صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
6. باب النهي عن الانتباذ في المزفت والدباء والحنتم والنقير وبيان انه منسوخ وانه اليوم حلال ما لم يصر مسكرا:
باب: مرتبان اور تونبے اور سبز لاکھی برتن اور لکڑی کے برتن میں نبیذ بنانے کی ممانعت اور اس کی منسوخی کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1995 ترقیم شاملہ: -- 5172
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ كلاهما، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: قُلْتُ لِلْأَسْوَدِ : هَلْ سَأَلْتَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَمَّا يُكْرَهُ أَنْ يُنْتَبَذَ فِيهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ : أَخْبِرِينِي عَمَّا نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنْتَبَذَ فِيهِ، قَالَتْ: " نَهَانَا أَهْلَ الْبَيْتِ أَنْ نَنْتَبِذَ فِي الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ "، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: أَمَا ذَكَرَتِ الْحَنْتَمَ وَالْجَرَّ، قَالَ: إِنَّمَا أُحَدِّثُكَ بِمَا سَمِعْتُ أَأُحَدِّثُكَ مَا لَمْ أَسْمَعْ؟.
منصور نے ابراہیم سے روایت کی، کہا: میں نے اسود سے کہا: کیا تم نے ام المؤمنین (عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا) سے ان برتنوں کے بارے میں پوچھا تھا جن میں نبیذ بنانا مکروہ ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں نے عرض کی تھی: ام المؤمنین! مجھے بتائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کن برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا تھا؟ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) فرمایا: آپ نے ہم اہل بیت کو کدو کے بنے ہوئے اور روغن زفت ملے ہوئے برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا تھا۔ (ابراہیم نے) کہا: میں نے (اسود سے) پوچھا: انہوں نے حنتم اور گھڑوں کا ذکر نہیں کیا؟ انہوں نے کہا: میں تم کو وہی حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے سنی ہے۔ کیا میں تمہیں وہ بات بیان کروں جو میں نے نہیں سنی؟ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5172]
ابراہیم کہتے ہیں، میں نے اسود سے پوچھا، کیا آپ نے ام المؤمنین (عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا) سے سوال کیا تھا، کن چیزوں میں نبیذ بنانا ناپسندیدہ ہے؟ اس نے کہا، ہاں، میں نے کہا، اے ام المؤمنین مجھے بتائیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کب برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا، انہوں نے جواب دیا، آپ نے ہمیں اہل البیت کو تونبے اور لاکھی برتن میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا، ابراہیم کہتے ہیں، میں نے اسود سے پوچھا، کیا انہوں نے (عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے) سبز مٹکے اور عام مٹکے کا ذکر نہیں کیا، انہوں نے جواب دیا، میں تمہیں بس وہی سنا رہا ہوں جو میں نے سنا ہے، یا جو میں نے نہیں سنا، وہ بھی سناؤں؟ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5172]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1995
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
5595
| نهى النبي عن أن ننتبذ في الدباء والمزفت قلت أما ذكرت الجر والحنتم قال إنما أحدثك ما سمعت أفأحدث ما لم أسمع |
صحيح مسلم |
5176
| نهى رسول الله عن الدباء والحنتم والنقير والمزفت |
صحيح مسلم |
5171
| نهى النبي عن أن ننتبذ في الدباء والمزفت قال قلت له أما ذكرت الحنتم والجر قال إنما أحدثك بما سمعت أؤحدثك ما لم أسمع |
صحيح مسلم |
5175
| نهى النبي عن أن ينتبذوا في الدباء والنقير والمزفت والحنتم |
صحيح مسلم |
5172
| نهى رسول الله عن الدباء والمزفت |
سنن النسائى الصغرى |
5643
| نهى عن نبيذ النقير والمقير والدباء والحنتم |
سنن النسائى الصغرى |
5643
| نهى عن الدباء بذاته |
سنن النسائى الصغرى |
5641
| ينبذوا في الدباء والنقير والمقير والحنتم |
سنن النسائى الصغرى |
5639
| ينهى عن شراب صنع في دباء أو حنتم أو مزفت لا يكون زيتا أو خلا |
سنن النسائى الصغرى |
5593
| لا تنبذوا في الدباء ولا المزفت ولا النقير كل مسكر حرام |
سنن النسائى الصغرى |
5630
| نهى النبي عن الدباء والمزفت |
سنن ابن ماجه |
3407
| نهى النبي عن أن ينبذ في الجر وفي كذا وفي كذا إلا الخل |
الأسود بن يزيد النخعي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق