الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
84. باب ادنى اهل الجنة منزلة فيها:
باب: جنتوں میں سب سے کم تر درجہ والے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 193 ترقیم شاملہ: -- 478
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، وَهِشَامٌ صَاحِبُ الدَّسْتَوَائِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ح وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، ومُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَخْرُجُ منَ النَّارِ، مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ شَعِيرَةً، ثُمَّ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ، مَنْ قَال: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ بُرَّةً، ثُمَّ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ، مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ ذَرَّةً "، زَادَ ابْنُ مِنْهَالٍ فِي رِوَايَتِهِ، قَالَ يَزِيدُ : فَلَقِيتُ شُعْبَةَ فَحَدَّثْتُهُ بِالْحَدِيثِ، فَقَالَ شُعْبَةُ : حَدَّثَنَا بِهِ قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَدِيثِ، إِلَّا أَنَّ شُعْبَةَ، جَعَلَ مَكَانَ الذَّرَّةِ، ذُرَةً، قَالَ يَزِيدُ: صَحَّفَ فِيهَا أَبُو بِسْطَام.
محمد بن منہال الضریر نے کہا: ہمیں یزید بن زریع نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں سعید بن ابی عروبہ اور دستوائی نے قتادہ سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ....، اسی طرح ابوغسان مسمعی اور محمد بن مثنیٰ نے کہا: میرے والد نے مجھے قتادہ کے حوالے سے حدیث سنائی، (انہوں نے کہا:) ہمیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کو آگ سے نکال لیا جائے گا جس نے ’لا إله إلا الله‘ کہا اور اس کے دل میں ایک جو کے وزن کے برابر خیر ہوئی، پھر ایسے شخص کو آگ سے نکالا جائے گا جس نے ’لا إله إلا الله‘ کہا اور اس کے دل میں گندم کے دانے کے برابر خیر ہوئی، پھر اس کو آگ سے نکالا جائے گا جس نے ’لا إله إلا الله‘ کہا اور اس کے دل میں ایک ذرے کے برابر بھی خیر ہوئی۔“ (گزشتہ متعدد احادیث سے وضاحت ہوتی ہے کہ خیر سے مراد ایمان ہے۔) ابن منہال نے اپنی روایت میں اضافہ کیا کہ یزید نے کہا: میں شعبہ سے ملا اور انہیں یہ حدیث سنائی تو شعبہ نے کہا: ہمیں یہ حدیث قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنائی، البتہ شعبہ نے ”ایک ذرے“ کے بجائے ”مکئی کا دانہ“ کہا۔ یزید نے کہا: اس لفظ میں ابوبسطام (شعبہ) سے تصحیف (حروف میں اشتباہ کی وجہ سے غلطی) ہو گئی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 478]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ’لا إله إلا الله‘ کہا، اور اس کے دل میں جو کے دانہ کے برابر خیر ہوگی اس کو دوزخ سے نکالا جائے گا، پھر آگ سے اس کو نکالا جائے گا، جس نے ’لا إله إلا الله‘ کہا، اور اس کے دل میں گندم کے دانہ کے برابر خیر ہوگی، پھر آگ سے وہ نکالا جائے گا، جس نے ’لا إله إلا الله‘ کہا، اور اس کے دل میں ذرہ برابر نیکی ہوگی۔“ ابن منہال رحمہ اللہ نے اپنی روایت میں یزید رحمہ اللہ سے یہ اضافہ کیا، کہ میں شعبہ رحمہ اللہ کو ملا اور اسے یہ حدیث سنائی، تو شعبہ رحمہ اللہ نے کہا، ہمیں یہی حدیث قتادہ رحمہ اللہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنائی، مگر شعبہ رحمہ اللہ نے ’ذَرَّةٌ‘ کی جگہ ’ذُرَّةٌ‘ کہا، یزید رحمہ اللہ نے کہا: اس لفظ میں ابو بسطام رحمہ اللہ (شعبہ) نے تصحیف کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 478]
ترقیم فوادعبدالباقی: 193
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((الايمان)) باب: زيادة الايمان ونقصانه برقم (44) وفي التوحيد، باب: قول الله تعالى: ﴿ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ ﴾ برقم (7410) والترمذي في ((جامعه)) في صفة جهنم، باب: ما جاء ان للنار نفسين وما ذكر من يخرج من الناس من اهل التوحيد برقم (2593) وابن ماجه في ((سننه)) في الزهد، باب: ذكر الشفاعة برقم (4312) انظر ((التحفة)) برقم (11356 و 1194 و 1272)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
44
| يخرج من النار من قال لا إله إلا الله وفي قلبه وزن شعيرة من خير ويخرج من النار من قال لا إله إلا الله وفي قلبه وزن برة من خير ويخرج من النار من قال لا إله إلا الله وفي قلبه وزن ذرة من خير |
