صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
2. باب ذكر عذاب القبر في صلاة الخسوف:
باب: نماز خسوف میں عذاب قبر کا ذکر۔
ترقیم عبدالباقی: 903 ترقیم شاملہ: -- 2098
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عَمْرَةَ ، أَنَّ يَهُودِيَّةً أَتَتْ عَائِشَةَ تَسْأَلُهَا، فَقَالَتْ: أَعَاذَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يُعَذَّبُ النَّاسُ فِي الْقُبُورِ؟ قَالَتْ عَمْرَةُ: فَقَالَتْ عَائِشَةُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَائِذًا بِاللَّهِ "، ثُمَّ رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاةٍ مَرْكَبًا، فَخَسَفَتِ الشَّمْسُ. قَالَتْ عَائِشَةُ: فَخَرَجْتُ فِي نِسْوَةٍ بَيْنَ ظَهْرَيِ الْحُجَرِ فِي الْمَسْجِدِ، فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَرْكَبِهِ، حَتَّى انْتَهَى إِلَى مُصَلَّاهُ الَّذِي كَانَ يُصَلِّي فِيهِ، فَقَامَ وَقَامَ النَّاسُ وَرَاءَهُ. قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ ذَلِكَ الرُّكُوعِ، ثُمَّ رَفَعَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ: " إِنِّي قَدْ رَأَيْتُكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ كَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ ". قَالَتْ عَمْرَةُ: فَسَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَقُولُ: فَكُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ النَّارِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ.
سلیمان بن بلال نے یحییٰ (بن سعید) سے اور انہوں نے عمرہ سے روایت کی کہ ایک یہودی عورت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس مانگنے کے لیے آئی۔ اس نے آ کر (کہا): اللہ آپ کو عذاب قبر سے پناہ دے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگوں کو قبر میں عذاب ہوگا؟ عمرہ نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک صبح کسی سواری پر سوار ہو کر نکلے تو سورج کو گرہن لگ گیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں بھی عورتوں کے ساتھ حجروں کے درمیان سے نکل کر مسجد میں آئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے (اتر کر) نماز پڑھنے کی اس جگہ پر آئے جہاں آپ نماز پڑھایا کرتے تھے، آپ کھڑے ہو گئے اور لوگ بھی آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: پھر آپ نے لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا اور لمبا رکوع کیا، پھر (رکوع سے) سر اٹھایا اور طویل قیام کیا جو پہلے قیام سے چھوٹا تھا۔ اور پھر (رکوع سے) سر اٹھایا تو سورج روشن ہو چکا تھا، پھر (نماز سے فراغت کے بعد) آپ نے فرمایا: ”میں نے تمہیں دیکھا ہے کہ تم قبروں میں دجال کی آزمائش کی طرح آزمائش میں ڈالے جاؤ گے۔“ عمرہ نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کرتی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگ کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2098]
عمرہ رحمہا اللہ بیان کرتی ہیں کہ ایک یہودی عورت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس مانگنے کے لیے آئی اور اس نے کہا: «أَعَاذَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ» ”اللہ تعالیٰ تمہیں عذابِ قبر سے پناہ میں رکھے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا لوگوں کو قبر میں عذاب ہو گا؟“ عمرہ رحمہا اللہ کہتی ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «عَائِذًا بِاللَّهِ» ”میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک صبح کسی سواری پر سوار ہو کر نکلے تو سورج کو گہن لگ گیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں بھی عورتوں کے ساتھ حجروں کے درمیان سے نکل کر مسجد میں آئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اتر کر نماز گاہ (جہاں آپ نماز پڑھاتے تھے) تک پہنچے اور کھڑے ہو گئے اور لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو گئے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیر تک قیام کیا، پھر رکوع کیا اور طویل رکوع کیا، پھر اٹھے (رکوع سے سر اٹھایا) اور طویل قیام کیا جو پہلے قیام سے چھوٹا تھا، پھر رکوع کیا اور طویل رکوع کیا جو پہلے رکوع سے چھوٹا تھا، پھر رکوع سے سر اٹھایا (نماز سے فارغ ہوئے تو) سورج روشن ہو چکا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطاب فرمایا: ”میں نے تمہیں دیکھا ہے کہ تم قبروں میں دجال کی آزمائش کی طرح ابتلا اور آزمائش میں ڈالے جاؤ گے۔“ عمرہ رحمہا اللہ کہتی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنتی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگ کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2098]
ترقیم فوادعبدالباقی: 903
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
6366
| يعذبون عذابا تسمعه البهائم كلها ما رأيته بعد في صلاة إلا تعوذ من عذاب القبر |
صحيح مسلم |
2098
| تفتنون في القبور كفتنة الدجال |
صحيح مسلم |
1321
| يعذبون عذابا تسمعه البهائم ما رأيته بعد في صلاة إلا سمعته يتعوذ من عذاب القبر |
صحيح مسلم |
1319
| يستعيذ من عذاب القبر |
سنن النسائى الصغرى |
1476
| يفتنون في قبورهم كفتنة الدجال |
سنن النسائى الصغرى |
1309
| عذاب القبر حق يصلي صلاة بعد إلا تعوذ من عذاب القبر |
سنن النسائى الصغرى |
1500
| يفتنون في قبورهم كفتنة الدجال |
سنن النسائى الصغرى |
5506
| تفتنون في قبوركم |
سنن النسائى الصغرى |
1477
| تفتنون في القبور كفتنة الدجال |
سنن النسائى الصغرى |
2066
| أوحي إلي أنكم تفتنون في القبور يستعيذ من عذاب القبر |
سنن النسائى الصغرى |
2067
| يستعيذ من عذاب القبر من فتنة الدجال تفتنون في قبوركم |
سنن النسائى الصغرى |
2068
| يعذبون في قبورهم عذابا تسمعه البهائم |
سنن النسائى الصغرى |
2069
| يعذبون عذابا تسمعه البهائم كلها ما رأيته صلى صلاة إلا تعوذ من عذاب القبر |
صحيح البخاري |
1372
| ان يهودية دخلت عليها فذكرت عذاب القبر |
مشكوة المصابيح |
128
| ان يهودية دخلت عليها فذكرت عذاب القبر فقالت لها اعاذك الله من عذاب القبر |
Sahih Muslim Hadith 2098 in Urdu
عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق