الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
12. باب التغليظ في ترك الجمعة:
باب: جمعہ چھوڑنے پر وعید کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 865 ترقیم شاملہ: -- 2002
وحَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ وَهُوَ ابْنُ سَلَّامٍ ، عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي أَخَاهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مِينَاءَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ وَأَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَاهُ، أَنَّهُمَا سَمِعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ عَلَى أَعْوَادِ مِنْبَرِهِ: " لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ، عَنْ وَدْعِهِمُ الْجُمُعَاتِ، أَوْ لَيَخْتِمَنَّ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ، ثُمَّ لَيَكُونُنَّ مِنَ الْغَافِلِينَ ".
حکم بن میناء نے حدیث بیان کی کہا: حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما نے انہیں حدیث بیان کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ اپنے منبر کی لکڑیوں پر (کھڑے ہوئے) فرما رہے تھے: ”لوگوں کے گروہ ہر صورت جمعہ چھوڑ دینے سے باز آجائیں یا اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا پھر وہ غافلوں میں سے ہو جائیں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2002]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےسنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر کے اوپر فرما رہے تھے کہ جمعہ چھوڑنے والے لوگ یا تو اپنی اس حرکت سے باز آ جائیں یا یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ (ان کے گناہ کی پاداش میں) ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا۔ پھر وہ غافلوں ہی میں سے ہو جائیں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2002]
ترقیم فوادعبدالباقی: 865
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2002 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2002
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے جمعہ کی غیرمعمولی اہمیت ثابت ہوتی ہے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ معصیات ومنکرات کاعادی ہو جانے کی صورت میں انسان اللہ تعالیٰ کی نظر کرم سے محروم ہو جاتا ہے اور اس کے دل پر مہرلگا دی جاتی ہے جس کی وجہ سے انسان نیکی وخیر کی صلاحیت اور استعداد سے محروم ہو جاتا ہے اور اس کو نیکی کی توفیق نہیں ملتی۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے جمعہ کی غیرمعمولی اہمیت ثابت ہوتی ہے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ معصیات ومنکرات کاعادی ہو جانے کی صورت میں انسان اللہ تعالیٰ کی نظر کرم سے محروم ہو جاتا ہے اور اس کے دل پر مہرلگا دی جاتی ہے جس کی وجہ سے انسان نیکی وخیر کی صلاحیت اور استعداد سے محروم ہو جاتا ہے اور اس کو نیکی کی توفیق نہیں ملتی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2002]
عبد الله بن عمر العدوي ← أبو هريرة الدوسي