صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
4. باب التعوذ عند رؤية الريح والغيم والفرح بالمطر:
باب: ہوا اور بادل دیکھ کر پناہ مانگنا اور بارش دیکھ کر خوش ہونے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 899 ترقیم شاملہ: -- 2085
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ جُرَيْجٍ ، يُحَدِّثُنَا، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْج النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَصَفَتِ الرِّيحُ، قَالَ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا فِيهَا وَخَيْرَ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ "، قَالَتْ: وَإِذَا تَخَيَّلَتِ السَّمَاءُ تَغَيَّرَ لَوْنُهُ وَخَرَجَ وَدَخَلَ وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ، فَإِذَا مَطَرَتْ سُرِّيَ عَنْهُ، فَعَرَفْتُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ. قَالَتْ عَائِشَةُ: فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: " لَعَلَّهُ يَا عَائِشَةُ كَمَا قَالَ قَوْمُ عَادٍ: فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا سورة الأحقاف آية 24 ".
ابن جریج عطاء بن ابی رباح سے حدیث بیان کرتے ہیں، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: جب تیز ہوا چلتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے: ”اے اللہ! میں تجھ سے اس کی خیر اور بھلائی کا سوال کرتا ہوں۔ اور جو اس میں ہے اس کی اور جو کچھ اس کے ذریعے بھیجا گیا ہے اس کی خیر (کا طلبگار ہوں) اور اس کے شر سے اور جو کچھ اس میں ہے اور جو اس میں بھیجا گیا ہے اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: جب آسمان پر بادل گھر آتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ بدل جاتا اور آپ (اضطراب کے عالم میں) کبھی باہر نکلتے اور کبھی اندر آتے، کبھی آگے بڑھتے اور کبھی پیچھے ہٹتے، اس کے بعد جب بارش برسنے لگتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے (یہ کیفیت) دور ہو جاتی، مجھے اس کیفیت کا پتہ چل گیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! ہو سکتا ہے (یہ اسی طرح ہو) جیسے قوم عاد نے (بادلوں کو دیکھ کر) کہا تھا: «فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَٰذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا» (جب انہوں نے اس (عذاب) کو بادل کی طرح اپنی بستیوں کی طرف آتے دیکھا تو انہوں نے کہا: یہ بادل ہے جو ہم پر برسے گا)۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 2085]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جب تیز ہوا چلتی تو دعا کرتے: ”اے اللہ!!میں تجھ سے اس کی خیر و بھلائی کا طالب ہوں۔ اور جو اس میں ہے اس کی خیر کا اور جو کچھ اس کے اس میں بھیجا گیا ہے اس کی خیر مانگتا ہوں اور اس کے شر سے اور جو اس میں ہے اس کے شر سے اور جو اس میں بھیجا گیا ہے ا س کے شر سے تیری پناہ چاہتاہوں“ (حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا) بیان فرماتی ہیں جب آسمان پر بادل گرجتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ بدل جاتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم (اضطراب اور ڈر سے) کبھی اندر آتے اور کبھی باہر نکلتے، کبھی آگے بڑھتے اور کبھی پیچھے ہٹتے، اور جب بارش ہو جاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت ختم ہو جاتی، عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں جب مجھے اس کیفیت کا پتہ چلا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ!ہو سکتا ہے یہ وہی صروت ہو جیسے عاد کی قوم نے دیکھ کر کہا تھا: جب انھوں نے اس (عذاب) کو بادل کی طرح اپنی بستیوں کی طرف آتے دیکھا تو کہا: یہ بادل ہے جو ہم پربارش برسائے گا۔“(الأحقاف: 24) [صحيح مسلم/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 2085]
ترقیم فوادعبدالباقی: 899
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
3206
| ما أدري لعله كما قال قوم فلما رأوه عارضا مستقبل أوديتهم |
صحيح البخاري |
4829
| ما يؤمني أن يكون فيه عذاب عذب قوم بالريح وقد رأى قوم العذاب فقالوا هذا عارض ممطرنا |
صحيح البخاري |
1032
| اللهم صيبا نافعا |
صحيح مسلم |
2084
| إذا كان يوم الريح والغيم عرف ذلك في وجهه وأقبل وأدبر إذا مطرت سر به وذهب عنه ذلك قالت عائشة فسألته فقال إني خشيت أن يكون عذابا سلط على أمتي يقول إذا رأى المطر رحمة |
صحيح مسلم |
2085
| اللهم إني أسألك خيرها وخير ما فيها وخير ما أرسلت به وأعوذ بك من شرها وشر ما فيها وشر ما أرسلت به قالت وإذا تخيلت السماء تغير لونه وخرج ودخل وأقبل وأدبر فإذا مطرت سري عنه |
صحيح مسلم |
2086
| ما يؤمنني أن يكون فيه عذاب قد عذب قوم بالريح وقد رأى قوم العذاب فقالوا هذا عارض ممطرنا |
جامع الترمذي |
3449
| اللهم إني أسألك من خيرها وخير ما فيها وخير ما أرسلت به وأعوذ بك من شرها وشر ما فيها وشر ما أرسلت به |
جامع الترمذي |
3257
| ما أدري لعله كما قال الله فلما رأوه عارضا مستقبل أوديتهم قالوا هذا عارض ممطرنا |
سنن أبي داود |
5099
| إذا رأى ناشئا في أفق السماء ترك العمل وإن كان في صلاة ثم يقول اللهم إني أعوذ بك من شرها فإن مطر قال اللهم صيبا هنيئا |
سنن أبي داود |
5098
| ما يؤمنني أن يكون فيه عذاب قد عذب قوم بالريح وقد رأى قوم العذاب فقالوا هذا عارض ممطرنا |
سنن النسائى الصغرى |
1524
| إذا أمطر قال اللهم اجعله صيبا نافعا |
سنن ابن ماجه |
3891
| ما يدريك لعله كما قال قوم هود فلما رأوه عارضا مستقبل أوديتهم قالوا هذا عارض ممطرنا بل هو ما استعجلتم به |
سنن ابن ماجه |
3889
| اللهم سيبا نافعا |
سنن ابن ماجه |
3890
| اللهم اجعله صيبا هنيئا |
بلوغ المرام |
411
| اللهم صيبا نافعا |
مسندالحميدي |
272
| اللهم سيبا نافعا |
عطاء بن أبي رباح القرشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق