🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب مواقيت الحج والعمرة:
باب: میقات حج اور عمرہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1183 ترقیم شاملہ: -- 2810
ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ كِلَاهُمَا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ ، قَالَ عَبْدٌ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُسْأَلُ عَنِ الْمُهَلِّ، فَقَالَ: " سَمِعْتُ أَحْسَبُهُ رَفَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَالطَّرِيقُ الْآخَرُ الْجُحْفَةُ وَمُهَلُّ أَهْلِ الْعِرَاقِ مِنْ ذَاتِ عِرْقٍ وَمُهَلُّ أَهْلِ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ وَمُهَلُّ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ ".
محمد بن بکر سے روایت ہے، کہا: مجھے ابن جریج نے خبر دی، کہا: مجھے ابوزبیر نے خبر دی کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، ان سے مقام تلبیہ کے متعلق سوال کیا گیا تھا (جابر رضی اللہ عنہما نے) کہا: میں نے سنا۔۔۔ میرا خیال ہے کہ انہوں نے حدیث کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کی۔ آپ نے فرمایا: مدینہ والوں کا مقام تلبیہ (احرام باندھنے کی جگہ) ذو الحلیفہ ہے اور دوسرے راستے (سے آنے والوں کا مقام) جحفہ ہے۔ اہل عراق کا مقام تلبیہ ذات العرق، نجد والوں کا قرن (المنازل) اور یمن والوں کا یلملم ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2810]
ابو زبیر کہتے ہیں، میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما سے سنا، ان سے احرام گاہ کے بارے میں پوچھا گیا، میرا گمان ہے جابر نے اس کی نسبت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل مدینہ کے لیے احرام باندھنے کی جگہ ذوالحلیفہ ہے اور دوسرا راستہ جحفہ ہے اور اہل عراق کے لیے احرام باندھنے کی جگہ ذات عرق ہے اور اہل نجد کے لیے احرام گاہ قرن منازل ہے اور اہل یمن کے لیے احرام گاہ یلملم ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2810]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1183
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير
Newمحمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
صدوق إلا أنه يدلس
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← محمد بن مسلم القرشي
ثقة
👤←👥محمد بن بكر البرساني، أبو عثمان، أبو عبد الله
Newمحمد بن بكر البرساني ← ابن جريج المكي
ثقة
👤←👥عبد بن حميد الكشي، أبو محمد
Newعبد بن حميد الكشي ← محمد بن بكر البرساني
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن حاتم السمين، أبو عبد الله
Newمحمد بن حاتم السمين ← عبد بن حميد الكشي
صدوق ربما وهم وكان فاضلا
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
2810
مهل أهل المدينة من ذي الحليفة الطريق الآخر الجحفة مهل أهل العراق من ذات عرق مهل أهل نجد من قرن مهل أهل اليمن من يلملم
سنن ابن ماجه
2915
مهل أهل المدينة من ذي الحليفة مهل أهل الشام من الجحفة مهل أهل اليمن من يلملم مهل أهل نجد من قرن مهل أهل المشرق من ذات عرق اللهم أقبل بقلوبهم
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2810 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2810
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
الطریق الاخر سے مراد بعض حضرات کے نزدیک یہ ہے کہ اہل مدینہ اگر دوسرے راستہ سے مکہ معظمہ جائیں تو وہ حجفہ سے احرام باندھ سکتے ہیں اور بعض شارحین کاخیال ہے اس سے مراد دوسرے رساتہ والے ہیں۔
یعنی اہل شام جن کا میقات حجفہ ہے جب کہ دوسری روایات میں گزر چکا ہے۔
نوٹ:
ذات عرق کے بارے میں اختلاف ہے کہ یہ میقات اہل عراق کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےمقرر فرمایا ہے یا اس کی تعیین اہل عراق کے دریافت کرنے پر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے اجتہاد سے کی تھی،
ائمہ دونوں طرف گئے ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2810]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2915
مکہ سے باہر رہنے والوں کی میقات کا بیان۔
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطاب کیا اور فرمایا: اہل مدینہ کے تلبیہ پکارنے (اور احرام باندھنے) کا مقام ذو الحلیفہ ہے، اہل شام کا جحفہ، اہل یمن کا یلملم اور اہل نجد کا قرن ہے، اور مشرق سے آنے والوں کے احرام کا مقام ذات عرق ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا رخ آسمان کی طرف کیا اور فرمایا: اے اللہ! ان کے دل ایمان کی طرف لگا دے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2915]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ذوالحليفه کو آج کل بئرعلي یا آبارعلي کہتے ہیں۔
جحفه کا موجودہ نام رابغ ہے۔
يلملم کو السعديه کہتے ہیں۔
قرن منازل کو السيل کہتے ہیں۔
جبکہ ذات عرق کا موجودہ نام الضريبه ہے۔
میقات سے متعلق مزید تفصیلی معلومات کے لیے کتاب الحج کا ابتدائیہ دیکھیے۔

(2)
عراق کی آبادی اس وقت مسلمان ہی نہیں تھی لیکن ان کے لیے میقات مقرر کیا گیا کیونکہ مستقبل میں یہ لوگ اسلام میں داخل ہونے والے تھے۔

(3)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل عراق کے لیے اسلام کے لیے دعا کی تاہم اس علاقے کے فتنوں سے بھی متنبہ فرمایا۔
یہ اس علاقے کے نیک لوگوں کے لیے باعث فخر اور مفسد اور گمراہ لوگوں کے لیے باعث عار ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2915]