🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. باب : مواقيت أهل الآفاق
باب: مکہ سے باہر رہنے والوں کی میقات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2915
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَمُهَلُّ أَهْلِ الشَّامِ مِنْ الْجُحْفَةِ، وَمُهَلُّ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ، وَمُهَلُّ أَهْلِ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ، وَمُهَلُّ أَهْلِ الْمَشْرِقِ مِنْ ذَاتِ عِرْقٍ، ثُمَّ أَقْبَلَ بِوَجْهِهِ لِلْأُفُقِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ أَقْبِلْ بِقُلُوبِهِمْ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطاب کیا اور فرمایا: اہل مدینہ کے تلبیہ پکارنے (اور احرام باندھنے) کا مقام ذو الحلیفہ ہے، اہل شام کا جحفہ، اہل یمن کا یلملم اور اہل نجد کا قرن ہے، اور مشرق سے آنے والوں کے احرام کا مقام ذات عرق ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا رخ آسمان کی طرف کیا اور فرمایا: اے اللہ! ان کے دل ایمان کی طرف لگا دے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2915]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: مدینے والوں کے لیے احرام کی جگہ ذوالحلیفہ ہے۔ شام والوں کے لیے احرام کی جگہ جحفہ ہے۔ یمن والوں کے لیے احرام کی جگہ یلملم ہے۔ یمن والوں کے لیے احرام کی جگہ قرن ہے۔ مشرق والوں کے لیے احرام کی جگہ عرق ہے۔ اس کے بعد آپ نے (مشرق کے) افق کی طرف چہرہ کر کے فرمایا: «اللَّهُمَّ أَقْبِلْ بِقُلُوبِهِمْ» اے اللہ! ان کے دلوں کو (دین کی طرف) متوجہ کر دے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2915]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2652، ومصباح الزجاجة: 1027)، وقد أخر جہ: صحیح مسلم/الحج 2 (1183)، مسند احمد (2/181، 3/333، 336) (صحیح)» ‏‏‏‏ (اس سند میں ابراہیم الہجری ضعیف ہے، لیکن متن صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 4؍ 176، تراجع الألبانی: رقم: 526)
وضاحت: ۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں مشرق کی طرف کفر کا غلبہ تھا، اس وجہ سے وہاں کے لوگوں کے لیے دعا کی، اللہ تعالیٰ نے مشرق والوں کو مسلمان کر دیا، کروڑوں مسلمان ہندوستان میں گزرے جو مکہ سے مشرق کی جانب ہے، بعض کہتے ہیں کہ دوسری حدیث میں ہے کہ مشرق سے فتنہ نمودار ہو گا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے لیے ہدایت کی دعا کی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير
Newمحمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
صدوق إلا أنه يدلس
👤←👥إبراهيم بن يزيد الخوزي، أبو إسماعيل
Newإبراهيم بن يزيد الخوزي ← محمد بن مسلم القرشي
متروك الحديث
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← إبراهيم بن يزيد الخوزي
ثقة حافظ إمام
👤←👥علي بن محمد الكوفي، أبو الحسن
Newعلي بن محمد الكوفي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
2810
مهل أهل المدينة من ذي الحليفة الطريق الآخر الجحفة مهل أهل العراق من ذات عرق مهل أهل نجد من قرن مهل أهل اليمن من يلملم
سنن ابن ماجه
2915
مهل أهل المدينة من ذي الحليفة مهل أهل الشام من الجحفة مهل أهل اليمن من يلملم مهل أهل نجد من قرن مهل أهل المشرق من ذات عرق اللهم أقبل بقلوبهم
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2915 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2915
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ذوالحليفه کو آج کل بئرعلي یا آبارعلي کہتے ہیں۔
جحفه کا موجودہ نام رابغ ہے۔
يلملم کو السعديه کہتے ہیں۔
قرن منازل کو السيل کہتے ہیں۔
جبکہ ذات عرق کا موجودہ نام الضريبه ہے۔
میقات سے متعلق مزید تفصیلی معلومات کے لیے کتاب الحج کا ابتدائیہ دیکھیے۔

(2)
عراق کی آبادی اس وقت مسلمان ہی نہیں تھی لیکن ان کے لیے میقات مقرر کیا گیا کیونکہ مستقبل میں یہ لوگ اسلام میں داخل ہونے والے تھے۔

(3)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل عراق کے لیے اسلام کے لیے دعا کی تاہم اس علاقے کے فتنوں سے بھی متنبہ فرمایا۔
یہ اس علاقے کے نیک لوگوں کے لیے باعث فخر اور مفسد اور گمراہ لوگوں کے لیے باعث عار ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2915]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2810
ابو زبیر کہتے ہیں، میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما سے سنا، ان سے احرام گاہ کے بارے میں پوچھا گیا، میرا گمان ہے جابر نے اس کی نسبت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل مدینہ کے لیے احرام باندھنے کی جگہ ذوالحلیفہ ہے اور دوسرا راستہ جحفہ ہے اور اہل عراق کے لیے احرام باندھنے کی جگہ ذات عرق ہے اور اہل نجد کے لیے احرام گاہ قرن منازل ہے اور اہل یمن کے لیے احرام گاہ یلملم ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2810]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
الطریق الاخر سے مراد بعض حضرات کے نزدیک یہ ہے کہ اہل مدینہ اگر دوسرے راستہ سے مکہ معظمہ جائیں تو وہ حجفہ سے احرام باندھ سکتے ہیں اور بعض شارحین کاخیال ہے اس سے مراد دوسرے رساتہ والے ہیں۔
یعنی اہل شام جن کا میقات حجفہ ہے جب کہ دوسری روایات میں گزر چکا ہے۔
نوٹ:
ذات عرق کے بارے میں اختلاف ہے کہ یہ میقات اہل عراق کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےمقرر فرمایا ہے یا اس کی تعیین اہل عراق کے دریافت کرنے پر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے اجتہاد سے کی تھی،
ائمہ دونوں طرف گئے ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2810]

Sunan Ibn Majah Hadith 2915 in Urdu