🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
43. باب بيان ان السعي بين الصفا والمروة ركن لا يصح الحج إلا به:
باب: صفا و مروہ کے درمیان سعی حج کا رکن ہے اس کے بغیر حج نہیں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1278 ترقیم شاملہ: -- 3084
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " كَانَتِ الْأَنْصَارُ يَكْرَهُونَ أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، حَتَّى نَزَلَتْ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158 ".
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہا: انصار صفا مروہ کے درمیان طواف کرنا ناپسند کرتے تھے یہاں تک کہ (یہ آیت) نازل ہوئی: بلاشبہ صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں تو جو کوئی بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف کرے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3084]
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، انصار صفا اور مروہ کے درمیان طواف کرنے میں حرج محسوس کرتے تھے، حتی کہ یہ آیت اتری، (بےشک صفا اور مروہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں، تو جو بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے، تو اس پر کوئی حرج نہیں کہ ان کا طواف کرے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3084]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1278
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥عاصم الأحول، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعاصم الأحول ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥محمد بن خازم الأعمى، أبو معاوية
Newمحمد بن خازم الأعمى ← عاصم الأحول
ثقة
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← محمد بن خازم الأعمى
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4496
كنا نرى أنهما من أمر الجاهلية فلما كان الإسلام أمسكنا عنهما فأنزل الله إن الصفا والمروة من شعائر الله فمن حج البيت أو اعتمر فلا جناح عليه أن يطوف بهما
صحيح مسلم
3084
كانت الأنصار يكرهون أن يطوفوا بين الصفا والمروة حتى نزلت إن الصفا والمروة من شعائر الله فمن حج البيت أو اعتمر فلا جناح عليه أن يطوف بهما
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 3084 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3084
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
روایات بالا سے ثابت ہوتا ہے کہ انصار کے دوگروہ تھے۔
ان میں ایک جاہلیت کے دور میں اساف اورنائلہ کی خاطر صفا اورمروہ کا طواف کرتا تھا اور دوسرا مناۃ کے طواف کی بنا پر ان کا طواف نہیں کرتا ان دونوں گروہوں نے اسلام لانے کے بعد صفا اورمروہ کے طواف میں حرج محسوس کیا ان دونوں اورتیسرے گروہ کے دل میں کھٹکنے والی بات کو اللہ نے اس آیت سے دور فرما دیا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3084]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4496
4496. حضرت عاصم بن سلیمان سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس ؓ سے صفا اور مروہ کی سعی کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: ہم ان کے درمیان سعی کرنے کو جاہلیت کے کاموں سے سمجھتے تھے۔ جب اسلام آیا تو ہم ان کے درمیان سعی کرنے سے رُک گئے۔ اس پر اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی: "بےشک صفا اور مروہ اللہ کی (عظمت کی) نشانیوں میں سے ہیں، لہذا جو کوئی بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اسے (ان کے درمیان سعی کرنے میں) کوئی گناہ نہیں۔" [صحيح بخاري، حديث نمبر:4496]
حدیث حاشیہ:
جب مسجد حرام کو قبلہ مقرر کیا گیا تو صفا اور مروہ کے متعلق لوگوں میں بہت غلط فہمیاں پائی جاتی تھیں جن کی تفصیل سابقہ حدیث کے فوائد میں گزرچکی ہے۔
اس آیت کریمہ میں ان غلط فہمیوں کا تدارک کیا گیا ہے کہ ان دونوں مقامات کے درمیان سعی کرناحج کے اصل مناسک سے ہے، نیزان مقامات کا تقدس اللہ کی جانب سے ہے۔
اہل جاہلیت کی من گھڑت ایجادات سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4496]