صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
36. باب استحباب صيام ثلاثة ايام من كل شهر وصوم يوم عرفة وعاشوراء والاثنين والخميس.
باب: ہر مہینے تین دن کے روزے اور یوم عرفہ کا روزہ اور عاشورہ اور سوموار اور جمعرات کے دن کے روزے کے استحباب کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1162 ترقیم شاملہ: -- 2747
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ واللفظ لابن المثنى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيَّ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سُئِلَ عَنْ صَوْمِهِ، قَالَ: " فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا وَبِبَيْعَتِنَا بَيْعَةً، قَالَ: فَسُئِلَ عَنْ صِيَامِ الدَّهْرِ، فَقَالَ: " لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ، أَوْ مَا صَامَ وَمَا أَفْطَرَ "، قَالَ: فَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمَيْنِ وَإِفْطَارِ يَوْمٍ، قَالَ: " وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ "، قَالَ: وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمٍ وَإِفْطَارِ يَوْمَيْنِ، قَالَ: " لَيْتَ أَنَّ اللَّهَ قَوَّانَا لِذَلِكَ "، قَالَ: وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمٍ وَإِفْطَارِ يَوْمٍ، قَالَ: " ذَاكَ صَوْمُ أَخِي دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام "، قَالَ: وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ، قَالَ: " ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ، وَيَوْمٌ بُعِثْتُ أَوْ أُنْزِلَ عَلَيَّ فِيهِ "، قَالَ: فَقَالَ: " صَوْمُ ثَلَاثَةٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَرَمَضَانَ إِلَى رَمَضَانَ صَوْمُ الدَّهْرِ "، قَالَ: وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ، فَقَالَ: " يُكَفِّرُ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ وَالْبَاقِيَةَ "، قَالَ: وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: " يُكَفِّرُ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ "، وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ مِنْ رِوَايَةِ شُعْبَةَ، قَالَ: وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ، فَسَكَتْنَا عَنْ ذِكْرِ الْخَمِيسِ لَمَّا نُرَاهُ وَهْمًا،
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے غیلان بن جریر سے حدیث سنائی، انہوں نے عبداللہ بن معبدزمانی سے سنا، انہوں نے حضرت ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے روزوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو گئے، اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے عرض کی: ہم اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے، اور بیعت کے طور پر اپنی بیعت پر راضی ہیں (جو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی)۔ کہا: اس کے بعد آپ سے بغیر وقفے کے ہمیشہ روزہ رکھنے (صیام الدہر) کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص نے روزہ رکھا نہ افطار کیا۔“ اس کے بعد آپ سے دو دن روزہ رکھنے اور ایک دن ترک کرنے کے بارے میں پوچھا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی طاقت کون رکھتا ہے؟“ کہا: اور آپ سے ایک دن روزہ رکھنے اور دو دن ترک کرنے کے بارے میں پوچھا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کاش کے اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کام کی طاقت دی ہوتی۔“ کہا: اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن روزہ ترک کرنے کے بارے میں سوال کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ میرے بھائی داود علیہ السلام کا روزہ ہے۔“ کہا: اور آپ سے سوموار کا روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دن ہے جب میں پیدا ہوا اور جس دن مجھے (رسول بنا کر) بھیجا گیا، یا مجھ پر (قرآن) نازل کیا گیا۔“ کہا: اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ماہ کے تین روزے اور اگلے رمضان تک رمضان کے روزے ہی ہمیشہ کے روزے ہیں۔“ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یوم عرفہ کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ گزشتہ اور آئندہ سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔“ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عاشورہ کے دن کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ گزشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔“ امام مسلم رحمہ اللہ نے کہا: اس حدیث میں شعبہ کی روایت (یوں) ہے: انہوں (ابوقتادہ رضی اللہ عنہ) نے کہا: اور آپ سے سوموار اور جمعرات کے روزے کے بارے میں سوال کیا گیا۔ لیکن ہم نے جمعرات کے ذکر سے سکوت کیا ہے، کیونکہ ہمارے خیال میں یہ (راوی کا) وہم ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2747]
حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے بارے میں دریافت کیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو گئے اس پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: ہم راضی اور مطمئن ہیں اللہ کو رب مان کر، اسلام کو مقصد زندگی مان کر، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول مان کر، اور اپنی بیعت کی صحت و درستگی پر، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے صوم دہر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص نے روزہ رکھا نہ افطار کیا“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دو دن کے روزے اور ایک دن کے افطار کے بارے میں پوچھا گیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی کس کو طاقت ہے؟“ ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دن روزہ اور دن افطار کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کاش! اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی طاقت دے۔“ ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دن روزہ اور ایک دن ناغہ کے بارے میں سوال ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ میرے بھائی داؤد علیہ السلام کا روزہ ہے۔“ ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوموار کے روزے کے بارے میں سوال ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ دن ہے جس میں میں پیدا ہوا اور جس دن مجھے معبوث کیا گیا یا اس میں مجھ پر قرآن نازل کیا گیا۔“ ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ماہ کے تین روزے اور رمضان تا رمضان (اجرو ثواب میں) صوم دہر ہیں۔“ ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یوم عرفہ کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ گزشتہ سال اور آئندہ سال کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے۔“ ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عاشورہ کے دن کے روزے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گزشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے۔“ امام مسلم فرماتے ہیں پس حدیث میں شعبہ کی روایت میں ہے۔ کہ ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: آپ سے سومواراور جمعرات کے روزے کے بارے میں سوال ہوا، لیکن ہم نے جمعرات کے تذکرہ سے خاموشی اختیار کی، کیونکہ ہمارے خیال میں اس کا ذکر وہم ہے (کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت اور بعثت کا تعلق صرف پیر سے ہے جمعرات سے نہیں) [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2747]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1162
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
2384
| لا صام ولا أفطر |
سنن النسائى الصغرى |
2385
| ما صام وما أفطر |
صحيح مسلم |
2747
| ما صام وما أفطر سئل عن صوم يوم وإفطار يوم ذاك صوم أخي داود سئل عن صوم يوم الاثنين قال ذاك يوم ولدت فيه |
جامع الترمذي |
767
| لا صام ولا أفطر |
سنن ابن ماجه |
1713
| يصوم يوما ويفطر يوما ذلك صوم داود |
بلوغ المرام |
552
| يكفر السنة الماضية والباقية |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2747 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2747
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
1۔
ہر ماہ کے تین روزوں کے بارے میں اختلاف ہے۔
شعبہ کے نزدیک ہر ماہ کے تین ابتدائی دن مراد ہیں بعض کے نزدیک ہرعشرہ کا پہلا دن،
بعض کے نزدیک ایک ماہ میں ہفتہ،
اتوار اورسوموار کو رکھے اور اگلے ماہ منگل،
بدھ اور جمعرات کو رکھے،
بعض کے نزدیک ہرماہ کے آخری دن مراد ہیں اور بعض کے نزدیک اس سے ایام ابیض مراد ہیں۔
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طرزعمل یہی تھا،