صحيح مسلم |
478
| يخرج من النار من قال لا إله إلا الله وكان في قلبه من الخير ما يزن شعيرة يخرج من النار من قال لا إله إلا الله وكان في قلبه من الخير ما يزن برة يخرج من النار من قال لا إله إلا الله وكان في قلبه من الخير ما يزن ذرة |
جامع الترمذي |
2593
| أخرجوا من النار من قال لا إله إلا الله وكان في قلبه من الخير ما يزن شعيرة أخرجوا من النار من قال لا إله إلا الله وكان في قلبه من الخير ما يزن برة أخرجوا من النار من قال لا إله إلا الله وكان في قلبه من الخير ما يزن ذرة |
سنن ابن ماجه |
4312
| يخرج من النار من قال لا إله إلا الله وكان في قلبه مثقال شعيرة من خير ويخرج من النار من قال لا إله إلا الله وكان في قلبه مثقال برة من خير ويخرج من النار من قال لا إله إلا الله وكان في قلبه مثقال ذرة من خير |
المعجم الصغير للطبراني |
823
| أخرجوا من النار من كان فى قلبه مثقال شعيرة من إيمان ، ثم يقول : أخرجوا من النار من كان فى قلبه مثقال حبة من خردل من إيمان ، ثم يقول : وعزتي وجلالي : لا أجعل من آمن بي ساعة من ليل أو نهار كمن لا يؤمن بي |
مسندالحميدي |
1238
| فآخذ بحلقة الجنة فأقعقعها |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 478 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 478
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
:
ذَرّةٌ:
ذال پر زبر ہے،
اور (راء)
پر شد ہے۔
معنی ہے،
”سورج کی شعاعوں میں نظر آنے والا ذرہ“ یا ”چھوٹی چیونٹی“ اگر ذال پر پیش ہو اور (راء)
مخفف ہو،
جیسا کہ شعبہ کی روایت ہے،
تو معنی ہو گا،
”چنا،
جو،
جوار،
باجرہ کی طرح ایک چھوٹا سا دانہ۔
“
مفردات الحدیث:
:
ذَرّةٌ:
ذال پر زبر ہے،
اور (راء)
پر شد ہے۔
معنی ہے،
”سورج کی شعاعوں میں نظر آنے والا ذرہ“ یا ”چھوٹی چیونٹی“ اگر ذال پر پیش ہو اور (راء)
مخفف ہو،
جیسا کہ شعبہ کی روایت ہے،
تو معنی ہو گا،
”چنا،
جو،
جوار،
باجرہ کی طرح ایک چھوٹا سا دانہ۔
“
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 478]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 44
ایمان کی کمی اور زیادتی کے بیان میں
«. . . عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَفِي قَلْبِهِ وَزْنُ شَعِيرَةٍ مِنْ خَيْرٍ، وَيَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَفِي قَلْبِهِ وَزْنُ بُرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ، وَيَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَفِي قَلْبِهِ وَزْنُ ذَرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ "، قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: قَالَ أَبَانُ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْ إِيمَانٍ مَكَانَ مِنْ خَيْرٍ . . . .»
”. . . قتادہ نے انس کے واسطے سے نقل کیا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے «لا إله إلا الله» کہہ لیا اور اس کے دل میں جو برابر بھی (ایمان) ہے تو وہ (ایک نہ ایک دن) دوزخ سے ضرور نکلے گا اور دوزخ سے وہ شخص (بھی) ضرور نکلے گا جس نے کلمہ پڑھا اور اس کے دل میں گیہوں کے دانہ برابر خیر ہے اور دوزخ سے وہ (بھی) نکلے گا جس نے کلمہ پڑھا اور اس کے دل میں اک ذرہ برابر بھی خیر ہے۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) فرماتے ہیں کہ ابان نے بروایت قتادہ بواسطہ انس رضی اللہ عنہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے «خير» کی جگہ «ايمان» کا لفظ نقل کیا ہے۔ . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْإِيمَانِ/بَابُ زِيَادَةِ الإِيمَانِ وَنُقْصَانِهِ:: 44]
«. . . عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَفِي قَلْبِهِ وَزْنُ شَعِيرَةٍ مِنْ خَيْرٍ، وَيَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَفِي قَلْبِهِ وَزْنُ بُرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ، وَيَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَفِي قَلْبِهِ وَزْنُ ذَرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ "، قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: قَالَ أَبَانُ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْ إِيمَانٍ مَكَانَ مِنْ خَيْرٍ . . . .»
