سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
45. باب : الوقت الذي يستحب أن تؤدى صدقة الفطر فيه
باب: صدقہ فطر کس وقت ادا کرنا مستحب ہے؟
حدیث نمبر: 2522
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ بْنِ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا مُوسَى. ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِصَدَقَةِ الْفِطْرِ، أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلَاةِ" , قَالَ ابْنُ بَزِيعٍ: بِزَكَاةِ الْفِطْرِ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ صدقہ فطر نماز کے لیے لوگوں کے نکلنے سے پہلے ادا کر دیا جائے (ابن بزیع کی روایت میں «بصدقة الفطر» کے بجائے «بزكاة الفطر» ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2522]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 70 (1509)، صحیح مسلم/الزکاة 5 (986)، سنن ابی داود/الزکاة 18 (1610)، سنن الترمذی/الزکاة 36 (677)، (تحفة الأشراف: 8452)، مسند احمد (2/15، 154) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
2522
| أمر بصدقة الفطر أن تؤدى قبل خروج الناس إلى الصلاة |
صحيح البخاري |
1509
| أمر بزكاة الفطر قبل خروج الناس إلى الصلاة |
صحيح مسلم |
2288
| أمر بزكاة الفطر أن تؤدى قبل خروج الناس إلى الصلاة |
صحيح مسلم |
2289
| أمر بإخراج زكاة الفطر أن تؤدى قبل خروج الناس إلى الصلاة |
جامع الترمذي |
677
| يأمر بإخراج الزكاة قبل الغدو للصلاة يوم الفطر |
سنن أبي داود |
1610
| أمرنا رسول الله بزكاة الفطر أن تؤدى قبل خروج الناس إلى الصلاة |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2522 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2522
اردو حاشہ:
تفصیل کے لیے دیکھیے روایت نمبر 2506۔
تفصیل کے لیے دیکھیے روایت نمبر 2506۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2522]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1610
صدقہ فطر کب دیا جائے؟
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ صدقہ فطر لوگوں کے نماز کے لیے نکلنے سے پہلے ادا کیا جائے، راوی کہتے ہیں: چنانچہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نماز عید کے ایک یا دو دن پہلے صدقہ فطر ادا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1610]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ صدقہ فطر لوگوں کے نماز کے لیے نکلنے سے پہلے ادا کیا جائے، راوی کہتے ہیں: چنانچہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نماز عید کے ایک یا دو دن پہلے صدقہ فطر ادا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1610]
1610. اردو حاشیہ:
➊ اس صدقے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حکم سے جاری فرمایا تھا۔ جو اس کے واجب ہونے کی دلیل ہے۔جیسے کہ دیگر احادیث میں (فرض) کالفظ آیا ہے۔
➋ صدقہ فطر کا حق یہ ہے کہ نماز عید کےلئے نکلنے سے پہلے پہلے اسے ادا کیاجائے۔
➊ اس صدقے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حکم سے جاری فرمایا تھا۔ جو اس کے واجب ہونے کی دلیل ہے۔جیسے کہ دیگر احادیث میں (فرض) کالفظ آیا ہے۔
➋ صدقہ فطر کا حق یہ ہے کہ نماز عید کےلئے نکلنے سے پہلے پہلے اسے ادا کیاجائے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1610]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2289
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فطرانہ نکالنے کے بارے میں یہ حکم دیا کہ اسے لوگوں کے عید کے لیے نکلنے سے پہلے ادا کیا جائے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2289]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
صدقۃالفطر کا عید کی نماز سے پہلے نکالنا ضروری ہے اگر بعد میں ادا کرے گا تو وہ صدقۃ الفطر نہیں ہو گا۔
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل کا تقاضا یہی ہے کہ ہر جنس سے ایک صاع صدقہ فطر ادا کیا جائے۔
فوائد ومسائل:
صدقۃالفطر کا عید کی نماز سے پہلے نکالنا ضروری ہے اگر بعد میں ادا کرے گا تو وہ صدقۃ الفطر نہیں ہو گا۔
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل کا تقاضا یہی ہے کہ ہر جنس سے ایک صاع صدقہ فطر ادا کیا جائے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2289]
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي