صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
18. باب كِرَاءِ الأَرْضِ بِالطَّعَامِ:
باب: اناج کے بدلے زمین کرایہ پر دینے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1548 ترقیم شاملہ: -- 3949
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْهِرٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ مَوْلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ رَافِعٍ : أَنَّ ظُهَيْرَ بْنَ رَافِعٍ ، وَهُوَ عَمُّهُ، قَالَ: أَتَانِي ظُهَيْرٌ، فَقَالَ: لَقَدْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ بِنَا رَافِقًا، فَقُلْتُ: وَمَا ذَاكَ؟ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ حَقٌّ، قَالَ: سَأَلَنِي كَيْفَ تَصْنَعُونَ بِمَحَاقِلِكُمْ؟ فَقُلْتُ: نُؤَاجِرُهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلَى الرَّبِيعِ، أَوِ الْأَوْسُقِ مِنَ التَّمْرِ، أَوِ الشَّعِيرِ، قَالَ: " فَلَا تَفْعَلُوا، ازْرَعُوهَا، أَوْ أَزْرِعُوهَا، أَوْ أَمْسِكُوهَا ".
ابوعمرو اوزاعی نے مجھے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابونجاشی سے حدیث بیان کی اور انہوں نے حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے روایت کی، ظُہیر بن رافع ان کے چچا تھے، کہا: ظہیر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے کام سے منع فرمایا ہے جو ہمیں سہولت دینے والا تھا۔ میں نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا وہ برحق ہے۔ کہا: آپ نے مجھ سے پوچھا: ”تم اپنے کھیتوں کا کیا معاملہ کرتے ہو؟“ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم انہیں چھوٹی نہر (کے کناروں کی پیداوار) پر یا کھجور یا جو کے (متعینہ) وسقوں پر اجرت پر دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”تو ایسا نہ کرو، اسے خود کاشت کرو یا کاشت کے لیے کسی کو دے دو یا ویسے ہی اپنے ہاتھ میں رکھو۔“ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3949]
حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ظہیر بن رافع رضی اللہ عنہ (جو ان کے چچا ہیں) ان کے پاس آئے اور بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایسے معاملے سے روک دیا ہے جو ہمارے لیے سہولت اور آسانی کا باعث تھا، میں نے کہا: وہ کیا ہے؟ جو بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے وہی برحق ہے، انہوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا: ”تم اپنے کھیتوں کا کیا کرتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم اسے اجرت (کرایہ) پر دیتے ہیں، ہم کھال کے کنارے کی زمین کی پیداوار لیتے ہیں یا کھجور یا جو کی متعین مقدار میں وسق لیتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہ کرو، کاشت کرو، یا کاشت کے لیے دے دو یا اپنے پاس روکے رکھو۔“ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3949]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1548
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
2339
| ما تصنعون بمحاقلكم قلت نؤاجرها على الربع وعلى الأوسق من التمر والشعير لا تفعلوا ازرعوها أو أزرعوها أو أمسكوها |
صحيح مسلم |
3949
| لا تفعلوا ازرعوها أو أزرعوها أو أمسكوها |
جامع الترمذي |
1384
| إذا كانت لأحدكم أرض فليمنحها أخاه أو ليزرعها |
سنن أبي داود |
3395
| من كانت له أرض فليزرعها أو فليزرعها أخاه لا يكاريها بثلث ولا بربع ولا بطعام مسمى |
سنن أبي داود |
3397
| يزرع أحدنا إلا أرضا يملك رقبتها منيحة يمنحها رجل |
سنن النسائى الصغرى |
3902
| من كان له أرض فليزرعها أو يمنحها أو يذرها |
سنن النسائى الصغرى |
3903
| من كان له أرض فليزرعها أو ليذرها أو ليمنحها |
سنن النسائى الصغرى |
3955
| لا تفعلوا ازرعوها أو أزرعوها أو امسكوها |
سنن النسائى الصغرى |
3954
| لا تفعلوا ازرعوها أو أعيروها أو امسكوها |
سنن النسائى الصغرى |
3928
| من كانت له أرض فليزرعها أو ليزرعها أخاه لا يكاريها بثلث ولا ربع ولا طعام مسمى |
سنن النسائى الصغرى |
3897
| من كانت له أرض فليزرعها فإن عجز عنها فليزرعها أخاه |
سنن النسائى الصغرى |
3900
| لو منحها أخاه |
سنن ابن ماجه |
2459
| ما تصنعون بمحاقلكم قلنا نؤاجرها على الثلث والربع والأوسق من البر والشعير لا تفعلوا ازرعوها أو أزرعوها |
سنن ابن ماجه |
2465
| من كانت له أرض فلا يكريها بطعام مسمى |
Sahih Muslim Hadith 3949 in Urdu
رافع بن خديج الأنصاري ← ظهير بن رافع الحارثي