🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
44. باب تحريم ضرب الخدود وشق الجيوب والدعاء بدعوى الجاهلية:
باب: رخسار پر مارنا، گریبان چاک کرنا، اور جاہلیت کی چیخ و پکار کرنا حرام ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 103 ترقیم شاملہ: -- 285
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ. ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي جَمِيعًا، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ مِنَّا، مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ، أَوْ شَقَّ الْجُيُوبَ، أَوْ دَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ "، هَذَا حَدِيثُ يَحْيَى، وَأَمَّا ابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو بَكْرٍ، فَقَالَا: وَشَقَّ وَدَعَا بِغَيْرِ أَلِفٍ.
یحییٰ بن یحییٰ اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں ابومعاویہ اور وکیع نے حدیث بیان کی، نیز (محمد بن عبداللہ) ابن نمیر نے کہا: ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی، ان سب (ابومعاویہ، وکیع اور ابن نمیر) نے اعمش سے، انہوں نے عبداللہ بن مرہ سے، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے رخسار پیٹے یا گریبان چاک کیا یا اہل جاہلیت کی طرح پکارا، وہ ہم میں سے نہیں۔ یہ یحییٰ کی حدیث ہے (جو انہوں نے ابومعاویہ کے واسطے سے بیان کی۔) البتہ (محمد) ابن نمیر اور ابوبکر بن ابی شیبہ (جنہوں نے ابومعاویہ اور وکیع دونوں سے روایت کی) نے او کے بجائے الف کے بغیر ’و‘، (یا کے بجائے اور) کہا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 285]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے رخسار پیٹے یا گریبان چاک کیا یا جاہلیت کی پکار پکاری، تو وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ یہ یحییٰ رحمہ اللہ کی حدیث ہے، لیکن ابن نمیر رحمہ اللہ اور ابوبکر رحمہ اللہ دونوں نے کہا: «شَقَّ» اور «دَعَا» الف کے بغیر (یعنی "او" کی جگہ "و" کہا۔) [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 285]
ترقیم فوادعبدالباقی: 103
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في الجنائز، باب: ليس منا من ضرب الخدود برقم (1235 و 1236) وفى ((المناقب)) باب: ما ينهى من دعوى الجاهلية برقم (3331) والنسائي في ((المجتبى)) 19/4 في الجنائز، باب: دعوى الجاهلية، وابن ماجه في ((سننه)) في الجنائز، باب: ما جاء في النهى عن ضرب الخدود وشق الجيوب برقم (1584) انظر ((التحفة)) برقم (9569)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥مسروق بن الأجدع الهمداني، أبو عائشة
Newمسروق بن الأجدع الهمداني ← عبد الله بن مسعود
ثقة
👤←👥عبد الله بن مرة الهمداني
Newعبد الله بن مرة الهمداني ← مسروق بن الأجدع الهمداني
ثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← عبد الله بن مرة الهمداني
ثقة حافظ
👤←👥عبد الله بن نمير الهمداني، أبو هشام
Newعبد الله بن نمير الهمداني ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة صاحب حديث من أهل السنة
👤←👥محمد بن نمير الهمداني، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن نمير الهمداني ← عبد الله بن نمير الهمداني
ثقة حافظ
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← محمد بن نمير الهمداني
ثقة حافظ إمام
👤←👥محمد بن خازم الأعمى، أبو معاوية
Newمحمد بن خازم الأعمى ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← محمد بن خازم الأعمى
ثقة حافظ صاحب تصانيف
👤←👥يحيى بن يحيى النيسابوري، أبو زكريا
Newيحيى بن يحيى النيسابوري ← ابن أبي شيبة العبسي
ثقة ثبت إمام
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3519
ليس منا من ضرب الخدود وشق الجيوب ودعا بدعوى الجاهلية
صحيح البخاري
1294
ليس منا من لطم الخدود وشق الجيوب ودعا بدعوى الجاهلية
صحيح البخاري
1297
ليس منا من ضرب الخدود وشق الجيوب ودعا بدعوى الجاهلية
صحيح البخاري
1298
ليس منا من ضرب الخدود وشق الجيوب ودعا بدعوى الجاهلية
صحيح مسلم
285
ليس منا من ضرب الخدود أو شق الجيوب أو دعا بدعوى الجاهلية
جامع الترمذي
999
ليس منا من شق الجيوب وضرب الخدود ودعا بدعوة الجاهلية
سنن النسائى الصغرى
1863
ليس منا من ضرب الخدود وشق الجيوب ودعا بدعوى الجاهلية
سنن النسائى الصغرى
1861
ليس منا من ضرب الخدود وشق الجيوب ودعا بدعاء الجاهلية
سنن النسائى الصغرى
1865
ليس منا من ضرب الخدود وشق الجيوب ودعا بدعوى الجاهلية
سنن ابن ماجه
1584
ليس منا من شق الجيوب وضرب الخدود ودعا بدعوى الجاهلية
مسندالحميدي
197
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقبل ويباشر وهو صائم وكان أملككم لأربه
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 285 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 285
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
:
دَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ:
جاہلیت کے دور کی پکار کا معنی ہے:
نوحہ کرنا،
جزع فزع کرنا،
اپنے لیے تباہی و بربادی کی دعا کرنا۔
میت کے صحیح یا غلط کارناموں کو یاد کر کے،
اس پر چیخنا چلانا،
اور بد قسمتی سے یہ کام آج کل مسلمان گھرانوں کی عورتوں میں عام پائے جاتے ہیں۔
أعاذنا الله منها
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 285]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ عمران ايوب لاهوري حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 1294
مصیبت و تکلیف کے وقت جزع فزع اور چیخ و پکار کرنا جائز نہیں
«. . . قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَطَمَ الْخُدُودَ وَشَقَّ الْجُيُوبَ وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ . . .»
. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو عورتیں (کسی کی موت پر) اپنے چہروں کو پیٹتی اور گریبان چاک کر لیتی ہیں اور جاہلیت کی باتیں بکتی ہیں وہ ہم میں سے نہیں ہیں . . . [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ: 1294]
لغوی توضیح:
«الْخُدُوْدَ» جمع ہے «خَد» کی، معنی ہے رخسار۔
«الْجُيُوٌبَ» جمع ہے «جَيٌب» کی، معنی ہے گریبان۔

فہم الحدیث:
معلوم ہوا کہ مصیبت و تکلیف کے وقت جزع فزع اور چیخ و پکار کرنا جائز نہیں اور جاہلیت کی پکار (یعنی ہلاکت و بربادی کی دعائیں، بین کرنا، نوحہ کرنا وغیرہ) بھی حرام ہے۔ قرآن میں ہدایت یافتہ انہیں کہا گیا ہے جو مصیبت کے وقت صبر کرتے ہیں اور زبان سے یہ الفاظ نکالتے ہیں: «إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» [سورة البقرة: آيت 156]
[جواہر الایمان شرح الولووالمرجان، حدیث/صفحہ نمبر: 65]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1861
جاہلیت کی چیخ پکار اور رونا دھونا منع ہے۔
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں ۱؎ جو منہ پیٹے، گریباں پھاڑے، اور جاہلیت کی پکار پکارے (یعنی نوحہ کرے)۔‏‏‏‏ یہ الفاظ علی بن خشرم کے ہیں، اور حسن کی روایت «بدعا الجاہلیۃ» کی جگہ «بدعویٰ الجاہلیۃ» ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1861]
1861۔ اردو حاشیہ:
ہم میں سے نہیں یعنی وہ ہمارے جاری کردہ طریقے پر نہیں بلکہ اس فعل میں کافروں جیسا ہے، نہ کہ وہ کافر ہو جاتا ہے۔
➋ اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو رضامندی سے تسلیم کرنا چاہیے۔ آہ و بکاناشکری کے زمرے میں آتی ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1861]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1584
(مصیبت کے وقت) منہ پیٹنا اور گریبان پھاڑنا منع ہے۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص (نوحہ میں) گریبان پھاڑے، منہ پیٹے، اور جاہلیت کی پکار پکارے، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1584]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
دل کا غم اور آنکھوں سے آنسووں کا بہنا صبر کے منافی نہیں۔
البتہ اس کے علاوہ لوگ بے صبری کی وجہ سے جو مختلف قسم کی نامناسب حرکات کرتے ہیں۔
وہ شرعاً ممنوع ہیں۔ 2۔

(2)
اسلام سے پہلے لوگوں میں یہ عادت تھی۔
کہ مرنے والے پر اظہار غم کےلئے بلند آواز سے میت کی تعریفیں کرکے روتے تھے۔
اور گریبان چاک کردیتے تھے۔
اسلام میں ان چیزوں سے منع کردیا گیا ہے۔

(3) (لَیْسَ مِنَّا)
 وہ ہم میں سے نہیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایسی حرکات کرنے والا اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔
بلکہ یہ مطلب ہے کہ وہ ہمارے طریقے پر نہیں مسلمانوں کا یہ طریقہ نہیں کیونکہ یہ اہل جاہلیت کی غلط عادتوں میں سے ہے۔
ہمیں اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1584]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 999
مصیبت کے وقت چہرہ پیٹنے اور گریبان پھاڑنے کی ممانعت کا بیان۔
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو گریبان پھاڑے، چہرہ پیٹے اور جاہلیت کی ہانک پکارے ۱؎ ہم میں سے نہیں ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز/حدیث: 999]
اردو حاشہ: 1؎:
جاہلیت کی ہانک پکارنے سے مرادبین کرنا ہے،
جیسے ہائے میرے شیر! میرے چاند،
ہائے میرے بچوں کو یتیم کرجانے والے عورتوں کے سہاگ اجاڑدینے والے! وغیرہ وغیرہ کہہ کررونا۔
2؎:
یعنی ہم مسلمانوں کے طریقے پر نہیں۔
ایسے موقع پر مسلمانوں کے غیرمسلموں جیسے جزع وفزع کے طورطریقے دیکھ کراس حدیث کی صداقت کس قدرواضح ہوجاتاہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 999]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:197
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات مومنوں کی مائیں ہیں۔ یہ بھی ثابت ہوا کہ روزے کی حالت میں بیوی کا بوسہ لینا درست ہے، لیکن اگر شہوت پر کنٹرول ہو تو درست ہے لیکن جو شخص کنٹرول نہ کر سکے تو وہ روزے کی حالت میں بیوی کا بوسہ نہ لے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اوپر بہت زیادہ کنٹرول تھا، سبحان اللہ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا شرعی مسائل بیان کرنے میں شرم محسوس نہیں کرتی تھیں، بعض لوگ عورت کی آواز کو بھی پردہ خیال کرتے ہیں، جو کہ غلط ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 197]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1294
1294. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے،انھوں نےکہا:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو شخص اپنے رخسار پیٹے اور گریبان پھاڑے، نیز عہد جاہلیت کی طرح چیخ پکار کرے وہ ہم سے نہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1294]
حدیث حاشیہ:
یعنی ہماری امت سے خارج ہیں۔
معلوم ہوا کہ یہ حرکت سخت ناپسندیدہ ہے
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1294]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1297
1297. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:وہ شخص ہم میں سے نہیں جو اپنے رخسار پیٹے، کپڑے پھاڑے اور جاہلیت کا سا بکواس کرے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1297]
حدیث حاشیہ:
جو لوگ عرصہ دراز کے شہید شدہ بزرگوں پر سینہ کوبی کرتے ہیں وہ غور کریں کہ وہ کسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بغاوت کررہے ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1297]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1298
1298. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے،انھوں نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:جس شخص نے(مصیبت کے وقت) اپنے رخسار پیٹے،گریبان پھاڑااور دور جاہلیت کے ناجائز کلمات کہے وہ ہم سے نہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1298]
حدیث حاشیہ:
یعنی اس کا یہ عمل ان لوگوں جیسا ہے جو غیر مسلم ہیں یا یہ کہ ہماری امت سے خارج ہے۔
بہر حال اس سے بھی نوحہ کی حرمت ثابت ہوئی
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1298]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1294
