیرات صحابہ و تابعین سے ثابت ہیں لہٰذا ایام عیدین میں انھیں پڑھنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ اقتداء بالسلف کی رو سے ثواب کی امید ہے۔
مختصر یہ کہ آپ کی ذکر کردہ دعا پڑھنی تابعین سے ثابت ہے اور اس پر عمل صحیح ہے۔ والحمدللہ
……………… اصل مضمون ………………
اصل مضمون کے لئے دیکھئے فتاویٰ علمیہ المعروف توضیح الاحکام (جلد 1 صفحہ 479 تا 481) للشیخ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
[فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)، حدیث/صفحہ نمبر: 479]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1358
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
ان دو آدمیوں نے یہ ذکر کہاں کیا تھا حدیث میں اس کا محل اور موقع نہیں بتایا گیا اس لیے بعض حضرات نے ان کا محل آغاز نماز بتایا ہے جیسا کہ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ کے ترجمہ سے معلوم ہوتا ہے اور بعض نے رکوع کے بعد۔
(رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ)
کے بعد کہا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1358]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 886
وہ کلمہ جس کے ذریعہ نماز شروع کی جاتی ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو کر پڑھا: «اللہ أكبر كبيرا والحمد لله كثيرا وسبحان اللہ بكرة وأصيلا‏» اللہ بہت بڑا ہے، اور میں اسی کی بڑائی بیان کرتا ہوں، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور میں اسی کی خوب تعریف کرتا ہوں، اللہ کی ذات پاک ہے، اور میں صبح و شام اس کی ذات کی پاکی بیان کرتا ہوں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کلمے کس نے کہے ہیں؟ تو اس آدمی نے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں نے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے بارہ فرشتوں کو اس پر جھپٹتے دیکھا ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 886]
886 ۔ اردو حاشیہ:
➊ دعائے استفتاح کے سلسلے میں اور دعائیں بھی آئی ہیں۔ ان مسنون دعاؤں میں سے کوئی دعا بھی پڑھی جا سکتی ہے۔ یہ کہنا کہ «سبحانَك اللهمَّ۔۔۔ الخ» کے علاوہ باقی سب نوافل و تہجد وغیرہ میں جائز ہیں، فرائض میں نہیں، بلادلیل ہے اور اپنے آپ کو شارع قرار دینا ہے، حالانکہ ان میں سے بعض دعاؤں کے بارے میں تو فرض نماز میں پڑھے جانے کی صراحت ہے۔ واللہ أعلم۔
➋ اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کراماً کاتبین کے علاوہ دوسرے فرشتے بھی بعض اعمال اللہ کے ہاں لے کر حاضر ہوتے ہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 886]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3592
ام سلمہ رضی الله عنہا کی دعا کا بیان
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک بار ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے ۱؎، اسی دوران ایک شخص نے کہا: «الله أكبر كبيرا والحمد لله كثيرا وسبحان الله بكرة وأصيلا» اللہ بہت بڑائی والا ہے، اور ساری تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اور پاکی ہے اللہ تعالیٰ کے لیے صبح و شام، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (سنا تو) پوچھا: ایسا ایسا کس نے کہا ہے؟ لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: میں نے کہا ہے، اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: میں اس کلمے کو سن کر حیرت میں پڑ گیا، اس کلمے کے لیے آسمان کے دروازے کھولے گئے۔‏‏‏‏ ا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3592]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
نماز پڑھ رہے تھے سے مراد: ہم لوگ نماز شروع کر چکے تھے،
اتنے میں وہ آدمی آیا اور دعاءِ ثناء کی جگہ اس نے یہی کلمات کہے،
اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تقریر(تصدیق) کر دی،
تو گویا ثناء کی دیگر دعاؤں کے ساتھ یہ دعاء بھی ایک ثناء ہے،

امام نسائی دعاءِ ثنا کے باب ہی میں اس حدیث کو لاتے ہیں،
اس لیے بعض علماء کا یہ کہنا کہ (سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ...) کے سواء ثنا کی بابت منقول ساری دعائیں سنن ونوافل سے تعلق رکھتی ہیں،
صحیح نہیں ہے۔

2؎:
اللہ بہت بڑائی والا ہے،
اور ساری تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں،
اور پاکی ہے اللہ تعالیٰ کے لیے صبح و شام۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3592]

Sahih Muslim Hadith 1358 in Urdu