صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
34. باب المؤمن ياكل في معى واحد والكافر ياكل في سبعة امعاء:
باب: مؤمن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2060 ترقیم شاملہ: -- 5373
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ كِلَاهُمَا، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
ابواسامہ اور ابن نمیر نے عبید اللہ سے، معمر نے ایوب سے (عبید اللہ اور ایوب) دونوں نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5373]
امام صاحب یہی روایت اپنے چار اور اساتذہ کی سندوں سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5373]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2060
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5373 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5373
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
معي کی،
جمع امعاء ہے،
انتڑی،
آنت۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مومن آدمی کو کافر کی طرح کھانا پینا ہی مقصد زندگی نہیں سمجھنا چاہیے،
کافر چونکہ زندگی برائے خوردن سمجھتا ہے،
اس لیے خوب پیٹ بھر کر کھاتا ہے،
جیسا کہ قرآن مجید میں ہے ﴿وَالَّذِينَ كَفَرُوا يَتَمَتَّعُونَ وَيَأْكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ الْأَنْعَامُ﴾ (سورہ محمد)
اور مومن زندگی برائے بندگی سمجھتا ہے،
اس لیے اس کو خوب پیٹ بھر کر نہیں کھانا چاہیے،
نیز مومن قناعت پسند ہوتا ہے اور کافر حریص و لالچی،
اس لیے دونوں کے کھانے میں بہت تفاوت ہے،
سات کا عدد محض کثرت اور مبالغہ کے لیے ہے،
حقیقتا سات کا عدد مراد نہیں ہے اور اس میں کم کھانے کی ترغیب دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ مومن کو کم خور ہونا چاہیے،
بسیار خوری کافروں کا کام ہے،
اس لیے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ایسے آدمی کو کھانے میں شریک کرنے سے منع کر دیا تھا،
جو کافروں کی طرح بسیار خور تھا،
اس حدیث کا یہ مقصد نہیں ہے کہ ہر مومن کم کھاتا ہے اور ہر کافر زیادہ کھاتا ہے۔
مفردات الحدیث:
معي کی،
جمع امعاء ہے،
انتڑی،
آنت۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مومن آدمی کو کافر کی طرح کھانا پینا ہی مقصد زندگی نہیں سمجھنا چاہیے،
کافر چونکہ زندگی برائے خوردن سمجھتا ہے،
اس لیے خوب پیٹ بھر کر کھاتا ہے،
جیسا کہ قرآن مجید میں ہے ﴿وَالَّذِينَ كَفَرُوا يَتَمَتَّعُونَ وَيَأْكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ الْأَنْعَامُ﴾ (سورہ محمد)
اور مومن زندگی برائے بندگی سمجھتا ہے،
اس لیے اس کو خوب پیٹ بھر کر نہیں کھانا چاہیے،
نیز مومن قناعت پسند ہوتا ہے اور کافر حریص و لالچی،
اس لیے دونوں کے کھانے میں بہت تفاوت ہے،
سات کا عدد محض کثرت اور مبالغہ کے لیے ہے،
حقیقتا سات کا عدد مراد نہیں ہے اور اس میں کم کھانے کی ترغیب دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ مومن کو کم خور ہونا چاہیے،
بسیار خوری کافروں کا کام ہے،
اس لیے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ایسے آدمی کو کھانے میں شریک کرنے سے منع کر دیا تھا،
جو کافروں کی طرح بسیار خور تھا،
اس حدیث کا یہ مقصد نہیں ہے کہ ہر مومن کم کھاتا ہے اور ہر کافر زیادہ کھاتا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5373]
Sahih Muslim Hadith 5373 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي