صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
16. باب وجوب الإنكار على الامراء فيما يخالف الشرع وترك قتالهم ما صلوا ونحو ذلك:
باب: اگر امیر شرع کے خلاف کوئی کام کرے تو اس کو برا جاننا چاہیئے۔
ترقیم عبدالباقی: 1854 ترقیم شاملہ: -- 4801
وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ جميعا، عَنْ مُعَاذٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي غَسَّانَ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ الْعَنَزِيِّ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّهُ يُسْتَعْمَلُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ فَتَعْرِفُونَ وَتُنْكِرُونَ، فَمَنْ كَرِهَ فَقَدْ بَرِئَ، وَمَنْ أَنْكَرَ فَقَدْ سَلِمَ، وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نُقَاتِلُهُمْ، قَالَ: لَا مَا صَلَّوْا، أَيْ مَنْ كَرِهَ بِقَلْبِهِ وَأَنْكَرَ بِقَلْبِهِ "،
ہشام دستوائی نے قتادہ سے روایت کی، کہا: ہمیں حسن نے ضبہ بن محصن عنزی سے حدیث بیان کی، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ محترمہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”تم پر ایسے امیر لگائے جائیں گے جن میں تم اچھائیاں بھی دیکھو گے اور برائیاں بھی، جس نے (برے کاموں کو) ناپسند کیا، وہ بری ہو گیا، جس نے انکار کیا وہ بچ گیا، مگر جس نے پسند کیا اور پیچھے لگا (وہ بری ہوا نہ بچ سکا۔)“ صحابہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا ہم ان سے لڑائی نہ کریں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، جب تک وہ نماز پڑھتے رہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد تھا جس نے دل سے ناپسند کیا اور دل سے برا جانا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4801]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واقعہ یہ ہے، تم پر ایسے حکمران مقرر کیے جائیں گے، ان کی کچھ باتوں کو تم اچھا سمجھو گے اور کچھ کو برا خیال کرو گے، تو جس نے ان کی بری باتوں کو ناپسند سمجھا تو وہ (مؤاخذہ سے) بری ہو گیا اور جس نے ان کو ماننے سے انکار کر دیا، وہ (گناہ سے) سلامت رہا، لیکن جو ان پر راضی ہو گیا اور ان کو مانا (وہ بری اور سلامت نہ رہا)“ صحابہ کرام نے پوچھا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم ان سے جنگ نہ لڑیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، جب تک وہ نماز پڑھتے رہیں۔“ برا جاننے سے مراد دل سے برا جاننا ہے اور انکار سے مراد دل سے انکار ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4801]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1854
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أم سلمة زوج النبي، أم سلمة | صحابية | |
👤←👥ضبة بن محصن العنزي ضبة بن محصن العنزي ← أم سلمة زوج النبي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد الحسن البصري ← ضبة بن محصن العنزي | ثقة يرسل كثيرا ويدلس | |
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب قتادة بن دعامة السدوسي ← الحسن البصري | ثقة ثبت مشهور بالتدليس | |
👤←👥هشام بن أبي عبد الله الدستوائي، أبو بكر هشام بن أبي عبد الله الدستوائي ← قتادة بن دعامة السدوسي | ثقة ثبت وقد رمي بالقدر | |
👤←👥معاذ بن هشام الدستوائي، أبو عبد الله معاذ بن هشام الدستوائي ← هشام بن أبي عبد الله الدستوائي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر محمد بن بشار العبدي ← معاذ بن هشام الدستوائي | ثقة حافظ | |
👤←👥مالك بن عبد الواحد المسمعي، أبو غسان مالك بن عبد الواحد المسمعي ← محمد بن بشار العبدي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
4800
| ستكون أمراء فتعرفون وتنكرون فمن عرف برئ ومن أنكر سلم ولكن من رضي وتابع قالوا أفلا نقاتلهم قال لا ما صلوا |
صحيح مسلم |
4801
| يستعمل عليكم أمراء فتعرفون وتنكرون فمن كره فقد برئ ومن أنكر فقد سلم ولكن من رضي وتابع قالوا يا رسول الله ألا نقاتلهم قال لا ما صلوا أي من كره بقلبه وأنكر بقلبه |
جامع الترمذي |
2265
| سيكون عليكم أئمة تعرفون وتنكرون فمن أنكر فقد بريء ومن كره فقد سلم ولكن من رضي وتابع فقيل يا رسول الله أفلا نقاتلهم قال لا ما صلوا |
سنن أبي داود |
4760
| ستكون عليكم أئمة تعرفون منهم وتنكرون فمن أنكر بلسانه فقد برئ ومن كره بقلبه فقد سلم ولكن من رضي وتابع فقيل يا رسول الله أفلا نقتلهم قال لا ما صلوا |
ضبة بن محصن العنزي ← أم سلمة زوج النبي