صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
18. باب جامع صلاة الليل ومن نام عنه او مرض:
باب: رات کی نماز کے احکام اور جس سے سونے یا بیمار ہونے کی وجہ سے رہ جائے۔
ترقیم عبدالباقی: 746 ترقیم شاملہ: -- 1742
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ كِلَاهُمَا، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ هِشَامٍ كَانَ جَارًا لَهُ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ سَعِيدٍ، وَفِيهِ قَالَتْ: مَنْ هِشَامٌ؟ قَالَ: ابْنُ عَامِرٍ، قَالَتْ: نِعْمَ، الْمَرْءُ كَانَ أُصِيبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَفِيهِ فَقَالَ حَكِيمُ بْنُ أَفْلَحَ: أَمَا إِنِّي لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكَ لَا تَدْخُلُ عَلَيْهَا، مَا أَنْبَأْتُكَ بِحَدِيثِهَا.
معمر نے قتادہ سے اور انہوں نے زرارہ بن اوفیٰ سے روایت کی کہ سعد بن ہشام ان کے پڑوسی تھے، انہوں نے ان کو بتایا کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ آگے سعید (بن ابی عروبہ) کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ اس میں ہے، (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: کون ہشام؟ عرض کی: عامر رضی اللہ عنہ کے بیٹے۔ انہوں نے کہا: وہ اچھے انسان تھے، غزوہ احد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (لڑتے ہوئے) تھے، شہید ہوئے، نیز اس (روایت) میں ہے کہ (سعد کے بجائے) حکیم بن افلح نے کہا: اگر میں جانتا کہ آپ ان کے پاس حاضر نہیں ہوتے تو میں آپ کو ان کی حدیث نہ بتاتا۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1742]
زرارہ بن اوفی بیان کرتے ہیں کہ سعد بن ہشام ان کے پڑوسی تھے، انہوں نے ان کو بتایا کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ آگے سعید (بن ابی عروبہ) کے ہم معنیٰ حدیث بیان کی۔ اس میں ہے، (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: ”کون ہشام؟“ عرض کی: ”عامر رضی اللہ عنہ کے بیٹے“۔ انہوں نے کہا: ”وہ اچھے انسان تھے، غزوہ احد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (لڑتے ہوئے) شہید ہوئے“، نیز اس (روایت) میں ہے کہ (سعد کی بجائے) حکیم بن افلح نے کہا: ”اگر میں جانتا کہ آپ ان کے پاس حاضر نہیں ہوتے تو میں آپ کو ان کی حدیث نہ بتاتا“۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1742]
ترقیم فوادعبدالباقی: 746
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1742 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1742
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اوپر والی طویل حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ الفاظ سعد بن ہشام نے کہے اور اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے یہ حکیم بن افلح نے کہے چونکہ یہ دونوں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے پاس آئے تھے الفاظ سعد نے کہے اور حکیم نے تائید کی۔
اس لیے اس کی طرف ہی نسبت کر دی گئی اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خاطر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس جانا چھوڑ دیا تھا۔
لیکن بعد میں جانا شروع کر دیا تھا۔
فوائد ومسائل:
اوپر والی طویل حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ الفاظ سعد بن ہشام نے کہے اور اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے یہ حکیم بن افلح نے کہے چونکہ یہ دونوں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے پاس آئے تھے الفاظ سعد نے کہے اور حکیم نے تائید کی۔
اس لیے اس کی طرف ہی نسبت کر دی گئی اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خاطر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس جانا چھوڑ دیا تھا۔
لیکن بعد میں جانا شروع کر دیا تھا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1742]
Sahih Muslim Hadith 1742 in Urdu
قتادة بن دعامة السدوسي ← زرارة بن أوفى العامري