بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
نفلی روزے اور جن دنوں میں روزہ رکھنا منع ہے
حدیث نمبر: 552
عن أبي قتادة الأنصاري رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم سئل عن صوم يوم عرفة فقال: «يكفر السنة الماضية والباقية» وسئل عن صوم يوم عاشوراء فقال: «يكفر السنة الماضية» وسئل عن صوم يوم الاثنين فقال: «ذلك يوم ولدت فيه ويوم بعثت فيه أو أنزل علي فيه» . رواه مسلم.
سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرفہ (نو ذوالحج) کے دن روزہ کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”(یہ روزہ) گزشتہ سال اور آئندہ سال کے گناہ دور کر دیتا ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عاشورہ کے دن کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہ گزشتہ سال کے گناہ دور کر دیتا ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوموار کے دن کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ ”اس دن میں پیدا ہوا اور اسی دن مجھے نبوت دی گئی اور اسی دن مجھ پر قرآن اتارا گیا۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 552]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الصيام، باب استحباب صيام ثلاثة أيام من كل شهر، حديث:1162.»
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
2384
| لا صام ولا أفطر |
سنن النسائى الصغرى |
2385
| ما صام وما أفطر |
صحيح مسلم |
2747
| ما صام وما أفطر سئل عن صوم يوم وإفطار يوم ذاك صوم أخي داود سئل عن صوم يوم الاثنين قال ذاك يوم ولدت فيه |
جامع الترمذي |
767
| لا صام ولا أفطر |
سنن ابن ماجه |
1713
| يصوم يوما ويفطر يوما ذلك صوم داود |
بلوغ المرام |
552
| يكفر السنة الماضية والباقية |