آپ نے تعین نہیں فرمائی تاکہ امت کے لیے سہولت اور آسانی پیدا ہو۔
2۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوموار کے روزے کے بارے میں فرمایا کہ وہ خیر وبرکت والا دن ہے،
جس میں میری پیدائش ہوئی اوراس دن میری بعثت ہوئی،
مجھ پر قرآن کا نزول شروع ہوا،
گویا ایک محرک شکر کا جذبہ تھا کہ اس دن عظیم نعمتیں حاصل ہوئیں اور دوسرا محرک دوسری حدیث میں بیان ہوا ہے کہ اس دن اعمال کی پیشی ہوتی ہے اور میں چاہتا ہوں اس پیشی کے دن میں روزہ سے ہوں اور یہ دوسرا محرک جمعرات کے روزہ میں بھی موجود ہے۔
3۔
ایک عجیب وغریب استدلال اوراس کاجواب:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوموار کو روزہ رکھتے تھے جس کا سبب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بتایا کہ یہ میری ولادت اور نبوت سے سرفرازی اور نزول قرآن کا دن ہےاس سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم میلاد کی خوشی کی اور اس نعمت پر اللہ کا شکر ادا کیا،
اس یوم میلاد کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خوشی منانے اور اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنے کا ایک طریقہ اور صورت معین فرما دی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی بھر اس پر عمل کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ سوموار کو روزہ رکھتے تھے تو کیا اگرمیلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دن اگر کسی کو منانا ہے تو اس کا طریقہ اورصورت یہی نہیں ہے کہ سوموار کو روزہ رکھا جائے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولادت والے دن صرف روزہ رکھا ہے اس کے سوا اور کوئی کام نہیں کیا؟ اس سے ربیع الاول میں جلوس نکالنے،
گانے بجانے،
چراغان کرنے،
آرائشی محرابوں ار دروازوں،
گلی کوچوں اورمساجد میں روشنیوں کا استدلال کیسا ہوگیا؟ جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور اتباع کا تقاضا یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معین کردہ طریقہ پر اضافہ نہ کیا جائے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہرسوموار کو خوشی مناتے اور شکریہ ادا کرتے تو صرف ربیع الاول کی تخصیص کیوں کر لی گئی؟ جبکہ عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دن عام طور پر سوموار بھی نہیں ہوتا اگر یوم عاشورہ دس محرم کو دلیل بنایا جائے تو یہ بھی غلط ہے کیونکہ موسیٰ علیہ السلام نے تو صرف روزہ رکھا،
عید کا سلسلہ بعد میں یہود نے نکالا تو یہ یہود کی سنت اور طریقہ منانا ہے،
نہ کہ موسیٰ علیہ السلام کی اقتدا کرنا ہے۔
مزید برآں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کا ماہ تعین نہیں ہے،
بعض محرم مانتے ہیں بعض رمضان اور بعض ربیع الاول اور حقیقت یہ ہے کہ میلاد کا مہینہ متعین نہیں ہو سکتا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش مکہ مکرمہ میں ہوئی ہے جہاں نسی کا چال چلن اور رواج تھا جس کی بنا پر حج کے ماہ بھی بدل جاتے تھے اس لیے نسی کی تقدیم وتاخیر کی بنا پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کا مہینہ صحیح طور پر متعین کرنا ممکن نہیں ہے جبکہ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ آپ کی دنیوی زندگی اس مہینہ میں ختم ہوئی ہے اور اب سطح ارضی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے سامنے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے سامنے کی طرح موجود نہیں ہیں،
اس لیے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین تابعین رحمۃ اللہ علیہ اور تبع تابعین رحمۃ اللہ علیہ کا دور ختم ہو گیا اور اب یہ شرف کسی کو حاصل نہیں ہوسکتا اور ایک بات یہ بھی ہے کہ خوشی منانے کا طریقہ اگر وہی ہے جوعید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں اختیار کیا جاتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت ملی اور وحی کا سلسلہ شروع ہوا اور قرآن مجید سے یہ صراحتاً ثابت ہے کہ نزول قرآن کاآغاز رمضان میں ہوا ہے تو رمضان کے لیے عید کا طریقہ آج تک کیوں نہیں اختیار کیا گیا؟ ﴿قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا﴾ کو ملا علی قاری نے محفل میلاد کے لیے بطور دلیل پیش کیا ہے۔
اور اس فضل اور رحمت کا اصل مصداق تو نص قرآنی کی رو سے قرآن مجید ہے۔
اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رحمت ہونے میں بھی کوئی کلام نہیں ہے اور یہ عجیب بات ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کا روزہ رکھنے کا تو حکم دیاتھا اور وہ بھی آغاز ہجرت میں تاکیدی اور احناف کے نزدیک وجوبی اور بعد میں اس تاکید کو بھی ختم کردیا،
لیکن سوموار کے روزے کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلقین اورتاکید بھی نہیں فرمائی اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے رکھنے سے عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ثبوت ملتا تو یقیناً صحابہ،
رضوان اللہ عنھم اجمعین تابعین رحمۃ اللہ علیہ اور تبع تابعین رحمۃ اللہ علیہ کے تین قرون جن کی خیریت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گواہی دی ہے ان میں اس کو ضرور منایا جاتا یا کم از کم ائمہ اربعہ۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ،
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ،
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ،
اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ ہی اس کی تلقین کرتے یا کم ا ز کم حدیث میں نہیں تو فقہ کی کتابوں میں ہی اس کا تذکرہ کیا جاتا۔
امام ملاعلی قاری نے اس سلسلہ میں جو انیس دلائل پیش کیے ہیں ان میں سے اکثریت کا ربیع الاول کی محافل سے کوئی تعلق نہیں ہے وہ کام تو ہروقت مطلوب اور محبوب ہیں۔
عجیب بات ہے۔
سب سے پہلی دلیل ابولہب کی خوشی کے واقعہ کو بنایا ہے۔
جس نے بھتیجے کی ولادت کی خوشی میں لونڈی کو آزاد کیا تھا اس روایت میں ہے کے ابولہب نے لونڈی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے پہلے آزاد کیا تھا:
(قَالَ عُرْوَةُ:
وثُوَيْبَةُ مَوْلاةٌ لأَبِي لَهَبٍ, كَانَ أَبُو لَهَبٍ أَعْتَقَهَا)
اس کےبعد خواب کا واقعہ بیان کیا ہے۔
اس پر حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ لکھا ہے:
(بأن الخبر مرسل،
أرسله عروة،
ولم يذكر من حدثه به)
(فتح الباري المطبعة السلفیة ج9 ص 145)
جبکہ اصل حقیقت کہ اس نے ثوبیہ کو ہجرت نبوی کے بعد آزاد کیا تھا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
تفصیل کے لیے (طبقات ابن سعد ج1 108 ذکر من ارضع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الاصابة فی تمیز الصحابة ج: 4 ص 65 ابن حجر الاستیعاب فی الاسماء الاصحاب ج: 1 ص 12 ابن عبدالبر)
اور کافر کا عمل نص قرآنی کی رو سے رائیگاں ہے سورہ فرقان میں ہے:
﴿وَقَدِمْنَا إِلَىٰ مَا عَمِلُوا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنَاهُ هَبَاءً مَّنثُورًا﴾ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ونبوت کے بعد وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بدترین دشمن بن گیا تھا اور یہ واقعہ بخاری جلد2 میں موجود ہے۔
اورخواب کا واقعہ ہے۔
جس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کر کے تصدیق اورتائید بھی نہیں کروائی گئی تو یہ واقعہ محبت اور دلیل کیسے بن گیا کیا خواب شرعی دلیل اور حجت نہیں بن سکتا؟ سب سے بڑی اورقوی دلیل بدعت کی تقسیم کی ہے کہ یہ دعوت حسنہ ہے حالانکہ بقول مجدد الف ثانی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان موجود ہے کہ:
(كل محدثة بدعة وكل بدعة ضلالة وكل ضلالة في النار)
(دین میں)
ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت ضلالت ہے تو پھر بدعت میں حسن کہاں سے پیدا ہو گیا وہ دوسری جگہ لکھتے ہیں۔
(علمائے کرام)
نے کہا ہے بدعت کی دو قسمیں ہیں۔
حسنہ اور سئیہ حسنہ اس نیک عمل کو کہتے ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین رضوان اللہ عنھم اجمعین کے زمانہ کے بعد پیدا ہوا ہو اور وہ سنت کو رفع نہ کرے اور بدعت سئیہ وہ ہے جو مانع سنت ہے۔
اس اصول کے مطابق بھی عید میلادالنبی بدعت سئیہ ہے کیونکہ یہ مانع سنت ہے ان حضرات میں سے اس دن روزہ جو اس دن کی سنت ہے،
کتنے لوگ رکھتے ہیں؟ یہ فقیر ان بدعتوں میں سے کس بدعت میں حسن اور نورانیت کا مشاہدہ نہیں کرتا اور ظلمت کدورت کے سوا کچھ محسوس نہیں کرتا،
اگر آج مبتدع کے عمل کو ضعف بصارت کی وجہ سے طہارت وتروتازگی میں دیکھتے ہیں،
لیکن کل جب کہ بصیرت تیز ہو گی تو دیکھ لیں گے کہ اس کا نتیجہ انجام خسارت وندامت کے سوا کچھ نہ تھا۔
مجدد الف ثانی کا کلام بدعت کے سلسلہ میں قابل دید ہے،
تفصیل کے لیے دیکھئے:
مکتوبات امام ربانی دفتراول مکتوب نمبر186 دفتر دوم مکتب 21۔
