🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب تحريم اكل لحم الحمر الإنسية:
باب: بستی کے گدھوں کا گوشت حرام ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1940 ترقیم شاملہ: -- 5021
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ جَاءَ جَاءٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُكِلَتِ الْحُمُرُ، ثُمَّ جَاءَ آخَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُفْنِيَتِ الْحُمُرُ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا طَلْحَةَ، فَنَادَى " إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ، فَإِنَّهَا رِجْسٌ أَوْ نَجِسٌ، قَالَ: فَأُكْفِئَتِ الْقُدُورُ بِمَا فِيهَا ".
ہشام بن حسان نے محمد بن سیرین سے انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: جس دن خیبر کی جنگ ہوئی ایک آنے والا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: اللہ کے رسول! گدھے کھا لیے گئے، پھر ایک دوسرا شخص آیا اور کہا: اللہ کے رسول! گدھے ختم کر دیے گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا اور انہوں نے اعلان کیا کہ اللہ اور اس کا رسول تم کو پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ پلید ہیں یا (فرمایا) ناپاک ہیں۔ کہا: پھر ہانڈیاں اس سب کچھ سمیت جو ان میں تھا الٹ دی گئیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5021]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب خیبر فتح ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آنے والا آیا اور کہنے لگا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! گدھے (سب) کھا لیے گئے، پھر دوسرا آ کر کہنے لگا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! گدھے ختم کر ڈالے گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اعلان کیا: اللہ اور اس کا رسول تمہیں گدھوں کے گوشت سے روکتے ہیں، کیونکہ وہ گندے یا پلید ہیں، تو ہانڈیوں کو جو کچھ ان میں تھا، اس سمیت الٹ دیا گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5021]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1940
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر
Newمحمد بن سيرين الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى
👤←👥هشام بن حسان الأزدي، أبو عبد الله
Newهشام بن حسان الأزدي ← محمد بن سيرين الأنصاري
ثقة حافظ
👤←👥يزيد بن زريع العيشي، أبو معاوية
Newيزيد بن زريع العيشي ← هشام بن حسان الأزدي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن المنهال الضرير، أبو عبد الله، أبو جعفر
Newمحمد بن المنهال الضرير ← يزيد بن زريع العيشي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4198
الله ورسوله ينهيانكم عن لحوم الحمر فإنها رجس
صحيح البخاري
4199
أكفئت القدور وإنها لتفور باللحم
صحيح البخاري
5528
أكفئت القدور وإنها لتفور باللحم
صحيح مسلم
5021
أكفئت القدور بما فيها
صحيح مسلم
5020
ينهيانكم عنها فإنها رجس من عمل الشيطان أكفئت القدور بما فيها وإنها لتفور بما فيها
سنن النسائى الصغرى
69
ينهاكم عن لحوم الحمر فإنها رجس
سنن النسائى الصغرى
4345
الله ورسوله ينهاكم عن لحوم الحمر فإنها رجس
سنن ابن ماجه
3196
الله ورسوله ينهيانكم عن لحوم الحمر الأهلية فإنها رجس
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5021 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5021
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی حضرت ابوطلحہ تھے،
بعض روایات سے ثابت ہوا،
حضرت بلال اور عبدالرحمٰن بن عوف نے بھی اعلان کیا تھا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5021]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 69
گدھے کے جوٹھے کا بیان۔
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منادی آیا اور اس نے کہا: اللہ اور اس کے رسول تم لوگوں کو گدھوں کے گوشت سے منع فرماتے ہیں، کیونکہ وہ ناپاک ہیں ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 69]
69۔ اردو حاشیہ:
➊ یہ جنگ خیبر کی بات ہے جب مسلمانوں نے نبیٔ اکرام صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت کے بغیر اور غنیمت تقسیم ہونے سے پہلے گدھے پکڑ کر ذبح کر لیے تھے بلکہ ان کا گوشت پکانا شروع کر دیا تھا۔
➋ امام نسائی رحمہ اللہ نے شاید اس روایت کے الفاظ «إِنَّهَا رِجْسٌ» سے گدھے کے جوٹھے کے پلید ہونے پر استدلال کیا ہے، مگر جو اس کے جوٹھے کی طہارت کے قائل ہیں، ان کا کہنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اکثر گدھے کو بطور سواری استعمال کیا ہے، ظاہر ہے اس کا لعاب اور پسینہ وغیرہ کپڑوں کو لگتا ہو گا اور آپ نے کبھی بھی گدھے کے لعاب سے پرہیز کا حکم نہیں دیا اور یہی بات امت کے حق میں زیادہ بہتر ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ امت سے تنگی کو دور کرنے ہی کی کوشش کی ہے اور یسروا ولاتعسروا کی تلقین کرتے رہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 69]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4345
پالتو گدھوں کا گوشت کھانے کی حرمت کا بیان۔
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت خیبر پہنچے اور وہ سب (خیبر والے) ہماری طرف نکلے تھے، ان کے ساتھ کدال (بیلچے) تھے، جب انہوں نے ہمیں دیکھا تو کہا: محمد اور فوج، اور جلدی جلدی واپس قلعے میں چلے گئے، یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے، پھر فرمایا: «‏اللہ أكبر اللہ أكبر» ، خیبر کا برا ہوا، جب ہم کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں تو ان لوگوں کی صبح بہت بری ہوتی ہے جنہیں تنبیہ کی جا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4345]
اردو حاشہ:
(1) شور مچا دیا کیونکہ انھوں نے مدینہ منورہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو دیکھا ہوا تھا۔
(2) ہاتھ اٹھائے ممکن ہے نعرہ تکبیر (اللہ اکبر) لگانے کے لیے ہاتھ اٹھائے ہوں، جیسے نماز کے شروع میں اٹھائے جاتے ہیں یا اس سے اوپر۔
(3) خیبر تباہ ہوگیا یا خیبر تباہ ہو جائے دونوں معانی ہو سکتے ہیں بطور فال فرما دیا یا بطور پیش گوئی یا یہ دعا ہے کہ خیبر تباہ ہو جائے۔
(4) وہ پلید ہیں مطلب یہ کہ گدھوں کا گوشت حرام ہے۔ ویسے ان پر سواری کرنا جائز ہے، البتہ گدھے کے پسینے، لعاب اور جوٹھے وغیرہ کی بابت حدیث میں کسی قسم کی کوئی کراہت نہیں ملتی۔ ظن غالب یہی ہے کہ یہ چیزیں پلید نہیں مزید برآں یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بکثرت گدھے اور خچر پر سواری کی ہے۔ اگر ان کا پسینہ، لعاب اور جھوٹا وغیرہ پلید ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور اس کی وضاحت فرماتے۔ واللہ أعلم۔ اس مسئلے کی مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (سنن النسائي، مترجم: 1/ 319، 320، مطبوعه دارالسلام)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4345]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4198
4198. حضرت نس ؓ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نے صبح کے وقت خیبر پر حملہ کیا۔ اس وقت یہودی اپنے کلہاڑے اور ٹوکریاں لیے باہر نکل رہے تھے۔ جب انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو کہنے لگے: (حضرت) محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آ گئے ہیں اللہ کی قسم! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) لشکر لے کر حملہ آور ہوئے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی ذات سب سے بلند و برتر ہے۔ خیبر تباہ و برباد ہو گیا۔ جب ہم کسی قوم کے میدان میں اتر پڑیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بہت بری ہوتی ہے۔ ہمیں وہاں گدھوں کا گوشت ملا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ایک اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ اللہ اور اس کے رسول تمہیں گدھوں کے گوشت سے منع کرتے ہیں کیونکہ یہ پلید اور نجس ہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4198]
حدیث حاشیہ:
ابھی اس سے پہلے کی روایت میں ہے کہ رات کے وقت اسلامی لشکر خیبر پہنچا تھا ممکن ہے رات کے وقت ہی لشکر وہاں پہنچا ہو لیکن رات موقع سے کچھ فاصلے پر گزاری ہو پھر جب صبح ہوئی تو لشکر میدان میں آیا ہو اور اس روایت میں صبح کے وقت پہنچنے کا ذکر غالباً اسی وجہ سے ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4198]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4198
4198. حضرت نس ؓ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نے صبح کے وقت خیبر پر حملہ کیا۔ اس وقت یہودی اپنے کلہاڑے اور ٹوکریاں لیے باہر نکل رہے تھے۔ جب انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو کہنے لگے: (حضرت) محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آ گئے ہیں اللہ کی قسم! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) لشکر لے کر حملہ آور ہوئے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی ذات سب سے بلند و برتر ہے۔ خیبر تباہ و برباد ہو گیا۔ جب ہم کسی قوم کے میدان میں اتر پڑیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بہت بری ہوتی ہے۔ ہمیں وہاں گدھوں کا گوشت ملا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ایک اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ اللہ اور اس کے رسول تمہیں گدھوں کے گوشت سے منع کرتے ہیں کیونکہ یہ پلید اور نجس ہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4198]
حدیث حاشیہ:

پہلی حدیث میں تھا کہ اسلامی لشکر رات کے وقت خیبر پہنچا تھا جبکہ اس روایت میں ہے کہ مسلمان صبح کے وقت وہاں پہنچے تھے، ممکن ہے کہ رات کے وقت لشکر وہاں پہنچ گیا ہو لیکن رات کچھ فاصلے پر گزاری ہو۔
پھر جب صبح ہوئی تو اسلامی لشکر میدان میں اُتر ایا۔

صرف محمد بن سیرین ؒ کی روایت میں گدھوں کے گوشت کا ذ کر ہے، اس کی وضاحت ہم آئندہ کریں گے۔
