صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
3. باب وُصُولِ ثَوَابِ الصَّدَقَاتِ إِلَى الْمَيِّتِ:
باب: صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1004 ترقیم شاملہ: -- 4221
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمِّيَ افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا وَلَمْ تُوصِ وَأَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ، أَفَلَهَا أَجْرٌ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا؟، قَالَ: نَعَمْ "،
محمد بن بشر نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ہشام نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کی کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اللہ کے رسول! میری والدہ اچانک فوت ہو گئی ہیں اور وصیت نہیں کر سکیں، مجھے ان کے بارے میں یقین ہے کہ اگر وہ کلام کرتیں تو ضرور صدقہ کرتیں، اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کر دوں تو کیا ان کے لیے اجر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الوصية/حدیث: 4221]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا: اے اللہ کے رسول! میری ماں اچانک فوت ہو گئی ہے، اور اس نے وصیت نہیں کی، اور میرا خیال ہے، اگر اس کو بولنے کا موقع ملتا، وہ صدقہ کرتی، تو کیا اس کو، اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کروں، اجر ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الوصية/حدیث: 4221]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1004
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
2760
| أمي افتلتت نفسها وأراها لو تكلمت تصدقت أفأتصدق عنها قال نعم تصدق عنها |
صحيح البخاري |
1388
| أمي افتلتت نفسها وأظنها لو تكلمت تصدقت فهل لها أجر إن تصدقت عنها قال نعم |
صحيح مسلم |
2326
| أمي افتلتت نفسها ولم توص وأظنها لو تكلمت تصدقت أفلها أجر إن تصدقت عنها قال نعم |
صحيح مسلم |
4220
| أمي افتلتت نفسها وإني أظنها لو تكلمت تصدقت فلي أجر أن أتصدق عنها قال نعم |
صحيح مسلم |
4221
| أمي افتلتت نفسها ولم توص وأظنها لو تكلمت تصدقت أفلها أجر إن تصدقت عنها قال نعم |
سنن أبي داود |
2881
| نعم فتصدقي عنها |
سنن ابن ماجه |
2717
| أمي افتلتت نفسها ولم توص وإني أظنها لو تكلمت لتصدقت فلها أجر إن تصدقت عنها ولي أجر قال نعم |
سنن النسائى الصغرى |
3679
| أمي افتلتت نفسها وإنها لو تكلمت تصدقت أفأتصدق عنها فقال رسول الله نعم فتصدق عنها |
بلوغ المرام |
820
| امي افتلتت نفسها ولم توص واظنها لو تكلمت تصدقت افلها اجر إن تصدقت عنها |
مسندالحميدي |
245
| نعم |
Sahih Muslim Hadith 4221 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق