🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب الامر بإخراج زكاة الفطر قبل الصلاة:
باب: عیدالفطر کی نماز ادا کرنے سے پہلے صدقہ فطر ادا کیا جائے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 986 ترقیم شاملہ: -- 2289
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَرَ بِإِخْرَاجِ زَكَاةِ الْفِطْرِ أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلَاةِ ".
ضحاک نے نافع سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر نکالنے کے بارے میں یہ حکم دیا کہ اسے لوگوں کے عید کے نکلنے سے پہلے ادا کر دیا جائے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2289]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فطرانہ نکالنے کے بارے میں یہ حکم دیا کہ اسے لوگوں کے عید کے لیے نکلنے سے پہلے ادا کیا جائے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2289]
ترقیم فوادعبدالباقی: 986
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥الضحاك بن عثمان الحزامي، أبو عثمان
Newالضحاك بن عثمان الحزامي ← نافع مولى ابن عمر
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن أبي فديك الديلي، أبو إسماعيل
Newمحمد بن أبي فديك الديلي ← الضحاك بن عثمان الحزامي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن رافع القشيري، أبو عبد الله
Newمحمد بن رافع القشيري ← محمد بن أبي فديك الديلي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
2522
أمر بصدقة الفطر أن تؤدى قبل خروج الناس إلى الصلاة
صحيح البخاري
1509
أمر بزكاة الفطر قبل خروج الناس إلى الصلاة
صحيح مسلم
2288
أمر بزكاة الفطر أن تؤدى قبل خروج الناس إلى الصلاة
صحيح مسلم
2289
أمر بإخراج زكاة الفطر أن تؤدى قبل خروج الناس إلى الصلاة
جامع الترمذي
677
يأمر بإخراج الزكاة قبل الغدو للصلاة يوم الفطر
سنن أبي داود
1610
أمرنا رسول الله بزكاة الفطر أن تؤدى قبل خروج الناس إلى الصلاة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2289 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2289
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
صدقۃالفطر کا عید کی نماز سے پہلے نکالنا ضروری ہے اگر بعد میں ادا کرے گا تو وہ صدقۃ الفطر نہیں ہو گا۔
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل کا تقاضا یہی ہے کہ ہر جنس سے ایک صاع صدقہ فطر ادا کیا جائے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2289]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1610
صدقہ فطر کب دیا جائے؟
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ صدقہ فطر لوگوں کے نماز کے لیے نکلنے سے پہلے ادا کیا جائے، راوی کہتے ہیں: چنانچہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نماز عید کے ایک یا دو دن پہلے صدقہ فطر ادا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1610]
1610. اردو حاشیہ:
➊ اس صدقے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حکم سے جاری فرمایا تھا۔ جو اس کے واجب ہونے کی دلیل ہے۔جیسے کہ دیگر احادیث میں (فرض) کالفظ آیا ہے۔
➋ صدقہ فطر کا حق یہ ہے کہ نماز عید کےلئے نکلنے سے پہلے پہلے اسے ادا کیاجائے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1610]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2522
صدقہ فطر کس وقت ادا کرنا مستحب ہے؟
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ صدقہ فطر نماز کے لیے لوگوں کے نکلنے سے پہلے ادا کر دیا جائے (ابن بزیع کی روایت میں «بصدقة الفطر» کے بجائے «بزكاة الفطر» ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2522]
اردو حاشہ:
تفصیل کے لیے دیکھیے روایت نمبر 2506۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2522]

Sahih Muslim Hadith 2289 in Urdu