”. . . قتادہ نے انس کے واسطے سے نقل کیا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے «لا إله إلا الله» کہہ لیا اور اس کے دل میں جو برابر بھی (ایمان) ہے تو وہ (ایک نہ ایک دن) دوزخ سے ضرور نکلے گا اور دوزخ سے وہ شخص (بھی) ضرور نکلے گا جس نے کلمہ پڑھا اور اس کے دل میں گیہوں کے دانہ برابر خیر ہے اور دوزخ سے وہ (بھی) نکلے گا جس نے کلمہ پڑھا اور اس کے دل میں اک ذرہ برابر بھی خیر ہے۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) فرماتے ہیں کہ ابان نے بروایت قتادہ بواسطہ انس رضی اللہ عنہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے «خير» کی جگہ «ايمان» کا لفظ نقل کیا ہے۔ . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْإِيمَانِ/بَابُ زِيَادَةِ الإِيمَانِ وَنُقْصَانِهِ:: 44]
تشریح:
پہلی روایت میں لفظ «خير» سے بھی ایمان ہی مراد ہے۔
پہلی روایت میں لفظ «خير» سے بھی ایمان ہی مراد ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 44]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 44
44. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”جس نے «لَا إِلَهَ إِلَّا اللہُ» کہا اور اس کے دل میں ایک جَو کے برابر نیکی (ایمان) ہو، وہ دوزخ سے (ضرور) نکلے گا۔ اور جس نے «لَا إِلَهَ إِلَّا اللہُ» کہا اور اس کے دل میں گیہوں کے دانے کے برابر بھلائی (ایمان) ہو، وہ دوزخ سے ضرور نکلے گا۔ اور جس نے «لَا إِلَهَ إِلَّا اللہُ» کہا اور اس کے دل میں ایک ذرہ برابر نیکی (ایمان) ہو، وہ بھی دوزخ سے (ضرور) نکلے گا۔“ حضرت امام ابو عبداللہ بخاری ؓ فرماتے ہیں: ابان نے بروایت قتادہ بواسطہ حضرت انس ؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لفظ خير کی جگہ ايمان کا لفظ نقل کیا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:44]
حدیث حاشیہ:
پہلی روایت میں لفظ خیر سے بھی ایمان ہی مراد ہے۔
پہلی روایت میں لفظ خیر سے بھی ایمان ہی مراد ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 44]
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4312
شفاعت کا بیان۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن قیامت کے دن جمع ہوں گے اور ان کے دلوں میں ڈال دیا جائے گا، یا وہ سوچنے لگیں گے، (یہ شک راوی حدیث سعید کو ہوا ہے)، تو وہ کہیں گے: اگر ہم کسی کی سفارش اپنے رب کے پاس لے جاتے تو وہ ہمیں اس حالت سے راحت دے دیتا، وہ سب آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے، اور کہیں گے: آپ آدم ہیں، سارے انسانوں کے والد ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اور اپنے فرشتوں سے آپ کا سجدہ کرایا، تو آپ اپنے رب سے ہماری سفارش کر دیجئیے کہ وہ ہمیں اس جگہ سے نجات دیدے، آپ فرمائیں گے: میں اس قاب۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4312]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن قیامت کے دن جمع ہوں گے اور ان کے دلوں میں ڈال دیا جائے گا، یا وہ سوچنے لگیں گے، (یہ شک راوی حدیث سعید کو ہوا ہے)، تو وہ کہیں گے: اگر ہم کسی کی سفارش اپنے رب کے پاس لے جاتے تو وہ ہمیں اس حالت سے راحت دے دیتا، وہ سب آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے، اور کہیں گے: آپ آدم ہیں، سارے انسانوں کے والد ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اور اپنے فرشتوں سے آپ کا سجدہ کرایا، تو آپ اپنے رب سے ہماری سفارش کر دیجئیے کہ وہ ہمیں اس جگہ سے نجات دیدے، آپ فرمائیں گے: میں اس قاب۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4312]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:
(1)
قیامت کے مراحل انتہائی شدید ہون گے لہٰذا ان مراحل میں آسانی کے لیے زیادہ سے زیادہ نیکییاں کرنےکی اور برائیوں سے زیادہ سے زیادہ پرہیز کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
(2)
انبیاء کرام پر بھی قیامت کے دن خشیت الہی کی کیفیت کا غلبہ ہوگا اور انھیں اپنی معاف شدہ لغزشیں بھی بڑے گناہوں کی طرح۔
خطرناک محسوس ہوگی۔
(3)
لوگ انبیاء کرام کو انکا بلند مقام اور فضائل یاد دلا کر کوشش کریں گے کہ وہ اللہ سے انکی شفاعت کریں لیکن ہر نبی دوسرے نبی کے پاس جانے کا مشورہ دے کر خود شفاعت کرنے سے معذرت کرلے گا۔
(4)
شفاعت کبرٰی کا مقام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص ہے۔
اس لیے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا جائیگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم معذرت نہیں کریں گے۔
(5)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب مبارک میں بھی اللہ تعالی کی عظمت کا احساس پوری طرح موجود ہوگا اس لیے براہ راست اصل مقصود عرض کرنے کی بجائےپہلے سجدہ کرکے اللہ کی حمد و ثناء بیان کریں گے۔
(6)
سجدہ بندے کو اللہ کا قرب بخشنے والی عظیم عبادت ہےاور دعا کے آداب میں یہ شامل ہے۔
کہ پہلے حمد و ثناء بیان کی جائےاور درود پڑھا جائے پھر دعا کی جائے۔
(7)
رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی سے اجازت طلب کریں گے۔
پھر مقام شفاعت پہ تشریف لے جائیں گے۔
کیونکہ اللہ تعالی مالک الملک اور شہنشاہ ہے۔
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ایک مقرب بندے ہیں جو درخواست پیش کر سکتے ہیں۔
اور قبولیت کی امید رکھ سکتے ہیں لیکن اللہ کے حکم کے برعکس کچھ نہیں کر سکتے۔
(8)
رسول صلی اللہ علیہ وسلم عالم الغیب نہیں تھے اس لیے اللہ کی اس وقت جو تعریفیں کریں گے وہ اسی وقت سکھائی جائیں گی۔
پہلے سے معلوم نہیں ہوگی۔
(9)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اللہ کی اجازت کے بغیر شفاعت نہیں فرمائیں گے اور جو شفاعت ملے گی وہ بھی لامحدود نہیں ہوگی۔
(10)
سب لوگوں کے ایمان برابر نہیں ہوتے بلکہ کم و بیش ہوتا ہے۔
اسی طرح ایک شخص کے ایمان میں بھی اس کے اعمال کی وجہ سے کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔
جنھیں قرآن نے روک دیا وہ نبی پہ ایمان نہ لانے والے اور شرک اکبر کے مرتکب اعتقادی اور منافق ہے۔
جن پہ جنت حرام ہے۔
ان کے حق میں کسی کو سفارش کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔
فوائد ومسائل:
(1)
قیامت کے مراحل انتہائی شدید ہون گے لہٰذا ان مراحل میں آسانی کے لیے زیادہ سے زیادہ نیکییاں کرنےکی اور برائیوں سے زیادہ سے زیادہ پرہیز کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
(2)
انبیاء کرام پر بھی قیامت کے دن خشیت الہی کی کیفیت کا غلبہ ہوگا اور انھیں اپنی معاف شدہ لغزشیں بھی بڑے گناہوں کی طرح۔
خطرناک محسوس ہوگی۔
(3)
لوگ انبیاء کرام کو انکا بلند مقام اور فضائل یاد دلا کر کوشش کریں گے کہ وہ اللہ سے انکی شفاعت کریں لیکن ہر نبی دوسرے نبی کے پاس جانے کا مشورہ دے کر خود شفاعت کرنے سے معذرت کرلے گا۔
(4)
شفاعت کبرٰی کا مقام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص ہے۔
اس لیے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا جائیگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم معذرت نہیں کریں گے۔
(5)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب مبارک میں بھی اللہ تعالی کی عظمت کا احساس پوری طرح موجود ہوگا اس لیے براہ راست اصل مقصود عرض کرنے کی بجائےپہلے سجدہ کرکے اللہ کی حمد و ثناء بیان کریں گے۔
(6)
سجدہ بندے کو اللہ کا قرب بخشنے والی عظیم عبادت ہےاور دعا کے آداب میں یہ شامل ہے۔
کہ پہلے حمد و ثناء بیان کی جائےاور درود پڑھا جائے پھر دعا کی جائے۔
(7)
رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی سے اجازت طلب کریں گے۔
پھر مقام شفاعت پہ تشریف لے جائیں گے۔
کیونکہ اللہ تعالی مالک الملک اور شہنشاہ ہے۔
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ایک مقرب بندے ہیں جو درخواست پیش کر سکتے ہیں۔
اور قبولیت کی امید رکھ سکتے ہیں لیکن اللہ کے حکم کے برعکس کچھ نہیں کر سکتے۔
(8)
رسول صلی اللہ علیہ وسلم عالم الغیب نہیں تھے اس لیے اللہ کی اس وقت جو تعریفیں کریں گے وہ اسی وقت سکھائی جائیں گی۔
پہلے سے معلوم نہیں ہوگی۔
(9)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اللہ کی اجازت کے بغیر شفاعت نہیں فرمائیں گے اور جو شفاعت ملے گی وہ بھی لامحدود نہیں ہوگی۔
(10)
سب لوگوں کے ایمان برابر نہیں ہوتے بلکہ کم و بیش ہوتا ہے۔
اسی طرح ایک شخص کے ایمان میں بھی اس کے اعمال کی وجہ سے کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔
جنھیں قرآن نے روک دیا وہ نبی پہ ایمان نہ لانے والے اور شرک اکبر کے مرتکب اعتقادی اور منافق ہے۔
جن پہ جنت حرام ہے۔
ان کے حق میں کسی کو سفارش کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4312]
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:1238
1238- سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے شفاعت کا تذکرہ کیا گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں جنت کی کنڈی پکڑا کر اسے کھٹکھٹاؤں گا۔“ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1238]
فائدہ:
اس حدیث سے جنت کے دروازے کا حلقہ ثابت ہوتا ہے، اس حدیث سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا روز قیامت سفارش کرنا بھی ثابت ہوتا ہے۔
اس حدیث سے جنت کے دروازے کا حلقہ ثابت ہوتا ہے، اس حدیث سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا روز قیامت سفارش کرنا بھی ثابت ہوتا ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1236]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:44
44. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”جس نے «لَا إِلَهَ إِلَّا اللہُ» کہا اور اس کے دل میں ایک جَو کے برابر نیکی (ایمان) ہو، وہ دوزخ سے (ضرور) نکلے گا۔ اور جس نے «لَا إِلَهَ إِلَّا اللہُ» کہا اور اس کے دل میں گیہوں کے دانے کے برابر بھلائی (ایمان) ہو، وہ دوزخ سے ضرور نکلے گا۔ اور جس نے «لَا إِلَهَ إِلَّا اللہُ» کہا اور اس کے دل میں ایک ذرہ برابر نیکی (ایمان) ہو، وہ بھی دوزخ سے (ضرور) نکلے گا۔“ حضرت امام ابو عبداللہ بخاری ؓ فرماتے ہیں: ابان نے بروایت قتادہ بواسطہ حضرت انس ؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لفظ خير کی جگہ ايمان کا لفظ نقل کیا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:44]
حدیث حاشیہ:
1۔
