صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
5. باب من اعترف على نفسه بالزنا:
باب: جو شخص زنا کا اعتراف کر لے اس کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1691 ترقیم شاملہ: -- 4420
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: " أَتَى رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَنَادَاهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي زَنَيْتُ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَتَنَحَّى تِلْقَاءَ وَجْهِهِ، فَقَالَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي زَنَيْتُ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ حَتَّى ثَنَى ذَلِكَ عَلَيْهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فَلَمَّا شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ دَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَبِكَ جُنُونٌ؟، قَالَ: لَا، قَالَ: فَهَلْ أَحْصَنْتَ؟، قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ "، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : فَأَخْبَرَنِي مَنْ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: فَكُنْتُ فِيمَنْ رَجَمَهُ فَرَجَمْنَاهُ بِالْمُصَلَّى، فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ هَرَبَ فَأَدْرَكْنَاهُ بِالْحَرَّةِ، فَرَجَمْنَاهُ
عقیل (بن خالد اموی) نے ابن شہاب سے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمان بن عوف اور سعید بن مسیب سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: مسلمانوں میں سے ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ مسجد میں تشریف فرما تھے، اس نے آپ کو آواز دی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف سے منہ پھیر لیا، وہ گھوم کر ایک طرف سے آپ کے سامنے آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے۔ آپ نے (پھر) اس سے منہ پھر لیا حتی کہ اس نے آپ کے سامنے یہی کلمات چار مرتبہ دہرائے۔ جب اس نے اپنے خلاف چار گواہیاں دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور پوچھا: ”کیا تمہیں جنون ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے پوچھا: ”کیا تم نے شادی کی ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لے جاؤ اور رجم کرو۔“ ابن شہاب نے کہا: مجھے اس آدمی نے بتایا جس نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی تھی، وہ کہہ رہے تھے: میں بھی ان لوگوں میں تھا جنہوں نے اسے رجم کیا، ہم نے اسے جنازہ گاہ میں رجم کیا تھا، جب پتھروں نے اس کی برداشت ختم کر دی تو وہ بھاگ نکلا، ہم نے اسے سیاہ پتھروں والی زمین میں جا لیا اور رجم کر دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4420]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسجد میں ایک مسلمان آدمی آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز دے کر کہا، اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا، وہ پھر کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ گیا اور آپ سے کہنے لگا، اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اعراض کیا حتی کہ اس نے یہ بات چار مرتبہ دہرائی، جب اس نے اپنے بارے میں چار مرتبہ گواہی دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلوایا اور اس سے پوچھا: ”کیا تو دیوانہ ہے؟“ اس نے کہا، نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم شادی شدہ ہو؟“ اس نے کہا، جی ہاں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لے جاؤ اور سنگسار کر دو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4420]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1691
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
7167
| أبك جنون قال لا قال اذهبوا به فارجموه |
صحيح البخاري |
6815
| زنيت فأعرض عنه حتى ردد عليه أربع مرات فلما شهد على نفسه أربع شهادات دعاه النبي فقال أبك جنون قال لا قال فهل أحصنت قال نعم فقال النبي اذهبوا به فارجموه |
صحيح البخاري |
5271
| فارجموه وكان قد أحصن |
صحيح البخاري |
6825
| زنيت يريد نفسه فأعرض عنه النبي فتنحى لشق وجهه الذي أعرض قبله فقال يا رسول الله إني زنيت فأعرض عنه فجاء لشق وجه النبي الذي أعرض عنه فلما شهد على نفسه أربع شهادات دعاه النبي فقال أبك جنون قال لا يا رس |
صحيح مسلم |
4420
| أبك جنون قال لا قال فهل أحصنت قال نعم فقال رسول الله اذهبوا به فارجموه |
جامع الترمذي |
1428
| هلا تركتموه |
بلوغ المرام |
1036
| أبك جنون ؟ قال: لا قال: فهل احصنت؟ قال: نعم |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4420 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4420
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
ثني ذالك:
دہرایا،
تکرار کیا۔
(2)
مصلي:
جنازہ گاہ۔
(3)
اذلقته:
اسے قلق و اضطراب میں ڈالا۔
مفردات الحدیث:
(1)
ثني ذالك:
دہرایا،
تکرار کیا۔
(2)
مصلي:
جنازہ گاہ۔
(3)
اذلقته:
اسے قلق و اضطراب میں ڈالا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4420]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1036
زانی کی حد کا بیان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مسلمان آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے۔ بلند آواز سے کہنے لگا اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا۔ وہ دوسری طرف سے گھوم کر پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ گیا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اپنا رخ انور پھیر لیا۔ اس طرح اس شخص نے چار مرتبہ بار سامنے آ کر اقرار کیا۔ اس طرح جب اس نے اپنے آپ پرچار مرتبہ گواہیاں دے دیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پاس بلایا اور پوچھا ” کیا تو پاگل ہے؟“ وہ بولا نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا ” کیا تو شادی شدہ ہے؟“ اس نے کہا، ہاں! (میں شادی شدہ ہوں) تو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اسے لے جاؤ اور سنگسار کر دو۔“ (بخاری و مسلم)۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) «بلوغ المرام/حدیث: 1036»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مسلمان آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے۔ بلند آواز سے کہنے لگا اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا۔ وہ دوسری طرف سے گھوم کر پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ گیا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اپنا رخ انور پھیر لیا۔ اس طرح اس شخص نے چار مرتبہ بار سامنے آ کر اقرار کیا۔ اس طرح جب اس نے اپنے آپ پرچار مرتبہ گواہیاں دے دیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پاس بلایا اور پوچھا ” کیا تو پاگل ہے؟“ وہ بولا نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا ” کیا تو شادی شدہ ہے؟“ اس نے کہا، ہاں! (میں شادی شدہ ہوں) تو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اسے لے جاؤ اور سنگسار کر دو۔“ (بخاری و مسلم)۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) «بلوغ المرام/حدیث: 1036»
تخریج:
«أخرجه البخاري، الطلاق، باب الطلاق في الإغلاق...، حديث:5271، 6825، ومسلم، الحدود، باب من اعترف علي نفسه بالزني، حديث:1691.» تشریح:
1. اس حدیث سے بہت سے مسائل اخذ ہوتے ہیں۔
ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ شادی شدہ شخص کو بدکاری کرنے کے جرم میں رجم کی سزا خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے سنائی ہے۔
2.احادیث میں یہ تفصیل بھی موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنائی ہوئی سزائے رجم پر عمل کرتے ہوئے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے رجم کر کے اس شخص کو مار ڈالا تھا۔
دیکھیے: (صحیح البخاري‘ الطلاق‘ باب الطلاق…‘ حدیث: ۵۲۷۰) 3. اس حدیث سے یہ مسئلہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ زانی کو رجم کی سزا دینے کے لیے چار گواہوں کی گواہی ضروری شرط نہیں ہے بلکہ اگر وہ شخص خود زنا کا اقرار کرے تو بھی اسے رجم کر دیا جائے گا‘ اور سزا پر عمل درآمد کرانا اسلامی حکومت ہی کی ذمہ داری ہے۔
4. بعض حضرات نے اس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ حد زنا کے نفاذ کے لیے جرم زنا کا چار مرتبہ اقرار کرنا شرط ہے‘ حالانکہ اس حدیث میں تو صرف اتنا ہے کہ اس نے چار مرتبہ اقرار جرم کیا تھا‘ یہ کہاں سے معلوم ہوا کہ چار مرتبہ اقرار جرم شرط ہے؟ بلکہ سیاق تو اس پر دلالت کرتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اعراض صرف اس اقرار میں شبہ کی وجہ سے فرمایا تھا یا اس لیے فرمایا تھا کہ وہ پلٹ جائے اور جو معاملہ ابھی تک اللہ تعالیٰ کے اور اس کے درمیان ہے‘ اس سے توبہ کر لے ‘ اسی لیے اس کے چار مرتبہ اقرار کو کافی نہیں سمجھا بلکہ بعد ازاں اس کے سامنے چند سوالات بھی رکھے جن کا تعلق مختلف پہلوؤں سے تھا اور کئی شبہات نمایاں کیے اور اسے کئی کلمات کی تلقین کی جو اسے رجوع کرنے میں معاون و مددگار ثابت ہو سکتے تھے‘ یا پھر یہ اقرار اس لیے تھا کہ اس کا معاملہ بالکل متحقق ہوجائے اور اس میں کسی قسم کا شک و شبہ باقی نہ رہے‘ لہٰذا اس حدیث سے اقرار جرم میں چار مرتبہ کو شرط قرار دینا محل نظر ہے۔
«أخرجه البخاري، الطلاق، باب الطلاق في الإغلاق...، حديث:5271، 6825، ومسلم، الحدود، باب من اعترف علي نفسه بالزني، حديث:1691.»
1. اس حدیث سے بہت سے مسائل اخذ ہوتے ہیں۔
ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ شادی شدہ شخص کو بدکاری کرنے کے جرم میں رجم کی سزا خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے سنائی ہے۔
2.احادیث میں یہ تفصیل بھی موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنائی ہوئی سزائے رجم پر عمل کرتے ہوئے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے رجم کر کے اس شخص کو مار ڈالا تھا۔
دیکھیے: (صحیح البخاري‘ الطلاق‘ باب الطلاق…‘ حدیث: ۵۲۷۰) 3. اس حدیث سے یہ مسئلہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ زانی کو رجم کی سزا دینے کے لیے چار گواہوں کی گواہی ضروری شرط نہیں ہے بلکہ اگر وہ شخص خود زنا کا اقرار کرے تو بھی اسے رجم کر دیا جائے گا‘ اور سزا پر عمل درآمد کرانا اسلامی حکومت ہی کی ذمہ داری ہے۔
4. بعض حضرات نے اس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ حد زنا کے نفاذ کے لیے جرم زنا کا چار مرتبہ اقرار کرنا شرط ہے‘ حالانکہ اس حدیث میں تو صرف اتنا ہے کہ اس نے چار مرتبہ اقرار جرم کیا تھا‘ یہ کہاں سے معلوم ہوا کہ چار مرتبہ اقرار جرم شرط ہے؟ بلکہ سیاق تو اس پر دلالت کرتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اعراض صرف اس اقرار میں شبہ کی وجہ سے فرمایا تھا یا اس لیے فرمایا تھا کہ وہ پلٹ جائے اور جو معاملہ ابھی تک اللہ تعالیٰ کے اور اس کے درمیان ہے‘ اس سے توبہ کر لے ‘ اسی لیے اس کے چار مرتبہ اقرار کو کافی نہیں سمجھا بلکہ بعد ازاں اس کے سامنے چند سوالات بھی رکھے جن کا تعلق مختلف پہلوؤں سے تھا اور کئی شبہات نمایاں کیے اور اسے کئی کلمات کی تلقین کی جو اسے رجوع کرنے میں معاون و مددگار ثابت ہو سکتے تھے‘ یا پھر یہ اقرار اس لیے تھا کہ اس کا معاملہ بالکل متحقق ہوجائے اور اس میں کسی قسم کا شک و شبہ باقی نہ رہے‘ لہٰذا اس حدیث سے اقرار جرم میں چار مرتبہ کو شرط قرار دینا محل نظر ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1036]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1428
مجرم اپنے اقرار سے پھر جائے تو اس سے حد ساقط کرنے کا بیان۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ماعز اسلمی رضی الله عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اعتراف کیا کہ میں نے زنا کیا ہے، آپ نے ان کی طرف سے منہ پھیر لیا، پھر وہ دوسری طرف سے آئے اور بولے: اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے، آپ نے پھر ان کی طرف سے منہ پھیر لیا، پھر وہ دوسری طرف سے آئے اور بولے: اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے، پھر چوتھی مرتبہ اعتراف کرنے پر آپ نے رجم کا حکم دے دیا، چنانچہ وہ ایک پتھریلی زمین کی طرف لے جائے گئے اور انہیں رجم کیا گیا، جب انہیں پتھر کی چوٹ لگی تو دوڑتے ہوئے بھاگے، حتیٰ کہ ایک۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الحدود/حدیث: 1428]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ماعز اسلمی رضی الله عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اعتراف کیا کہ میں نے زنا کیا ہے، آپ نے ان کی طرف سے منہ پھیر لیا، پھر وہ دوسری طرف سے آئے اور بولے: اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے، آپ نے پھر ان کی طرف سے منہ پھیر لیا، پھر وہ دوسری طرف سے آئے اور بولے: اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے، پھر چوتھی مرتبہ اعتراف کرنے پر آپ نے رجم کا حکم دے دیا، چنانچہ وہ ایک پتھریلی زمین کی طرف لے جائے گئے اور انہیں رجم کیا گیا، جب انہیں پتھر کی چوٹ لگی تو دوڑتے ہوئے بھاگے، حتیٰ کہ ایک۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الحدود/حدیث: 1428]
اردو حاشہ:
وضاخت:
1؎:
ایک روایت کے الفاظ یوں ہیں:
«هلاَّ تركْتموهُ،
لعلهُ أن يتوبَ فيتوبُ اللهُ عليهِ؟» یعنی اسے تم لوگوں نے کیوں نہیں چھوڑ دیا،
ہو سکتا ہے وہ اپنے اقرار سے پھر جاتا اور توبہ کرتا،
پھر اللہ اس کی توبہ قبول کرتا۔
(اسی ٹکڑے میں باب سے مطابقت ہے)
وضاخت:
1؎:
ایک روایت کے الفاظ یوں ہیں:
«هلاَّ تركْتموهُ،
لعلهُ أن يتوبَ فيتوبُ اللهُ عليهِ؟» یعنی اسے تم لوگوں نے کیوں نہیں چھوڑ دیا،
ہو سکتا ہے وہ اپنے اقرار سے پھر جاتا اور توبہ کرتا،
پھر اللہ اس کی توبہ قبول کرتا۔
(اسی ٹکڑے میں باب سے مطابقت ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1428]
اسم مبهم ← جابر بن عبد الله الأنصاري