اور23 نیزکیا عیدین کے لیے جبری غنڈہ گردی سے چندہ لیاجاتا ہے اور خلاف شریعت حرکتیں کی جاتی ہیں؟ جبکہ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں سب کچھ ہو رہا ہے۔
فوائد ومسائل:
1۔
ہر ماہ کے تین روزوں کے بارے میں اختلاف ہے۔
شعبہ کے نزدیک ہر ماہ کے تین ابتدائی دن مراد ہیں بعض کے نزدیک ہرعشرہ کا پہلا دن،
بعض کے نزدیک ایک ماہ میں ہفتہ،
اتوار اورسوموار کو رکھے اور اگلے ماہ منگل،
بدھ اور جمعرات کو رکھے،
بعض کے نزدیک ہرماہ کے آخری دن مراد ہیں اور بعض کے نزدیک اس سے ایام ابیض مراد ہیں۔
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طرزعمل یہی تھا،
آپ نے تعین نہیں فرمائی تاکہ امت کے لیے سہولت اور آسانی پیدا ہو۔
2۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوموار کے روزے کے بارے میں فرمایا کہ وہ خیر وبرکت والا دن ہے،
جس میں میری پیدائش ہوئی اوراس دن میری بعثت ہوئی،
مجھ پر قرآن کا نزول شروع ہوا،
گویا ایک محرک شکر کا جذبہ تھا کہ اس دن عظیم نعمتیں حاصل ہوئیں اور دوسرا محرک دوسری حدیث میں بیان ہوا ہے کہ اس دن اعمال کی پیشی ہوتی ہے اور میں چاہتا ہوں اس پیشی کے دن میں روزہ سے ہوں اور یہ دوسرا محرک جمعرات کے روزہ میں بھی موجود ہے۔
3۔
ایک عجیب وغریب استدلال اوراس کاجواب:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوموار کو روزہ رکھتے تھے جس کا سبب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بتایا کہ یہ میری ولادت اور نبوت سے سرفرازی اور نزول قرآن کا دن ہےاس سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم میلاد کی خوشی کی اور اس نعمت پر اللہ کا شکر ادا کیا،
اس یوم میلاد کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خوشی منانے اور اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنے کا ایک طریقہ اور صورت معین فرما دی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی بھر اس پر عمل کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ سوموار کو روزہ رکھتے تھے تو کیا اگرمیلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دن اگر کسی کو منانا ہے تو اس کا طریقہ اورصورت یہی نہیں ہے کہ سوموار کو روزہ رکھا جائے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولادت والے دن صرف روزہ رکھا ہے اس کے سوا اور کوئی کام نہیں کیا؟ اس سے ربیع الاول میں جلوس نکالنے،
گانے بجانے،
چراغان کرنے،
آرائشی محرابوں ار دروازوں،
گلی کوچوں اورمساجد میں روشنیوں کا استدلال کیسا ہوگیا؟ جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور اتباع کا تقاضا یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معین کردہ طریقہ پر اضافہ نہ کیا جائے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہرسوموار کو خوشی مناتے اور شکریہ ادا کرتے تو صرف ربیع الاول کی تخصیص کیوں کر لی گئی؟ جبکہ عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دن عام طور پر سوموار بھی نہیں ہوتا اگر یوم عاشورہ دس محرم کو دلیل بنایا جائے تو یہ بھی غلط ہے کیونکہ موسیٰ علیہ السلام نے تو صرف روزہ رکھا،
عید کا سلسلہ بعد میں یہود نے نکالا تو یہ یہود کی سنت اور طریقہ منانا ہے،
نہ کہ موسیٰ علیہ السلام کی اقتدا کرنا ہے۔
مزید برآں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کا ماہ تعین نہیں ہے،
بعض محرم مانتے ہیں بعض رمضان اور بعض ربیع الاول اور حقیقت یہ ہے کہ میلاد کا مہینہ متعین نہیں ہو سکتا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش مکہ مکرمہ میں ہوئی ہے جہاں نسی کا چال چلن اور رواج تھا جس کی بنا پر حج کے ماہ بھی بدل جاتے تھے اس لیے نسی کی تقدیم وتاخیر کی بنا پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کا مہینہ صحیح طور پر متعین کرنا ممکن نہیں ہے جبکہ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ آپ کی دنیوی زندگی اس مہینہ میں ختم ہوئی ہے اور اب سطح ارضی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے سامنے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے سامنے کی طرح موجود نہیں ہیں،
اس لیے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین تابعین رحمۃ اللہ علیہ اور تبع تابعین رحمۃ اللہ علیہ کا دور ختم ہو گیا اور اب یہ شرف کسی کو حاصل نہیں ہوسکتا اور ایک بات یہ بھی ہے کہ خوشی منانے کا طریقہ اگر وہی ہے جوعید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں اختیار کیا جاتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت ملی اور وحی کا سلسلہ شروع ہوا اور قرآن مجید سے یہ صراحتاً ثابت ہے کہ نزول قرآن کاآغاز رمضان میں ہوا ہے تو رمضان کے لیے عید کا طریقہ آج تک کیوں نہیں اختیار کیا گیا؟ ﴿قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا﴾ کو ملا علی قاری نے محفل میلاد کے لیے بطور دلیل پیش کیا ہے۔
اور اس فضل اور رحمت کا اصل مصداق تو نص قرآنی کی رو سے قرآن مجید ہے۔
اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رحمت ہونے میں بھی کوئی کلام نہیں ہے اور یہ عجیب بات ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کا روزہ رکھنے کا تو حکم دیاتھا اور وہ بھی آغاز ہجرت میں تاکیدی اور احناف کے نزدیک وجوبی اور بعد میں اس تاکید کو بھی ختم کردیا،
لیکن سوموار کے روزے کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلقین اورتاکید بھی نہیں فرمائی اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے رکھنے سے عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ثبوت ملتا تو یقیناً صحابہ،
رضوان اللہ عنھم اجمعین تابعین رحمۃ اللہ علیہ اور تبع تابعین رحمۃ اللہ علیہ کے تین قرون جن کی خیریت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گواہی دی ہے ان میں اس کو ضرور منایا جاتا یا کم از کم ائمہ اربعہ۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ،
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ،
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ،
اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ ہی اس کی تلقین کرتے یا کم ا ز کم حدیث میں نہیں تو فقہ کی کتابوں میں ہی اس کا تذکرہ کیا جاتا۔
امام ملاعلی قاری نے اس سلسلہ میں جو انیس دلائل پیش کیے ہیں ان میں سے اکثریت کا ربیع الاول کی محافل سے کوئی تعلق نہیں ہے وہ کام تو ہروقت مطلوب اور محبوب ہیں۔
عجیب بات ہے۔
سب سے پہلی دلیل ابولہب کی خوشی کے واقعہ کو بنایا ہے۔
جس نے بھتیجے کی ولادت کی خوشی میں لونڈی کو آزاد کیا تھا اس روایت میں ہے کے ابولہب نے لونڈی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے پہلے آزاد کیا تھا:
(قَالَ عُرْوَةُ:
وثُوَيْبَةُ مَوْلاةٌ لأَبِي لَهَبٍ, كَانَ أَبُو لَهَبٍ أَعْتَقَهَا)
اس کےبعد خواب کا واقعہ بیان کیا ہے۔
اس پر حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ لکھا ہے:
(بأن الخبر مرسل،
أرسله عروة،
ولم يذكر من حدثه به)
(فتح الباري المطبعة السلفیة ج9 ص 145)
جبکہ اصل حقیقت کہ اس نے ثوبیہ کو ہجرت نبوی کے بعد آزاد کیا تھا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
تفصیل کے لیے (طبقات ابن سعد ج1 108 ذکر من ارضع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الاصابة فی تمیز الصحابة ج: 4 ص 65 ابن حجر الاستیعاب فی الاسماء الاصحاب ج: 1 ص 12 ابن عبدالبر)
اور کافر کا عمل نص قرآنی کی رو سے رائیگاں ہے سورہ فرقان میں ہے:
﴿وَقَدِمْنَا إِلَىٰ مَا عَمِلُوا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنَاهُ هَبَاءً مَّنثُورًا﴾ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ونبوت کے بعد وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بدترین دشمن بن گیا تھا اور یہ واقعہ بخاری جلد2 میں موجود ہے۔
اورخواب کا واقعہ ہے۔
جس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کر کے تصدیق اورتائید بھی نہیں کروائی گئی تو یہ واقعہ محبت اور دلیل کیسے بن گیا کیا خواب شرعی دلیل اور حجت نہیں بن سکتا؟ سب سے بڑی اورقوی دلیل بدعت کی تقسیم کی ہے کہ یہ دعوت حسنہ ہے حالانکہ بقول مجدد الف ثانی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان موجود ہے کہ:
(كل محدثة بدعة وكل بدعة ضلالة وكل ضلالة في النار)
(دین میں)
ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت ضلالت ہے تو پھر بدعت میں حسن کہاں سے پیدا ہو گیا وہ دوسری جگہ لکھتے ہیں۔
(علمائے کرام)
نے کہا ہے بدعت کی دو قسمیں ہیں۔
حسنہ اور سئیہ حسنہ اس نیک عمل کو کہتے ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین رضوان اللہ عنھم اجمعین کے زمانہ کے بعد پیدا ہوا ہو اور وہ سنت کو رفع نہ کرے اور بدعت سئیہ وہ ہے جو مانع سنت ہے۔
