🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
79. باب فضل يوم عرفة:
باب: عرفہ کے دن کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1348 ترقیم شاملہ: -- 3288
حدثنا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالا: حدثنا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ يُونُسَ بْنَ يُوسُفَ ، يَقُولُ: عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، قَالَ: قَالَت عَائِشَةُ : إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يُعْتِقَ اللَّهُ فِيهِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ، وَإِنَّهُ لَيَدْنُو، ثُمَّ يُبَاهِي بِهِمُ الْمَلَائِكَةَ، فَيَقُولُ: مَا أَرَادَ هَؤُلَاءِ ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بلاشبہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی دن نہیں جس میں اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن سے بڑھ کر بندوں کو آگ سے آزاد فرماتا ہو، وہ (اپنے بندوں کے) قریب ہوتا ہے۔ اور فرشتوں کے سامنے ان لوگوں کی بنا پر فخر کرتا ہے اور پوچھتا ہے: یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3288]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن سے زیادہ کسی دن بندوں کو دوزخ سے آزاد نہیں کرتا، اور وہ قریب ہوتا ہے، اور فرشتوں کے سامنے (وہاں موجود) لوگوں پر فخر کرتا ہے اور پوچھتا ہے، یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3288]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1348
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد
Newسعيد بن المسيب القرشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار
👤←👥يونس بن يوسف الليثي
Newيونس بن يوسف الليثي ← سعيد بن المسيب القرشي
ثقة
👤←👥بكير بن عبد الله القرشي، أبو يوسف، أبو عبد الله
Newبكير بن عبد الله القرشي ← يونس بن يوسف الليثي
ثقة
👤←👥مخرمة بن بكير القرشي، أبو المسور
Newمخرمة بن بكير القرشي ← بكير بن عبد الله القرشي
ثقة
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← مخرمة بن بكير القرشي
ثقة حافظ
👤←👥أحمد بن أبي موسى المصري، أبو عبد الله
Newأحمد بن أبي موسى المصري ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة
👤←👥هارون بن سعيد السعدي، أبو جعفر
Newهارون بن سعيد السعدي ← أحمد بن أبي موسى المصري
ثقة فاضل
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
3006
ما من يوم أكثر من أن يعتق الله فيه عبدا أو أمة من النار من يوم عرفة
صحيح مسلم
3288
ما من يوم أكثر من أن يعتق الله فيه عبدا من النار من يوم عرفة
سنن ابن ماجه
3014
ما من يوم أكثر من أن يعتق الله فيه عبدا من النار من يوم عرفة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 3288 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3288
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
مصنف عبدالرزاق میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی روایت ہے۔
جس سے اس حدیث کا صحیح معنی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے،
اور فرشتوں کو فرماتا ہے میرے یہ بندے پراگندہ بال،
خاک آلود آئے ہیں میری رحمت کے اُمید وار ہیں میرے عذاب سے خوفزدہ ہیں حالانکہ انہوں نے مجھے دیکھا نہیں ہے اگر یہ مجھے دیکھ لیتے تو ان کا کیا حال ہوتا۔
اس فخرومباہات کے اظہار کے بعد ان سے پوچھتا ہے،
آخر ان لوگوں نے اپنا گھر بار،
اہل و عیال،
کاروبار کس مقصد کے لیے چھوڑا ہے اپنے مال،
وقت کوخرچ کرکے،
سفرکی صعوبتیں اور مشقتیں برداشت کرتے ہوئے کیوں آئے ہیں،
یعنی میری بخشش،
رضا مندی اورقرب ولقاء کے سوا ان کا کوئی اور مقصد نہیں ہو سکتا۔
صرف مجھے راضی کرنے اور اپنے گناہوں کی معافی طلب کرنے آئے ہیں،
تاکہ انہیں میرا تقرب حاصل ہو۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3288]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3006
یوم عرفہ کی فضیلت کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل عرفہ کے دن جتنے غلام اور لونڈیاں جہنم سے آزاد کرتا ہے اتنا کسی اور دن نہیں کرتا، اس دن وہ اپنے بندوں سے قریب ہوتا ہے، اور ان کے ذریعہ فرشتوں پر فخر کرتا ہے، اور پوچھتا ہے، یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟۔‏‏‏‏ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: ہو سکتا ہے یہ یونس (جن کا اس روایت میں نام آیا ہے) یونس بن یوسف ہوں، جن سے مالک نے روایت کی ہے واللہ تعالیٰ اعلم۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3006]
اردو حاشہ:
(1) غلام لونڈیاں مراد عام مرد و عورت ہیں کیونکہ سب انسان اللہ تعالیٰ کے لیے غلام لونڈیاں ہی ہیں۔
(2) آگ سے آزاد یعنی جن کے لیے گناہوں کی وجہ سے آگ مقدر تھی، اللہ تعالیٰ ان کے لیے معافی فرماتا ہے۔ نتیجتاً وہ قیامت کے دن آگ سے بچ جائیں گے۔ چونکہ معافی یوم عرفہ کو ہوتی ہے، اس لیے آزادی کی نسبت اس کی طرف کر دی ورنہ اصل آزادی تو قیامت کے دن ہوگی۔ ممکن ہے فوت شدگان کو بھی اللہ تعالیٰ اس دن عذاب قبر سے معافی اور آزادی عطا فرماتا ہو۔
(3) مزید قریب اللہ تعالیٰ اپنے افعال و صفات میں مختار ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ کے قریب آنے میں کوئی اشکال نہیں جیسے اس کی شان کو لائق ہے۔ بعض حضرات نے چند مزعومہ اور بے بنیاد اصولوں کی بنا پر اللہ تعالیٰ کو اتنا مجبور و بے بس (معاذ اللہ) بنا رکھا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے لیے کچھ بھی کرنے کی ممنوع سمجھتے ہیں۔ ہمارا اللہ گناہ گاروں کا رب اور بے بسوں کا رب، سب مخلوق کا رب اتنا بے بس اور مجبور نہیں ہو سکتا کہ نہ وہ کسی پر ترس کھا سکے، نہ کسی سے سرگوشی کر سکے، نہ کلام کر سکے، نہ خوش ہو سکے، نہ قریب آسکے اور نہ عرش پر فروخش ہو سکے، لہٰذا تاویلات کی کوئی ضرورت نہیں، ہاں جب اللہ تعالیٰ قریب ہوگا تو رحمت الٰہی خواہ مخواہ قریب ہوگی۔ اس کا انکار نہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3006]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3014
عرفات میں دعا کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جتنا عرفہ کے دن اپنے بندوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے اتنا کسی اور دن نہیں، اللہ تعالیٰ قریب ہو جاتا ہے، اور ان کی وجہ سے فرشتوں پر فخر کرتا ہے، اور فرماتا ہے: میرے ان بندوں نے کیا چا ہا؟ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3014]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
عرفے کے دن اللہ کی رحمت کا دن ہے، اس لیے اس دن روزہ رکھنا مسنون ہے، تاہم حاجیوں کے لیے یہ روزہ رکھنا منع ہے کیونکہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات میں یہ روزہ نہیں رکھا تھا۔ (صحيح البخاري، الصوم، باب صوم يوم عرفة، حديث: 1988)

(2)
اللہ کا قریب ہونا اور کلام کرنا اس کی صفت ہے جس کی کیفیت بندوں کو معلوم نہیں۔
صفات الہی پر ایمان رکھنا چاہیے لیکن ان صفات کو بندوں کی صفات سے مشابہ نہیں سمجھنا چاہیے۔

(3)
حج میں بندے اللہ کی رضا اور رحمت کے حصول کے لیے عرفات میں جمع ہوتے ہیں، اس لیے انھیں یہ رحمت و مغفرت حاصل ہوجاتی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3014]