صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
5. باب من اعترف على نفسه بالزنا:
باب: جو شخص زنا کا اعتراف کر لے اس کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1691 ترقیم شاملہ: -- 4423
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، وَابْنُ جُرَيْجٍ كلهم، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ رِوَايَةِ عُقَيْلٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، وَأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
یونس، معمر اور ابن جریج سب نے زہری سے، انہوں نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت بیان کی جس طرح عقیل نے زہری سے، انہوں نے سعید (بن مسیب) اور ابوسلمہ (بن عبدالرحمان بن عوف) سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4423]
امام صاحب تین اساتذہ کی دو سندوں سے زھری کے واسطہ سے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما سے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہما کی طرح حدیث بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4423]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1691
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4423 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4423
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے والا آدمی حضرت ماعز بن مالک اسلمیٰ رضی اللہ عنہ تھے،
اس حدیث کی رو سے احناف اور حنابلہ کے نزدیک زنا کی حد قائم کرنے کے لیے،
زانی کا چار مرتبہ اعتراف کرنا ضروری ہے اور امام مالک اور شافعی کے نزدیک عسیف (مزدور،
اجیر)
کے واقعہ کی روشنی میں ایک دفعہ اقرار کرنا ہی کافی ہے،
کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت انیس کو چار دفعہ اعتراف کروانے کا حکم نہیں دیا تھا،
حسن بصری،
حماد،
ابو ثور اور ابن المنذر کا قول بھی یہی ہے۔
(المغني،
ج 12،
ص 354)
فوائد ومسائل:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے والا آدمی حضرت ماعز بن مالک اسلمیٰ رضی اللہ عنہ تھے،
اس حدیث کی رو سے احناف اور حنابلہ کے نزدیک زنا کی حد قائم کرنے کے لیے،
زانی کا چار مرتبہ اعتراف کرنا ضروری ہے اور امام مالک اور شافعی کے نزدیک عسیف (مزدور،
اجیر)
کے واقعہ کی روشنی میں ایک دفعہ اقرار کرنا ہی کافی ہے،
کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت انیس کو چار دفعہ اعتراف کروانے کا حکم نہیں دیا تھا،
حسن بصری،
حماد،
ابو ثور اور ابن المنذر کا قول بھی یہی ہے۔
(المغني،
ج 12،
ص 354)
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4423]
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← جابر بن عبد الله الأنصاري