اس اصول کے مطابق بھی عید میلادالنبی بدعت سئیہ ہے کیونکہ یہ مانع سنت ہے ان حضرات میں سے اس دن روزہ جو اس دن کی سنت ہے،
کتنے لوگ رکھتے ہیں؟ یہ فقیر ان بدعتوں میں سے کس بدعت میں حسن اور نورانیت کا مشاہدہ نہیں کرتا اور ظلمت کدورت کے سوا کچھ محسوس نہیں کرتا،
اگر آج مبتدع کے عمل کو ضعف بصارت کی وجہ سے طہارت وتروتازگی میں دیکھتے ہیں،
لیکن کل جب کہ بصیرت تیز ہو گی تو دیکھ لیں گے کہ اس کا نتیجہ انجام خسارت وندامت کے سوا کچھ نہ تھا۔
مجدد الف ثانی کا کلام بدعت کے سلسلہ میں قابل دید ہے،
تفصیل کے لیے دیکھئے:
مکتوبات امام ربانی دفتراول مکتوب نمبر186 دفتر دوم مکتب 21۔
اور23 نیزکیا عیدین کے لیے جبری غنڈہ گردی سے چندہ لیاجاتا ہے اور خلاف شریعت حرکتیں کی جاتی ہیں؟ جبکہ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں سب کچھ ہو رہا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2747]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2385
اس سلسلہ میں غیلان بن جریر پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
ابوقتادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے روزوں کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ ناراض ہو گئے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم اللہ کے رب (حقیقی معبود) ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر، راضی ہیں، نیز آپ سے ہمیشہ روزہ رکھنے والے کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: ”اس نے نہ روزہ رکھا، نہ ہی افطار کیا۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2385]
ابوقتادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے روزوں کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ ناراض ہو گئے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم اللہ کے رب (حقیقی معبود) ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر، راضی ہیں، نیز آپ سے ہمیشہ روزہ رکھنے والے کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: ”اس نے نہ روزہ رکھا، نہ ہی افطار کیا۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2385]
اردو حاشہ:
(1) ”ناراض ہوگئے۔“ کیونکہ آپ نے اپنی نیکی کے اظہار کو مناسب نہ سمجھا، اس لیے ایسے سوال پر ناراض ہوئے۔ یا آپ نے خطرہ محسوس فرمایا کہ اگر میں نے بتا دیا تو سائل یا دوسرے لوگ میری اقتدا کرنے کی کوشش کریں گے اور مشقت میں پڑیں گے۔ یا اس لیے ناراض ہوئے کہ عبادت کے مسئلہ، خصوصاً روزے میں آپ کی مماثلت کرنا منع ہے، مثلاً: وصال (کئی دنوں کا روزہ) آپ کا خاصہ ہے، کسی اور شخص کو ایک دن سے زائد کا روزہ (وصال کی صورت میں) رکھنے کی اجازت نہیں۔ واللہ أعلم
(2) ”راضی ہیں۔“ یعنی ہم اللہ تعالیٰ کے آپ پر نازل کردہ دین پر سختی سے کار بند ہیں، لہٰذا ہماری غلطی معاف فرمائیے۔
(1) ”ناراض ہوگئے۔“ کیونکہ آپ نے اپنی نیکی کے اظہار کو مناسب نہ سمجھا، اس لیے ایسے سوال پر ناراض ہوئے۔ یا آپ نے خطرہ محسوس فرمایا کہ اگر میں نے بتا دیا تو سائل یا دوسرے لوگ میری اقتدا کرنے کی کوشش کریں گے اور مشقت میں پڑیں گے۔ یا اس لیے ناراض ہوئے کہ عبادت کے مسئلہ، خصوصاً روزے میں آپ کی مماثلت کرنا منع ہے، مثلاً: وصال (کئی دنوں کا روزہ) آپ کا خاصہ ہے، کسی اور شخص کو ایک دن سے زائد کا روزہ (وصال کی صورت میں) رکھنے کی اجازت نہیں۔ واللہ أعلم
(2) ”راضی ہیں۔“ یعنی ہم اللہ تعالیٰ کے آپ پر نازل کردہ دین پر سختی سے کار بند ہیں، لہٰذا ہماری غلطی معاف فرمائیے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2385]
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1713
داود علیہ السلام کے روزے کا بیان۔
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! جو شخص دو دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے وہ کیسا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا ایسا کرنے کی کسی میں طاقت ہے؟ انہوں نے کہا: وہ شخص کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے، پھر انہوں نے کہا: وہ شخص کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھے اور دو دن افطار کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری تمنا ہے کہ مجھے اس کی طاقت ہوتی“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1713]
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! جو شخص دو دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے وہ کیسا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا ایسا کرنے کی کسی میں طاقت ہے؟ انہوں نے کہا: وہ شخص کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے، پھر انہوں نے کہا: وہ شخص کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھے اور دو دن افطار کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری تمنا ہے کہ مجھے اس کی طاقت ہوتی“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1713]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
دو روزے رکھ کر ایک دن روزہ چھوڑنا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پسند نہیں فرمایا کیو نکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے محسوس فرمایا کے عام انسان کے لئے یہ معمول اختیار کرنا مشکل ہے سوائے اس کے کہ کو ئی شخص غلو کا رستہ اختیا ر کرے جو مناسب نہیں-
(2)
حدیث میں مذ کور با قی دونو ں طریقے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پسند فرمائے لہٰذا وہ جا ئز ہے-
(3)
تیسری صورت کے با رے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواہش ظاہر فرمائی کہ مجھے اس کی طا قت ملے اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دوسری بہت سی مصروفیا ت کی وجہ سے یہ معمول اختیار کر نا مشکل تھا اس لئے نفلی عبادات میں انسا ن کو وہ معمول اختیار کرنا چاہیے جس سے اس کے دوسرے فرائض کی ادائیگی میں خلل پڑنے کا اندیشہ نہ ہو۔
فوائد و مسائل:
(1)
دو روزے رکھ کر ایک دن روزہ چھوڑنا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پسند نہیں فرمایا کیو نکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے محسوس فرمایا کے عام انسان کے لئے یہ معمول اختیار کرنا مشکل ہے سوائے اس کے کہ کو ئی شخص غلو کا رستہ اختیا ر کرے جو مناسب نہیں-
(2)
حدیث میں مذ کور با قی دونو ں طریقے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پسند فرمائے لہٰذا وہ جا ئز ہے-
(3)
تیسری صورت کے با رے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواہش ظاہر فرمائی کہ مجھے اس کی طا قت ملے اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دوسری بہت سی مصروفیا ت کی وجہ سے یہ معمول اختیار کر نا مشکل تھا اس لئے نفلی عبادات میں انسا ن کو وہ معمول اختیار کرنا چاہیے جس سے اس کے دوسرے فرائض کی ادائیگی میں خلل پڑنے کا اندیشہ نہ ہو۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1713]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 767
صوم دہر کا بیان۔
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! اگر کوئی صوم الدھر (پورے سال روزے) رکھے تو کیسا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس نے نہ روزہ رکھا اور نہ ہی افطار کیا“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 767]
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! اگر کوئی صوم الدھر (پورے سال روزے) رکھے تو کیسا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس نے نہ روزہ رکھا اور نہ ہی افطار کیا“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 767]
اردو حاشہ:
1؎:
راوی کو شک ہے کہ ((لاَصَامَ وَلاَ أَفْطَرَ)) کہا یا ((لَمْ يَصُمْ وَلَمْ يُفْطِرْ)) کہا (دونوں کے معنی ایک ہیں) ظاہر یہی ہے کہ یہ خبر ہے کہ اس نے روزہ نہیں رکھا کیونکہ اس نے سنت کی مخالفت کی،
اور افطار نہیں کیا کیونکہ وہ بھوکا پیاسا رہا کچھ کھایا پیا نہیں،
اور ایک قول یہ ہے کہ یہ بد دعا ہے،
یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے اس فعل پر اپنی نا پسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔
1؎:
راوی کو شک ہے کہ ((لاَصَامَ وَلاَ أَفْطَرَ)) کہا یا ((لَمْ يَصُمْ وَلَمْ يُفْطِرْ)) کہا (دونوں کے معنی ایک ہیں) ظاہر یہی ہے کہ یہ خبر ہے کہ اس نے روزہ نہیں رکھا کیونکہ اس نے سنت کی مخالفت کی،
اور افطار نہیں کیا کیونکہ وہ بھوکا پیاسا رہا کچھ کھایا پیا نہیں،
اور ایک قول یہ ہے کہ یہ بد دعا ہے،
یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے اس فعل پر اپنی نا پسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 767]
عبد الله بن معبد الزماني ← الحارث بن ربعي السلمي