سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب : القول الذي يفتتح به الصلاة
باب: وہ کلمہ جس کے ذریعہ نماز شروع کی جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 887
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُجَاعٍ الْمَرُّوذِيُّ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قال: بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنِ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا" فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" عَجِبْتُ لَهَا وَذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا فُتِحَتْ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ" قَالَ: ابْنُ عُمَرَ مَا تَرَكْتُهُ مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ اسی دوران لوگوں میں سے ایک شخص نے: «اللہ أكبر كبيرا والحمد لله كثيرا وسبحان اللہ بكرة وأصيلا» ”اللہ بہت بڑا ہے، اور میں اسی کی بڑائی بیان کرتا ہوں، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور میں اسی کی خوب تعریف کرتا ہوں، اللہ کی ذات پاک ہے، اور میں صبح و شام اس کی ذات کی پاکی بیان کرتا ہوں“ کہا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کلمے کس نے کہے ہیں؟“ تو لوگوں میں سے ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے کہے ہیں، تو آپ نے فرمایا: ”مجھے اس کلمہ پر حیرت ہوئی“، اور آپ نے ایک ایسی بات ذکر کی جس کا مفہوم یہ ہے کہ اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے گئے، ابن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا ہے میں نے اسے کبھی نہیں چھوڑا۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 887]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے تو لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: «اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا» ”اللہ سب سے بڑا ہے بہت بڑا، اور تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں بہت زیادہ، اور اللہ کی پاکی ہے صبح اور شام“ (نماز کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فلاں کلمات کس شخص نے کہے تھے؟“ ایک آدمی نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں نے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے ان پر بہت تعجب ہوا، ان کے لیے آسمان کے سب دروازے کھول دیے گئے۔“ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے، اس وقت سے میں نے اس دعا کو نہیں چھوڑا۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 887]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
886
| لقد ابتدرها اثنا عشر ملكا |
سنن النسائى الصغرى |
887
| عجبت لها وذكر كلمة معناها فتحت لها أبواب السماء |
صحيح مسلم |
1358
| عجبت لها فتحت لها أبواب السماء |
جامع الترمذي |
3592
| عجبت لها فتحت لها أبواب السماء |
Sunan an-Nasa'i Hadith 887 in Urdu
عون بن عبد الله الهذلي ← عبد الله بن عمر العدوي