1294. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے،انھوں نےکہا:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو شخص اپنے رخسار پیٹے اور گریبان پھاڑے، نیز عہد جاہلیت کی طرح چیخ پکار کرے وہ ہم سے نہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1294]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث کے معنی یہ نہیں کہ مذکورہ تین کام کرنے سے وعید کا سزاوار ہو گا بلکہ ان تینوں میں سے ہر کام مذکورہ وعید کا باعث ہے جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے کہ جو شخص مصیبت کے وقت اپنے رخسار پیٹے یا گریبان چاک کرے یا جاہلیت کی سی باتیں کرے وہ ہم سے نہیں۔
(صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 285 (103) (2)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مصیبت کے وقت گریبان پھاڑنا اور رخسار پیٹنا حرام ہے، کیونکہ یہ اللہ کی تقدیر پر عدم رضا کی دلیل ہے۔
اگر کسی کو اس کی حرمت کا علم ہے، اس کے باوجود اسے حلال سمجھ کر ایسا کرتا ہے تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
حضرت سفیان ثوری ؒ مذکورہ حدیث کے متعلق کسی قسم کی توجیہ یا تاویل کرنے سے منع کرتے تھے کہ اس سے وعید کا مقصد فوت ہو جاتا ہے جو لوگوں کو ایسے افعال شنیعہ سے روکنے کا باعث ہے۔
(فتح الباري: 209/3)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1294]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1297
1297. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:وہ شخص ہم میں سے نہیں جو اپنے رخسار پیٹے، کپڑے پھاڑے اور جاہلیت کا سا بکواس کرے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1297]
حدیث حاشیہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان افعال کے مرتکب لوگوں سے اظہار بے زاری کے معنی یہ ہیں کہ آپ اس شخص کے اس فعل سے راضی اور خوش نہیں ہیں۔
یہ انداز کبیرہ گناہوں کے متعلق اختیار کیا جاتا ہے، چنانچہ مصیبت کے وقت چلانا، نوحہ کرنا، رخسار پیٹنا، گریبان چاک کرنا، منہ نوچنا، بال کھول کر انہیں پھیلانا، واویلا کرنا اور دور جاہلیت کا سا بکواس کرنا اللہ کی تقدیر پر ناراض ہونے کے مترادف ہے، لہذا یہ کام بالاتفاق حرام ہے۔
والله أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1297]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1298
1298. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے،انھوں نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:جس شخص نے(مصیبت کے وقت) اپنے رخسار پیٹے،گریبان پھاڑااور دور جاہلیت کے ناجائز کلمات کہے وہ ہم سے نہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1298]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث میں واویلا کرنے کی ممانعت نہیں۔
امام بخاری ؒ نے عنوان قائم کر کے اس حدیث کی طرف اشارہ کیا ہے جسے حضرت ابو امامہ ؓ نے بیان کیا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے اس عورت پر جو مصیبت کے وقت اپنا چہرہ نوچتی ہے، گریبان پھاڑتی ہے اور ہلاکت و تباہی کے بول منہ سے کہتی ہے۔
(سنن ابن ماجة، الجنائز، حدیث: 1585)
اس حدیث میں واویلا کرنے کی صراحت ہے کہ مصیبت کے وقت ایسا کرنا ناجائز اور باعث لعنت ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1298]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3519
3519. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جو (مصیبت کے وقت) اپنے رخساروں کو پیٹے، گریباں پھاڑے اور دور جاہلیت کے نعرے لگائے وہ ہم سے نہیں ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3519]
حدیث حاشیہ:
مصیبت کے وقت عصبیت کو ہوا دینا اور دوسروں کے جذبات کو اس پر ابھارنا دورجاہلیت کے نعرے ہیں۔
اگرانھیں حلال سمجھ کر کیا جائے توانسان دین سے خارج ہوجاتا ہے، بصورت دیگررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈانٹ ڈپٹ اور سرزنش کے طور پر فرمایا:
وہ مسلمانوں کی روش پر نہیں ہے۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3519]