(فتح الباري: 585/7)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہودیوں کو بھاگتے ہوئے دیکھا تو اس سے آپ نے خیبرکی تباہی کومعلوم کیا۔
ممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درج ذیل آیت کریمہ سے خیبر کی تباہی کو اخذ کیا ہو:
جب عذاب ان کے صحن میں اترے گا توڈرائے جانے والوں کی صبح بہت بُری ہوگی۔
(الصّٰفّٰت: 177: 37)
چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کے مضمون کو اپنے الفاظ میں بیان فرمایا جیسا کہ حدیث میں اس کی صراحت ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4198]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4199
4199. حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک آنے والے نے آ کر کہا: گدھوں کا گوشت کھایا جا رہ ہے۔ اس پر آپ نے خاموشی اختیار کی۔ پھر وہ دوبارہ آیا اور کہا: گدھوں کا گوشت کھایا جا رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مرتبہ بھی خاموش رہے۔ پھر وہ تیسری مرتبہ حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا کہ گدھے ختم ہو رہے ہیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منادی کے ذریعے سے اعلان کرایا: اللہ اور اس کے رسول تمہیں پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کرتے ہیں، چنانچہ اس (اعلان) کے بعد تمام ہانڈیاں الٹ دی گئیں، حالانکہ ان میں گوشت پک رہا تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4199]
حدیث حاشیہ:
حضرت ابن عمر ؓ سے بھی خیبر کے دن گدھوں کے گوشت کی حرمت مروی ہے۔
(صحیح البخاري، الذبائح والصید، حدیث: 5521)
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح متعہ اور گدھوں کا گوشت حرام قراردیا۔
(صحیح البخاري، الذبائح والصید، حدیث: 5523)
حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ؓ نے گدھوں کا گوشت حرام قراردیا اور گھوڑوں کے گوشت کی اجازت دی۔
(صحیح البخاري، الذبائح والصید، حدیث: 5524)
عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن زید ؓ سے کہا:
لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گدھوں کے گوشت سے منع فرمایاتھا؟ انھوں نے کہا کہ ہمارے ہاں بصرے میں حکم بن عمرو غفاری بھی یہی کہتے ہیں لیکن علم کے سمندر حضرت ابن عباس ؓ اس بات کو تسلیم نہیں کرتے اور وہ یہ آیت پڑھتے ہیں:
کہہ دیجئے!جو وحی میری طرف آئی ہے، اس میں کوئی ایسی چیز نہیں پاتا جو کھانے والے پر حرام کی گئی ہو۔
(الأنعام 145: 6۔
وصحیح البخاري، الذبائح والصید، حدیث: 5529)
اس مسئلے کی مزید وضاحت کتاب الذبائح میں بیان ہوگی۔
باذن اللہ تعالیٰ۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4199]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5528
5528. سیدنا انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی شخص آیا اور کہا کہ گدھے کھائے گئے ہیں پھر دوسرا شخص آیا اور اس نے بھی کہا کہ گدھے کھائے جا رہے ہیں۔ اتنے میں تیسرا آدمی آیا اور عرض کرنے لگا کہ گدھے تو ختم ہو گئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منادی کے ذریعے لوگوں میں اعلان کر دیا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول تمہیں پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کرتے ہیں کیونکہ یہ پلید ہیں۔ یہ اعلان سن کر ہانڈیاں الٹ دی گئیں جبکہ وہ گوشت سے جوش مار رہی تھیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5528]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس روایت میں ممکن ہے کہ تین شخص علیحدہ علیحدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ہوں یا ایک شخص بار بار حاضر خدمت ہوا ہو۔
جب پہلی مرتبہ کہا گیا کہ گدھے کھائے گئے ہیں تو آپ نے ادھر کوئی التفات نہ فرمایا تو دوسری دفعہ آپ سے گزارش کی گئی، بالآخر جب تیسری مرتبہ کہا گیا کہ گدھے تو ختم ہو گئے ہیں تو آپ نے گدھوں کے گوشت کی حرمت کا اعلان کر دیا۔
شاید پہلی یا دوسری مرتبہ کہتے وقت اس کی تحریم نازل نہ ہوئی ہو، اس لیے آپ خاموش رہے۔
آخر کار تیسری مرتبہ جب گزارش کی گئی تو اس کی تحریم بھی نازل ہو چکی تھی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق اعلان کرا دیا۔
(2)
صحیح مسلم میں ہے کہ اعلان کرنے والے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ تھے۔
(صحیح مسلم، الصید والذبائح، حدیث: 5021 (1940)
سنن نسائی میں ہے کہ اعلان کرنے والے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ تھے۔
(سنن النسائی، الصید والذبائح، حدیث: 4346)
شاید پہلے حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے اعلان کیا، پھر تفصیل کے ساتھ حضرت ابو طلحہ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو اس کی حرمت سے آگاہ کیا ہو اور بتایا ہو کہ یہ نجس اور پلید ہیں۔
(فتح الباري: 810/9)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5528]

Sahih Muslim Hadith 5021 in Urdu