عنوان، ایمان کی کمی بیشی کے متعلق تھا لیکن حدیث میں خیر کی کمی بیشی کا ثبوت ہے اور یہ ایک عمل ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ کمی بیشی نفس ایمان کی نہیں بلکہ شرائع واحکام کی ہے، لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے حدیث کے آخر میں ایک متابعت سے ثابت فرمایا کہ خیر سے مراد ایمان ہے، گویا متابعت کا ایک فائدہ تعیین مراد ہے۔
اس کے دو فائدے اور بھی ہیں:
ایک یہ کہ قتادہ مدلس ہیں۔
اگرسماع کی تصریح نہ ہو تو اس کی روایت قبول نہیں ہوتی۔
امام صاحب نے متابعت سے تحدیث (حَدَّثَنَا)
کی تصریح کردی۔
گویا دوسرا فائدہ تصریح سماع کا ہوا۔
اورایک فائدہ یہ بھی ہے کہ ابان اورہشام اگرچہ دونوں ثقہ ہیں لیکن ہشام کا درجہ، ثقاہت کے لحاظ سے ابان سے بہت اونچا ہے اس لیے امام صاحب نے ہشام کی روایت کو اصل قراردیا اور اس کی خامی کو متابعت ذکر کر کے دور کر دیا، یعنی تیسرا فائدہ تقویت روایت ہے۔
2۔
سورج کی شعاعوں میں سوئی کی نوک کے برابر بے شمار ذرے اڑتے نظر آتے ہیں، چارذرے ایک رائی کے دانے کے برابر ہوتے ہیں اور سو ذرات ایک جو کے دانے کے برابر وزن رکھتے ہیں۔
حدیث کا یہ اسلوب ایمان کی کمی بیشی پر روز روشن کی طرح واضح ہے، نیز اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بعض بدعمل موحدین جہنم میں داخل ہوں گے، پھر اپنی سزا پانے کے بعد انھیں وہاں سے نکال لیا جائے گا۔
اس میں خوارج کے مسلک کے برعکس اس بات کا اثبات ہے کہ کبیرہ گناہوں کا مرتکب کافر نہیں ہوتا اور نہ وہ ہمیشہ کے لیے جہنم ہی میں رہے گا۔
اس سے یہ معلوم ہوا کہ ایمان کے لیے صرف معرفت ناکافی ہے بلکہ زبان سے اقرار اوروہ بھی دلی یقین کے ساتھ ہونا ضروری ہے۔
(شرح الکرماني: 176/1)
1۔
عنوان، ایمان کی کمی بیشی کے متعلق تھا لیکن حدیث میں خیر کی کمی بیشی کا ثبوت ہے اور یہ ایک عمل ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ کمی بیشی نفس ایمان کی نہیں بلکہ شرائع واحکام کی ہے، لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے حدیث کے آخر میں ایک متابعت سے ثابت فرمایا کہ خیر سے مراد ایمان ہے، گویا متابعت کا ایک فائدہ تعیین مراد ہے۔
اس کے دو فائدے اور بھی ہیں:
ایک یہ کہ قتادہ مدلس ہیں۔
اگرسماع کی تصریح نہ ہو تو اس کی روایت قبول نہیں ہوتی۔
امام صاحب نے متابعت سے تحدیث (حَدَّثَنَا)
کی تصریح کردی۔
گویا دوسرا فائدہ تصریح سماع کا ہوا۔
اورایک فائدہ یہ بھی ہے کہ ابان اورہشام اگرچہ دونوں ثقہ ہیں لیکن ہشام کا درجہ، ثقاہت کے لحاظ سے ابان سے بہت اونچا ہے اس لیے امام صاحب نے ہشام کی روایت کو اصل قراردیا اور اس کی خامی کو متابعت ذکر کر کے دور کر دیا، یعنی تیسرا فائدہ تقویت روایت ہے۔
2۔
سورج کی شعاعوں میں سوئی کی نوک کے برابر بے شمار ذرے اڑتے نظر آتے ہیں، چارذرے ایک رائی کے دانے کے برابر ہوتے ہیں اور سو ذرات ایک جو کے دانے کے برابر وزن رکھتے ہیں۔
حدیث کا یہ اسلوب ایمان کی کمی بیشی پر روز روشن کی طرح واضح ہے، نیز اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بعض بدعمل موحدین جہنم میں داخل ہوں گے، پھر اپنی سزا پانے کے بعد انھیں وہاں سے نکال لیا جائے گا۔
اس میں خوارج کے مسلک کے برعکس اس بات کا اثبات ہے کہ کبیرہ گناہوں کا مرتکب کافر نہیں ہوتا اور نہ وہ ہمیشہ کے لیے جہنم ہی میں رہے گا۔
اس سے یہ معلوم ہوا کہ ایمان کے لیے صرف معرفت ناکافی ہے بلکہ زبان سے اقرار اوروہ بھی دلی یقین کے ساتھ ہونا ضروری ہے۔
(شرح الکرماني: 176/1)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 44]
قتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري